உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Malaika Arora:اسٹریچ مارکس کو لے کر ٹرول کرنےوالوں کو ملائیکہ اروڑہ نے دیا منہ توڑ جواب

    ٹرولرس کو ملائکہ نے دیا منہ توڑ جواب۔

    ٹرولرس کو ملائکہ نے دیا منہ توڑ جواب۔

    Malaika Arora Response On Trolling: بتادیں کہ ملائکہ نے 2017 میں ارباز خان سے طلاق لے لی تھی۔ دونوں کی 19 سال پرانی شادی باہمی رضامندی سے ٹوٹ گئی۔طلاق کے بعد ملائکہ کو بیٹے ارہان کی تحویل ملی جو اب 19 سال کے ہو چکے ہیں۔

    • Share this:
      Malaika Arora Response On Trolling: بالی ووڈ اداکارہ ملائکہ اروڑا اپنی خوبصورتی، رشتوں اور فٹنس کی وجہ سے سرخیوں میں رہتی ہیں۔ لیکن اس بار وہ اپنے بے باک بیانات کی وجہ سے تعریفیں حاصل کر رہی ہیں۔ ملائیکہ، جو 48 سال کی ہو چکی ہیں، بہت گلیمرس اور سیزلنگ لگ رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر لوگ انھیں سیکسی اور ہاٹ کہتے ہیں تو انھیں کوئی انسیکیوریٹی نہیں ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی بڑھتی عمر اور خوبصورتی سے بہت پر سکون ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ کچھ عرصہ قبل ملائکہ کو اپنے اسٹریچ مارکس دکھانے پر ٹرول کیا گیا تھا۔

      پنک ولا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ملائکہ نے کہا تھا کہ اسٹریچ مارکس ان پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ وہ ٹرولرز اور ان سیکیوریٹی کو ہینڈل کرنا جانتی ہے۔ ٹرولرز کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سفید بال ان کی دانشمندی، استحکام، محبت اور خوشی کی علامت ہیں۔

      آپ کو بتادیں کہ ملائکہ نے 2017 میں ارباز خان سے طلاق لے لی تھی۔ دونوں کی 19 سال پرانی شادی باہمی رضامندی سے ٹوٹ گئی۔طلاق کے بعد ملائکہ کو بیٹے ارہان کی تحویل ملی جو اب 19 سال کے ہو چکے ہیں۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by Malaika Arora (@malaikaaroraofficial)





      یہ بھی پڑھیں:
      پرینکا چوپڑا نے کیٹرینہ کیف اور عالیہ بھٹ کے ساتھ Jee Le Zara میں کام کرنے پر توڑی خاموشی

      یہ بھی پڑھیں:
      Salman Khanسے ملاقات کرنا چاہتی ہیں باکسرNikhat Zareen، بھائی نے اس طرح دیا جواب

      طلاق کے بعد ملائکہ نے ارجن کپور کو ڈیٹ کرنا شروع کر دیا۔ دونوں تقریباً چار سال سے رشتہ میں ہیں اور اکثر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ دونوں اس سال کے آخر تک شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے، حالانکہ دونوں نے ان خبروں پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: