ہوم » نیوز » Explained

Explained:کیاکوروناوائرس ہواسے بھی پھیل رہاہے؟ جانئے اس کی 10 اہم وجوہات کیاہے؟

مشہور ہفت وار سائنسی رسالہ دی لینسیٹ (The Lancet) کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہوا کے ذریعہ منتقل ہونے والے وائرس (predominantly airborne) پر قابو پانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پوری فضا وائرس آمیز ہوجاتی ہے۔ ایسے میں بند کمروں، محدود جگہوں اور صنعتی علاقوں میں رہنے کے بجائے کھلے ماحول کو ترجیح دیں۔ تازہ ہوا سے فائدہ اٹھانے کی ہرممکن کوشش کریں۔

  • Share this:
Explained:کیاکوروناوائرس ہواسے بھی پھیل رہاہے؟ جانئے اس کی 10 اہم وجوہات کیاہے؟
مشہور ہفت وار سائنسی رسالہ دی لینسیٹ (The Lancet) کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہوا کے ذریعہ منتقل ہونے والے وائرس (predominantly airborne) پر قابو پانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پوری فضا وائرس آمیز ہوجاتی ہے۔ ایسے میں بند کمروں، محدود جگہوں اور صنعتی علاقوں میں رہنے کے بجائے کھلے ماحول کو ترجیح دیں۔ تازہ ہوا سے فائدہ اٹھانے کی ہرممکن کوشش کریں۔

گذشتہ سال عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) عام ہونے کے بعد سے ہی کی کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس سارس-کو -2 (severe acute respiratory syndrome coronavirus 2 (SARS-CoV-2)) ہوا کے ذریعہ بھی پھیلتا ہے۔ ایسی کئی اسٹڈیز کی گئی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا کا وائرس ہوا کے ذریعہ بھیلتا ہے۔ ابھی یہ بات حتمی طورپر نہیں کہی جاسکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) کے مالی تعاون سے حالیہ ایک مطالعہ بھی اس میں شامل ہے۔ جہاں بتایا ہے کہ کورونا پھیلنے کا ایک سبب ہوا بھی ہے۔


اب ماہرین کی ایک ٹیم نے موجودہ تحقیق کا مزید مطالعہ کیاہے۔ جس کا جائزہ مشہور ہفت وار سائنسی رسالہ دی لینسیٹ (The Lancet) میں شائع ہوا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ مستند اور مستقل ثبوت موجود ہیں کہ کورونا وائرس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ (transmission) کا ایک بنیادی سبب ہوا ہے۔ اب ہوا کے ذریعہ بھی یہ وائرس پھیل رہا ہے۔


مذکوہ تحقیق کے مضمرات کیا ہیں؟


اگر کورونا وائرس ہوا سے پھیل رہا ہے تو صحت عامہ سے متعلق اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ایسے اقدامات اپنائے جائے جو مکمل طور پر بڑی باریکی اور ذرات سے چلنے والے ٹرانسمیشن پر مرکوز ہوں۔

مشہور ہفت وار سائنسی رسالہ دی لینسیٹ (The Lancet) کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہوا کے ذریعہ منتقل ہونے والے وائرس (predominantly airborne) پر قابو پانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پوری فضا وائرس آمیز ہوجاتی ہے۔ ایسے میں بند کمروں، محدود جگہوں اور صنعتی علاقوں میں رہنے کے بجائے کھلے ماحول کو ترجیح دیں۔ تازہ ہوا سے فائدہ اٹھانے کی ہرممکن کوشش کریں۔

کورونا وائرس نے توڑے سارے ریکارڈ
کورونا وائرس نے توڑے سارے ریکارڈ


یونیورسٹی آف آکسفورڈ (University of Oxford) سے وابستہ اس تحقیقی مقالے کی مرکزی مصنف ڈاکٹر تریشا گرینہلگ (Dr Trisha Greenhalgh) نے دی انڈین ایکسپریس کو ای میل کرکے بتایا کہ ’’ہمیں خوب صفائی اور بار بار ہاتھ دھونے پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ بنیادی طور پر حفظان صحت کے بنیادی اقدامات پر عمل پیرا ہو‘‘۔

ڈاکٹر تریشا گرینہلگ نے بتایا کہ ’’ہمیں اپنے گھروں میں اندر اور باہر وینٹیلیشن کی ضرورت ہے۔ جب ضروری ہو تب ہوا کو فلٹر بھی کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماسک کو صحیح ڈھنگ سے پہنا جائے‘‘۔

انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران تین جاپانی سی (3 Japanese Cs) کی طرف بھی توجہ دلائی ہے:
۔ 1۔ قریبی رابطہ (close contact)
۔ 2۔ ہجوم والی جگہ (crowded places) اور
۔ 3۔ بند اور خراب ہوا دار جگہوں سے پرہیز کریں (closed spaces)

ماہرین اس نتیجے پر کیسے پہنچے؟

موجودہ تحقیق کا جائزہ لیتے ہوئے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے چھ ماہرین نے 10 دلیلوں کی نشاندہی کی۔ جو اجتماعی طور پر اس مفروضے کی تائید کرتے ہیں۔ جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ سارس-کو-2 ہوا سے منتقل ہوتا ہے۔

۔1. انتہائی تیز رفتار میں پھیلنے والے کیسوں میں کورونا وائرس (SARS-CoV-2) تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔ در حقیقت مصنفین نے لکھا کہ اس طرح کے واقعات وبائی بیماری کے بنیادی اسباب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ محافل موسیقی اور بحری جہازوں وغیرہ میں انسانی طرز عمل اور دیگر متغیرات کے تفصیلی تجزیوں میں ایسے نمونوں کو دکھایا گیا ہے جو ’’سارس-کو۔ 2 ‘‘ میں ہوا سے پھیلنے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ جس کی قطرہ یا فومائٹس (Fomite) کے ذریعہ مناسب طور پر وضاحت نہیں کی جاسکتی ہے۔

۔ 2. ایسے کمرے جہاں کئی لوگ بیک وقت ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے رابطہ میں آنے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے، تو ایسی صورت میں بھی گھر کی پوری فضا وائرس آمیز ہوجاتی ہے۔ اس تحقیق میں قرنطینہ مراکز اور ہوٹلوں میں ہوا کے ذریعہ کورونا کے پھیلنے کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔

۔3 ۔ ایسے لوگ جن میں کورونا کے علامات ظاہر ہورہے ہیں یا وہ اس سے قبل کے مراحل میں داخل ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی انھیں کھانسی یا چھینک نہیں آرہی تب بھی ان کے آس پاس کی ہوا آلودہ ہوہی جاتی ہے۔ جو کہ ہوا سے پھیلنے کا تین چوتھائی سبب ہے۔ دنیا بھر میں اس طرح کی کیس سامنے آرہے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد ہی کورونا وائرس پوری شدت کے ساتھ اپنا اثر دیکھاتا ہے۔

۔4۔ سارس کووی -2 کی منتقلی گھر کے باہر، گھر کے اندر سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور انڈور وینٹیلیشن کے ذریعہ اس میں کافی حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔ مصنفین نے لکھا ہے کہ دونوں مشاہدات بنیادی طور پر ہوا سے چلنے والے راستہ کی منتقلی کی حمایت کرتے ہیں۔

۔5۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیموں میں نئے انفکشن کی علامات ظاہر ہوئی ہے۔ جہاں رابطے اور بوند بوند کی سخت احتیاطی تدابیر اور پی پی ای کا استعمال بوند بوند سے بچانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

۔6۔ ہوا میں کارآمد سارس کو -2 کا پتہ چلا ہے۔ لیبارٹری تجربات میں کورونا وائرس 3 گھنٹے تک ہوا میں متعدی رہا۔ ایک مطالعہ میں ایئروسول پیدا کرنے کے طریقہ کار (aerosol-generating procedures) کی عدم موجودگی میں کووڈ۔19 مریضوں کے کمرے سے ہوا کے نمونوں میں قابل عمل سارس کو -2 کی نشاندہی کی گئی تھی۔

COVID-19 in India: ملک میں اکتوبر 2020 کے بعد آئے سب سے زیادہ کورونا کیسز
COVID-19 in India: ملک میں اکتوبر 2020 کے بعد آئے سب سے زیادہ کورونا کیسز


۔7۔ کووڈ-19 مریضوں کے ساتھ اسپتالوں میں ایئر فلٹرز اور بلڈنگ ڈکٹوں (building ducts) میں سارس-کو -2 کی شناخت کی گئی ہے۔ اس طرح کے مقامات تک صرف ایروسول (aerosol) ہی پہنچا جاسکتا تھا۔

۔8۔ ایک اسٹڈی میں بتایاگیاہے کہ   پنجر ے میں قیدمتاثرہ جانوروں اور  غیر متاثر ہ  جانوروں    کو ایک  فضائی ٹیوب کے  ذریعہ  علحدہ  رکھاگیاتھا۔ ایسے جانوروں میں  ہوا کے ذریعہ SARS-CoV-2 یعنی کوروناوائرس کے پھیلنے کی  نشاندہی کی گئی ہے لیکن اس کی تصدیق صرف aerosols.1 کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔

9. مصنفین نے لکھا ہے کہ ہمارے علم میں اسی کوئی تحقیق نہیں ہے، جس میں کورونا وائرس (SARS-CoV-2) کے ہوا سے منتقلی کے سلسلے میں انکار کیا گیا ہو۔ اگر کورونا ہوا سے نہیں پھیلتا تو اس ضمن میں ہمیں کوئی نہ کوئی ٹھوس تحقیق نظر آہی جاتی۔

10. کورونا کی منتقلی کے دوسرے راستوں جیسے سانس لینے کی نلی اور نہایت باریک خورد بینی اشیا ؍ جرائم کی حمایت کی گئی ہے۔ جس سے یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے۔

چونکہ یہ سب موجودہ تحقیق کے بعد معلوم ہوا۔ کیا یہ پہلے سے معلوم نہیں تھا؟

ہوا کے ذریعہ کورونا کی منتقلی سے متعلق دی لینسیٹ (The Lancet) تحقیق کو ’’کورونا کی منتقلی کا بنیادی راستہ‘‘ بتایا گیا ہے۔ پچھلے سال جولائی میں 200 سے زائد سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) کو ہوا سے ہونے والی منتقلی کے بارے میں لکھا تھا۔ ڈبلیو ایچ او نے بعد میں اس بات پر اتفاق کیا کہ کچھ حالات میں ہوا سے کورونا کی منتقلی کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

حال ہی میں ڈبلیو ایچ او کی مالی اعانت سے ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ’سارس کووی۔ 2‘ ہوا سے منتقل ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ابھی تحقیق جاری ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا کے ہوا سے منتقلی کو یکسر طور پر رد بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر تریشا گرینہلگ (Dr Trisha Greenhalgh) نے آخر میں دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ’ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کورونا کی ہوا سے منتقلی محض ایک عنصر ہے۔ اس کے علاوہ کورونا کے پھیلنے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 18, 2021 11:38 PM IST