உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Saif Kareena Love Story:جب سیف علی خان سے شادی کرنے سے پہلے کرینہ کو ملی تھی’وارننگ‘-’کرئیر برباد ہوجائے گا‘

    سیف علی خان اور کرینہ کپور خان .(Picture Credits: Kareena Kapoor Khan/Instagram)

    سیف علی خان اور کرینہ کپور خان .(Picture Credits: Kareena Kapoor Khan/Instagram)

    Saif Kareena Love Story: آج کرینہ اور سیف کا نام انڈسٹری کے پاور کپلز میں شامل ہے۔ کرینہ اور سیف کے دو بچے ہیں جن کا نام تیمور علی خان اور جہانگیر علی خان ہے۔

    • Share this:
      Saif Kareena Love Story: سیف علی خان اور کرینہ کپور کی آج بات کریں گے، جن کا افیئر سے لے کر شادی تک رشتہ کافی سرخیوں میں رہا تھا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ سیف علی خان کی یہ دوسری شادی تھی۔ اس سے قبل 1991 میں سیف علی خان نے اداکارہ امریتا سنگھ سے شادی کی۔ سیف کی پہلی شادی بھی کافی چرچے میں آئی تھی۔ درحقیقت شادی کے وقت جہاں امریتا انڈسٹری کی معروف اداکارہ تھیں وہیں سیف نے تب فلموں میں ڈیبیو بھی نہیں کیا تھا۔ تاہم شادی کے 13 سال بعد سیف اور امریتا میں طلاق ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 2008 میں امریتا سے طلاق کے بعد سیف اور کرینہ کے درمیان قربتیں بڑھ گئی تھیں۔

      دراصل سیف اور کرینہ فلم 'ٹشن' کی شوٹنگ کر رہے تھے اور یہیں انہیں ایک دوسرے سے پیار ہو گیا۔ کچھ سال ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنے کے بعد ان کی شادی 2012 میں ہوئی۔ تاہم کرینہ کے مطابق سیف سے شادی کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ اداکارہ نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سیف سے شادی سے پہلے ان کے قریبی لوگوں نے کیا کہا تھا۔

      کرینہ کے مطابق لوگوں نے انہیں کہا کہ 'سیف دو بچوں کا باپ ہے اور اس سے شادی کرنے سے تمہارا کریئر تباہ ہو جائے گا'۔ کرینہ کے مطابق لوگوں سے یہ سن کر انہیں لگا کہ کیا واقعی محبت کرنا اتنا بڑا جرم ہے؟ اگر ہاں، تو پھرشادی کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے!

      یہ بھی پڑھیں:
      Armaan Malikکو یادآئے اپنے کرئیرکے وہ سیاہ دن،کہا’اچانک مجھے کئی پروجیکٹ سے نکال دیاتھا‘

      یہ بھی پڑھیں:
      12سال طویل ریلیشن شپ کے بعدشادی کے بندھن میں بندھنے جارہے ہیں پائل روہتگی اور سنگرام سنگھ

      تاہم آج کرینہ اور سیف کا نام انڈسٹری کے پاور کپلز میں شامل ہے۔ کرینہ اور سیف کے دو بچے ہیں جن کا نام تیمور علی خان اور جہانگیر علی خان ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: