உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    White Hair:کچن کی اس خاص چیز سے سفید بال پھر سے ہوں گے کالے، نہیں ہونا پڑے گا شرمندہ

    سفید بالوں کو اس گھریلو چیز سے کرے سیاہ!

    سفید بالوں کو اس گھریلو چیز سے کرے سیاہ!

    Tea Leaves For Premature White Hair: لوگوں کے بالوں میں سفیدی آنے لگتی ہے لیکن آج کے دور میں نوجوانوں کو بھی اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے انہیں پبلک کے درمیان شرمندگی اور خوداعتمادی میں کمی کا شکار ہونا پڑتا ہے، ایسے میں آخر کیا علاج ہیں جو کیے جاسکتے ہیں۔

    • Share this:
      Tea Leaves For Premature White Hair:بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی جسم میں تبدیلیاں آنی لگتی ہیں، عام طور پر زندگی کے قریب 35 سے 40 سال گزرجانے کے بعد لوگوں کے بالوں میں سفیدی آنے لگتی ہے لیکن آج کے دور میں نوجوانوں کو بھی اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے انہیں پبلک کے درمیان شرمندگی اور خوداعتمادی میں کمی کا شکار ہونا پڑتا ہے، ایسے میں آخر کیا علاج ہیں جو کیے جاسکتے ہیں۔

      سفید بالوں کو پھر سے کیسے کریں کالے؟
      بہت سے لوگ سفید بالوں کو چھپانے کے لیے کیمیکل پر مبنی ہیئر ڈائی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن اس سے بالوں میں خشکی پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ہم سیاہ بالوں کو حاصل کرنے کے لیے صرف قدرتی طریقے استعمال کریں، جس سے آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ کچن میں رکھی چائے کی پتیوں کی مدد سے آپ اپنے بالوں کو دوبارہ کالے کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا گھریلو علاج ہے جو دادی نانی کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Prophet Muhammadکولیکرجاری تنازعہ پرفلم میکرنے کہا’بھکتوں کو کردینا چاہیے پٹرول کابائیکاٹ‘

      یہ بھی پڑھیں:
      Nupur Sharma کی معافی پر رچا چڈھا کا طنز،کہا’جب جب جان بچانی تھی تو معافی ہی کام آئی‘

      چائے پتی کی مدد سے بال ایسے کریں کالے
      چائے کی پتیوں کو نیچرل ہیئر ڈائی مانا جاتا ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے پہلے ایک برتن میں پانی گرم کریں، اب اس میں تقریباً 5 چمچ یا 6 ٹی بیگز ڈالیں، اسے پورا ابال لیں اور پھر ٹھنڈا ہونے کے لئے چھوڑ دیں۔ اسے سر پر لگائیں اور تقریباً 45 منٹ تک خشک ہونے دیں۔ آخر میں سر کو نیم گرم پانی سے صاف کریں۔ آپ محسوس کریں گے کہ بالوں کا رنگ تھوڑا سا سیاہ ہو گیا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے اس عمل پر باقاعدگی سے عمل کریں۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: