உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    2017میں مسلم شخص کو زندہ جلانے والے کو پہنایا گیا تھا ہار اور اب۔۔۔اُدئے پور قتل پر Swara Bhaskerکا ردعمل

    سوارا بھاسکر نے اُدئے پور درزی قتل پر دیا بڑا بیان۔

    سوارا بھاسکر نے اُدئے پور درزی قتل پر دیا بڑا بیان۔

    Swara Bhasker On Udaipur Murder: سورا بھاسکر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کے ردعمل آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک ٹوئٹر یوزر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ ایک جرم کا موازنہ دوسرے جرم سے کررہی ہیں۔ جس سے آپ جرم کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرنا چاہ رہی ہیں۔

    • Share this:
      Swara Bhasker On Udaipur Murder:چند روز قبل راجستھان کے ادے پور میں ایک درزی کا گلا کاٹ کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ ادے پور کے اس قتل کیس کو لے کر سوشل میڈیا پر کافی ہنگامہ ہوا ہے۔ یہی نہیں اس معاملے پر فلمی شخصیات کے ردعمل کا سلسلہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ادھر بالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی حال ہی میں ادے پور قتل کیس پر اپنی رائے دی ہے۔

      سوارا بھاسکر نے دیا بڑا بیان
      دراصل، بہت سے لوگ ادے پور قتل عام کے دونوں مجرموں کے خلاف اپنے مختلف ردعمل دے رہے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اداکارہ سوارا بھاسکر نے حال ہی میں اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر ٹویٹ کیا ہے۔ اس ٹویٹ میں سوارا نے اس مجرم کا ذکر کیا ہے جس نے سال 2017 میں ایک شخص کو زندہ جلا دیا تھا۔ سوارا بھاسکر نے لکھا ہے کہ شمبھو لال ریگر نے سال 2017 میں ایک مسلمان شخص کو زندہ جلا دیا تھا، جو راجستھان کے راجسمند کا رہنے والا تھا۔ کیا ہم اس واقعے کے بعد بھی اتنے ہی خوفزدہ تھے جتنے آج ہم ہیں؟ کیا اس وقت اس ملزم کو دہشت گرد کہا گیا تھا، نہیں؟ بلکہ اس مجرم کو جودھ پور کی عدالت نے ہار پہنایا اور بعد میں اس نے 2019 کا لوک سبھا الیکشن بھی لڑا۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Sushmita Sen Miss Universe Story :جب ایشوریہ رائے کے نام سے بری طرح ڈر گئی تھیں سشمیتا سین

      یہ بھی پڑھیں:
      Celebs Foreign Property:امیتابھ سے لے کرشلپااورپرینکاتک،فارین میں ہے کروڑوں کی پراپرٹی

      لوگوں نے دئیے ایسے ردعمل
      سورا بھاسکر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کے ردعمل آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک ٹوئٹر یوزر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ ایک جرم کا موازنہ دوسرے جرم سے کررہی ہیں۔ جس سے آپ جرم کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرنا چاہ رہی ہیں۔ ایک دیگر یوزر نے سوارا سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے سال 2017 میں ہی اس مدعے پر آواز کیوں نہیں اٹھائی تھی؟
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: