உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جاپان میں چاٹنے کے قابل ٹیلی ویژن تیار، اب گھر بیٹھے دنیا بھر کے کھانوں کا لیا جاسکتا ہے مزہ!

    چاٹنے کے قابل ٹیلی ویژن کو میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میشیتا نے تیار کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس ٹیلی ویژن کو اس لیے بنایا گیا تھا کہ لوگوں کو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھ کر دنیا بھر کے کھانے کے ذائقوں کا تجربہ کرنے میں مدد ملے۔

    چاٹنے کے قابل ٹیلی ویژن کو میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میشیتا نے تیار کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس ٹیلی ویژن کو اس لیے بنایا گیا تھا کہ لوگوں کو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھ کر دنیا بھر کے کھانے کے ذائقوں کا تجربہ کرنے میں مدد ملے۔

    چاٹنے کے قابل ٹیلی ویژن کو میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میشیتا نے تیار کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس ٹیلی ویژن کو اس لیے بنایا گیا تھا کہ لوگوں کو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھ کر دنیا بھر کے کھانے کے ذائقوں کا تجربہ کرنے میں مدد ملے۔

    • Share this:
      جاپان میں ایک پروفیسر نے مبینہ طور پر ایک چاٹنے کے قابل ٹیلی ویژن اسکرین تیار کی ہے جو ذائقہ دار کنستروں کے کیروسل کے ذریعے بنائے گئے کھانے کا ذائقہ فراہم کر سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ذائقے والے کنستروں (canisters) کو دنیا بھر کے پکوانوں کی طرح چکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

      اس کا نام Taste the TV (TTTV) دیا گیا ہے۔ یہ ڈیوائس ایک فلم کے ساتھ آتی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حفظان صحت کی حامل ہے۔ صارفین کے ذائقوں کو آزمانے کے لیے اسے ٹی وی اسکرین پر رکھا گیا ہے۔

      چاٹنے کے قابل ٹیلی ویژن کو میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میشیتا نے تیار کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس ٹیلی ویژن کو اس لیے بنایا گیا تھا کہ لوگوں کو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھ کر دنیا بھر کے کھانے کے ذائقوں کا تجربہ کرنے میں مدد ملے۔

      یہ پروفیسر 30 طلبا کی ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انھوں نے ذائقہ سے متعلق متعدد مصنوعات تیار کی ہیں جن میں ایک کانٹا بھی شامل ہے جو کہ کھانے کے ذائقے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے ٹیکنالوجی فرموں کو بھی پیشکش کی ہے کہ وہ اپنی چھڑکنے کی تکنیک کو استعمال کریں اور ایسی مصنوعات تیار کریں جو پیزا یا چاکلیٹ کے ٹکڑے کی طرح ٹوسٹ شدہ روٹی کا ذائقہ بنا سکیں۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: