اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ڈریس کی جگہ باڈی پر ٹیپ چپکائے نظر آئی عرفی جاوید، یوزرس نے کہا’ایسے کپڑے پہننے سے ملتا کیا ہے‘

    ڈریس کی جگہ باڈی پر ٹیپ چپکائے نظر آئی عرفی جاوید، یوزرس نے کہا’ایسے کپڑے پہننے سے ملتا کیا ہے‘

    ڈریس کی جگہ باڈی پر ٹیپ چپکائے نظر آئی عرفی جاوید، یوزرس نے کہا’ایسے کپڑے پہننے سے ملتا کیا ہے‘

    عرفی جاوید کے اس ویڈیو کو لے کر انہیں جم کر ٹرول کیا جارہا ہے۔ ایک یوزر نے لکھا، ایسے کپڑے پہننے سے ملتا کیا ہے آپ کو؟ دوسرے یوزر نے لکھا، ٹیپ، کبھی سوچا نہیں میں نے یہ تو کمال ہوگیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      عرفی جاوید اپنے فیشن اسٹائل کو لے کر ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں۔ وہ اپنے کپڑوں کو لے کر ہمیشہ کچھ نہ کچھ تجربات کرتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ٹرولس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مرتبہ تو عرفی نے ڈریس کی جگہ ٹیپ لگاکر اپنے بدن کو ٹھانکا ہے۔ عرفی نے اپنے اس نئے لُک کا ویڈیو بھی شیئر کیا ہے، جو سوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہورہا ہے۔

      عرفی جاوید نے ٹیپ سے ڈھکا بدن
      عرفی جاوید نے انسٹاگرام اکاونٹ پر اپنا ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے، جس میں وہ ریڈ ٹیپ چپکائے ہوئے نظر آرہی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عرفی لیٹی ہوئی ہیں اور ان کے بدن پر لال رنگ کے ٹیپ چپکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ٹیپ کے سہارے اپنے پرائیوٹ پارٹس کو کوور کیا ہے۔ عرفی کے اس ویڈیو کو ابھی تک لاکھوں وویوز اور لائیکس مل چکے ہیں۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by Uorfi (@urf7i)





      یہ بھی پڑھیں:

      ’اندور سے ممبئی تک کا کرایہ برباد‘،سیلفی مانگتا رہ گیا فین، اننیا کے نخرے پریوزرس ہوئے غصہ

      یہ بھی پڑھیں:

      بپاشا بسو کا انگوٹھا تھامے نظر آئی بیٹی دیوی، اداکارہ نے پیارے انداز میں شیئر کی جھلک

      یوزرس نے جم کر کیا ٹرول
      اب فیشن اسٹار عرفی جاوید کے اس ویڈیو کو لے کر انہیں جم کر ٹرول کیا جارہا ہے۔ ایک یوزر نے لکھا، ایسے کپڑے پہننے سے ملتا کیا ہے آپ کو؟ دوسرے یوزر نے لکھا، ٹیپ، کبھی سوچا نہیں میں نے یہ تو کمال ہوگیا۔ وہیں، کسی دیگر یوزر نے کمنٹ کیا، کاش اس کا کوئی ٹیپ نہ نکالے۔ ایک اور یوزر نے کمنٹ کیا کہ یہ کوئی فیشن نہیں ہے۔ اسٹنٹ کررہی ہے۔ ٹیپ نکالنے کے بعد کیا حالت ہے بتانا۔ اس طرح یوزرس عرفی کا جم کر مذاق اڑارہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: