உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Agneepath Scheme:’اُن کے پاس میک اپ کرکے60 میں 16نظر آنے کی سہولت نہیں‘۔روینہ ٹنڈن کے ٹوئٹ پر رائٹر نے دیا ایسا جواب

    اگنی پتھ اسکیم کو لے کر مہنگا پڑا روینہ ٹنڈن کو ٹوئٹ کرنا!

    اگنی پتھ اسکیم کو لے کر مہنگا پڑا روینہ ٹنڈن کو ٹوئٹ کرنا!

    Agneepath Scheme: رائٹر اشوک کمار پانڈیہ (Ashok kumar pandey)کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی فینس روینہ ٹنڈن پر تنقید کررہے ہیں۔

    • Share this:
      Agneepath Scheme: مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم (Agneepath Scheme) کو لے کر ملک بھر میں ہنگامہ ہے۔ عالم یہ ہے کہ مودی حکومت کی اس اسکیم کے خلاف مظاہرین نے کئی ٹرینوں اور بسوں کو آگ لگا دی ہے۔ ایسے میں فلمی دنیا کی مشہور شخصیات بھی اس معاملے پر اپنی رائے دینے سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔ اب اس ضمن میں ہندی فلموں کی اداکارہ روینہ ٹنڈن (Raveena Tandon) نے شرپسندوں پر طنز کیا جس پر ایک مشہور مصنف نے روینہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

      روینہ ٹنڈن نے کہی بڑی بات
      دراصل، روینہ ٹنڈن نے اگنی پتھ اسکیم کے خلاف حالیہ مخالفت کو دیکھتے ہوئے ایک ٹی وی چینل کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طنز کیا ہے۔ روینہ نے کہا ہے کہ مخالفت کررہے 23 ​​سالہ امیدوار۔ روینہ کے اس تبصرے پر مشہور مصنف اشوک کمار پانڈے نے فوری ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ روینہ پر طنز کرتے ہوئے اشوک کمار نے لکھا ہے کہ کبھی ایک فلمی فنکار کی جگہ عام زندگی گزارکر دیکھو۔ جدوجہد اور بے روزگاری انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس میک اپ کر کے 60 میں 16 نظر آنے کی سہولت بھی تو نہیں ہے۔



      یہ بھی پڑھیں:
      Rashmika Mandanna:رشمیکا مندانا کے اسVideo پر یقیناً دل ہار بیٹھیں گے آپ

      یہ بھی پڑھیں:
      Naaginاداکارہ ادا خان اصل زندگی میں پیار میں کھاچکی ہیں دھوکہ،کہا-اب سنگل ہوں اور شادی ۔۔۔

      فینس نے روینہ ٹنڈن پر تنقید کی
      رائٹر اشوک کمار پانڈیہ (Ashok kumar pandey)کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی فینس روینہ ٹنڈن پر تنقید کررہے ہیں۔ جس میں ایک ٹوئٹر یزور نے لکھا ہے کہ، ’رواینہ جی آپ اپنے بچوں کو چار سال کی فوجی بھرتی کے لئے کیوں نہیں بھیج دیتی ہو۔‘ دوسرے یوزر نے کہا ہے کہ ’کوئی ایک بار ان میڈم سے پوچھ لیجیے کہ اگلے الیکشن میں انہیں کہاں سے سیاست کی ٹکٹ حاصل کرنی ہے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: