உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhuri Dixit & Sanjay Dutt:مادھوری ڈکشٹ کے پیار میں پاگل سنجے دت نے اپنی بیوی کو کردیا تھا نظرانداز، یہ ہوا تھا رشتے کا انجام!

    سنجے دت اور مادھوری ڈکشت۔

    سنجے دت اور مادھوری ڈکشت۔

    Madhuri Dixit & Sanjay Dutt: میڈیا رپورٹس کے مطابق سنجے دت کے اس رویے کی وجہ سے ریچا اور ان کے تعلقات میں دراڑ آ گئی۔ ساتھ ہی مادھوری ڈکشٹ نے بھی سنجے دت کا نام ممبئی بم بلاسٹ کیس میں آنے کے بعد ان سے خود کو دور کر لیا تھا۔

    • Share this:
      Madhuri Dixit & Sanjay Dutt: سنجے دت نہ صرف اپنی بہترین اداکاری بلکہ اپنی ذاتی زندگی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ سنجے دت کی پہلی شادی رچا شرما سے ہوئی تھی۔ آج ہم آپ کو سنجے دت اور ان کی اہلیہ رچا کی زندگی سے جڑا ایک واقعہ بتائیں گے، جس نے ایک زمانے میں کافی سرخیاں بنائی تھیں۔ دراصل سنجے دت کی اہلیہ ریچا کو شدید بیماری تھی جس کے علاج کے لیے وہ امریکہ میں موجود تھیں۔ اس دوران سنجے دت بالی ووڈ میں ایک کے بعد ایک کئی ہٹ فلمیں دے رہے تھے۔ اس دوران یہ خبریں سامنے آئیں کہ سنجے دت کا اپنے وقت کی مشہور اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔

      کہا جاتا ہے کہ جب سنجے دت کی بیمار بیوی ریچا کو اس بات کا علم ہوا تو وہ اپنا علاج بیچ میں ہی چھوڑ کر امریکہ سے ہندوستان آگئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریچا سنجے دت کی دل پھینک عاشق کی امیج سے بھی واقف تھیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Mouni Roy Bold Photoshoot:ٹرانسپیرنٹ گاؤن میں بولڈاداؤں کےساتھ مونی رائے کی تصویریں وائرل

      یہی وجہ تھی کہ جب انہیں اداکار کے مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ افیئر کا علم ہوا تو وہ سیدھی ہندوستان چلی آئیں۔ تاہم یہاں آنے کے بعد بھی ریچا کی مشکلات کم نہیں ہوئیں، کہا جاتا ہے کہ سنجے دت اپنی بیمار بیوی کو لینے ایئرپورٹ تک نہیں گئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پرینکا چوپڑا نے کیٹرینہ کیف اور عالیہ بھٹ کے ساتھ Jee Le Zara میں کام کرنے پر توڑی خاموشی

      میڈیا رپورٹس کے مطابق سنجے دت کے اس رویے کی وجہ سے ریچا اور ان کے تعلقات میں دراڑ آ گئی۔ ساتھ ہی مادھوری ڈکشٹ نے بھی سنجے دت کا نام ممبئی بم بلاسٹ کیس میں آنے کے بعد ان سے خود کو دور کر لیا تھا۔ رچا کی بھی کینسر سے موت ہوگئی اور سنجے اور ان کی بیٹی تریشالا کی پرورش نانا نانی نے کی۔ وہ اب بھی امریکہ میں ہی رہتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: