உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی ٹک ٹاکر نے پار کی حد،15سیکنڈ کے ویڈیو کے لئے جنگل میں لگادی آگ، پھر ہوا ایسا!

    پاکستانی ٹک ٹاکر حمیرہ نے جنگل میں لگائی آگ۔

    پاکستانی ٹک ٹاکر حمیرہ نے جنگل میں لگائی آگ۔

    Humaira TikTok Video: اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کچھ صارفین تبصرے کر رہے ہیں کہ اس ٹک ٹاکر نے اپنی ویڈیو کی وجہ سے پاکستان کے جنگلوں کو آگ لگا دی ہے، حکومت کو اس گنہگار کے ساتھ ساتھ اس برانڈ کو بھی سزا دینی چاہیے جس کے لیے اس نے یہ شوٹنگ کی ہے۔

    • Share this:
      Humaira TikTok Video: پندرہ  سیکنڈ کی ویڈیو بنانے کے لیے Tiktok نے کچھ لوگوں کو اس قدر دیوانہ بنا دیا ہے کہ انہیں اس ویڈیو کے سامنے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ ایسی ہی ایک ویڈیو پاکستان سے وائرل ہو رہی ہے۔ جس میں پاکستانی سوشل میڈیا سنسیشن حمیرا اصغر نے ایسا کارنامہ کر ڈالا، جسے دیکھ کر آپ بھی سر پکڑ لیں گے۔ فوٹو شوٹ میں حمیرا بہت خوبصورت نظر آئی ہیں لیکن انہوں نے جو ایکشن کیا ہے وہ قابل تعریف نہیں۔ اپنے 15 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ میں حمیرا جنگل کی آگ کے درمیان چہل قدمی کرتی نظر آرہی ہیں اور جب سے حمیرا کی یہ ویڈیو وائرل ہوئی ہے، لوگوں نے انہیں کافی ٹرول کیا ہے۔

      حمیرا کی اس ویڈیو کو دیکھ کر انٹرنیٹ صارفین کافی برہم ہیں۔ اس ویڈیو کو بھرپور انداز میں شیئر کرتے ہوئے حمیرا نے کیپشن میں لکھا کہ میں جہاں بھی ہوں، آگ لگ جاتی ہے... یہ تو معلوم نہیں کہ گھر میں آگ لگائی ہے یا نہیں، لیکن لوگ سمجھتے ہیں کہ حمیرا نے جنگل میں بہت بڑی آگ لگائی ہے۔ اس 15 سیکنڈ کی ویڈیو کے لیے۔


      اس ویڈیو میں حمیرا سرمئی رنگ کا گاؤن پہنے اور جلتے ہوئے انگاروں کے سامنے سے گزرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین حمیرا کی اس ویڈیو کو شیئر کرکے انہیں کافی ٹرول کر رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پیپرازی کے سامنے Urfi Javed نے کی یہ ایسی حرکت، ڈریس دیکھ کرلوگوں نے کیا یہ مطالبہ

      یہ بھی پڑھیں:
      Jersey OTT Release:نیٹ فلیکس پراتنی جلدی آرہی ہے شاہدکپورکی فلم،تاریخ جان کررہ جائیں دنگ!

      اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کچھ صارفین تبصرے کر رہے ہیں کہ اس ٹک ٹاکر نے اپنی ویڈیو کی وجہ سے پاکستان کے جنگلوں کو آگ لگا دی ہے، حکومت کو اس گنہگار کے ساتھ ساتھ اس برانڈ کو بھی سزا دینی چاہیے جس کے لیے اس نے یہ شوٹنگ کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: