உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کیامابعدکووڈ۔19دفترسے100فیصدکام بن جائےگاماضی کاقصہ؟ کیاکہتے ہیں ماہرین صنعت

    گھر سے کام کرنے سے کارکردگی اور تندرستی کے لحاظ سے ان پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

    گھر سے کام کرنے سے کارکردگی اور تندرستی کے لحاظ سے ان پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

    بہت سی فرموں جیسے ٹاٹا اسٹیل، میٹا، ٹویٹر اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی کمپنیوں نے ہر کسی کو دفتر بلانے کے پرانے اصول کو رد کر دیا اور اپنے عملے کو اپنے گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے دل کھول دیا ہے۔ تاکہ ملازمین بہتر کاررکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

    • Share this:
      جب 2020 میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) لاک ڈاؤن شروع ہوا تو کئی کمپنیوں کو ایک بے مثال بحران کا سامنا کرنا پڑا اور تقریباً راتوں رات کام کی حدود پر نظر ثانی کرنے کے لیے ہنگامہ بھرپا ہوا۔ چونکہ بند جگہوں پر اموات بڑھ رہی ہیں اور انفیکشن تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اسی لیے گھر سے کام کرنا (WFH) ایک بہترین تجربہ رہا ہے۔ جو ابتدائی تکنیکی رکاوٹوں کے باوجود انتظامیہ کو قبول کرنا پڑا۔

      ہر بار جب انفیکشن میں کمی آئی، کاروباروں نے ملازمین کو دفتری سیٹ اپ پر واپس لانے کی کوشش کی، لیکن کورونا کے نئے ویرینٹس کے ظہور نے ان منصوبوں کو متاثر کر دیا، جس سے ایک نئے معمول کی راہ ہموار ہوئی۔ دفتر جانا یا گھر سے کام کرنا ایک فیصلہ بن گیا جس کی رہنمائی کووڈ وکر، حکومتی رہنما خطوط اور ملازمین کے آرام کے مطابق ہے۔ وائرس کے برتاؤ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے توازن برقرار رکھنا پڑا۔

      ملازمین کے ساتھ ساتھ آجروں دونوں کے لیے گھر سے کام کے نئے دور کے فائدے اور خامیاں ہیں۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں اس نے آسانی سے روزانہ 2 تا 3 گھنٹے کے سفر کی بچت کی، نیز حمل و نقل کے اخراجات میں بھی بچت کی۔ بہت سے لوگ کرائے کی بچت کرتے ہوئے اپنے آبائی شہروں کو لوٹ گئے، دوسرے ایسے مشاغل کو پورا کرنے کے قابل ہو گئے جو وہ پہلے نہیں کر پا رہے تھے، خاندان کے لیے زیادہ وقت صرف کرنا، بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کرنا، اسٹاک اور کرپٹو پر توجہ دینا اور کاروباری افراد کے لیے حصہ لینا اور دیگر کام ان دنوں لوگوں کی بہترین مشغولیات میں شامل رہی۔

      کام کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں لا کر وبائی امراض کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔
      کام کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں لا کر وبائی امراض کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔


      ورک فرم ہوم نے ان کمپنیوں کے لیے بھی اچھا کام کیا، جو اپنے عملے سے زیادہ کام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ بعض صورتوں میں ماہانہ الاؤنسز میں کٹوتی اور سب سے اہم کرایہ پر ایک بڑی رقم کی بچت کی ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کے کم ہونے کے ساتھ ملازمین اور آجر ایک جیسے سوالات سے دوچار ہیں۔ جس میں سب سے اہم سوال آفس سے 100 فیصد کام؟ یا گھر سے 100 کام؟ یا دونوں کو ملا کر یعنی ہائبرڈ ماڈل؟

      حد سے کم نقطہ نظر اختیار کرنا:

      بہت سی فرموں جیسے ٹاٹا اسٹیل، میٹا، ٹویٹر اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی کمپنیوں نے ہر کسی کو دفتر بلانے کے پرانے اصول کو رد کر دیا اور اپنے عملے کو اپنے گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے دل کھول دیا ہے۔ تاکہ ملازمین بہتر کاررکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

      ملازمین کو سال میں 365 دن تک کہیں سے بھی کام کرنے کا انتخاب کرنے کے علاوہ ٹاٹا اسٹیل اپنی فیکٹریوں کے ڈیجیٹل کلون بنا رہا ہے۔ فرم نے جمشید پور میں ایک پائلٹ شروع کیا جہاں عملہ کہیں بھی کنٹرول روم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ ٹاٹا اسٹیل میں ایچ آر مینجمنٹ کے نائب صدر سریش دت ترپاٹھی نے کہا کہ یہ پالیسی نگرانی سے لے کر اعتماد اور نتائج پر مبنی کام کی ثقافت کی طرف ایک تبدیلی ہے۔

      میشو نے کہا کہ کمپنی نے باؤنڈری کم اپروچ تک پہنچنے کے لیے مستقبل کے متعدد کام کے ماڈلز کا مطالعہ کیا ہے۔ میشو کے چیف ایچ آر آفیسر آشیش کمار سنگھ نے کہا کہ اس سے دنیا بھر کے ٹیلنٹ کو میشو کے ساتھ ہندوستان میں بہتر مقام بنانے کا موقع ملے گا۔

      ہائبرڈ ماڈل کو جانچنا:

      زیادہ تر دیگر فرمیں ہائبرڈ کام کے ماحول کو اپنانے کی کوشش کر رہی ہیں اور اصرار کرتی ہیں کہ تمام فنکشنز کو دور سے سروس نہیں کیا جا سکتا۔ Tata Consultancy Services (TCS) ہندوستان کے نجی شعبے کے سب سے بڑے آجروں میں سے ایک اور درج فرموں میں چوتھا سب سے بڑا آجر ہے۔ اس نے آنے والے مہینوں میں اپنے کیمپس کو نوجوانوں کی توانائی سے بھرا دیکھنا چاہتا ہے۔

      ٹی سی ایس کے چیف ایچ آر آفیسر ملند لکڈ نے کہا کہ چونکہ کووڈ کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے، کمپنی اپنے ملازمین کو دفتر میں واپس لے جائے گی۔ پھر بھی ان کے 25 فیصد سے زیادہ ساتھی ایک ہی وقت میں دفتر سے کام نہیں کریں گے۔ لکڈ نے کہا کہ ہم 25x25 ماڈل کو اپنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ 25x25 کے سفر کا ایک اہم حصہ لوگوں کو فزیکل دفاتر میں واپس لانا اور آہستہ آہستہ ہائبرڈ ورک ماڈل میں تبدیل کرنا ہے

      حریف آئی ٹی فرم وپرو بھی لچکدار انداز اپنائے گی۔ وپرو نے کہا کہ 3 مارچ سے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے لگوانے والے ملازمین جو مینیجر اور اس سے اوپر ہیں، ان کے پاس ہفتے میں دو بار کام پر واپس آنے کا اختیار ہوگا۔ ہم دوسروں کے لیے گھر سے کام کرنے کے انتظامات کو بڑھاتے رہیں گے۔

      کیا دفتر میں کام ماضی کی کہانی بن جائی گی؟

      آیچ آر مینیجرز کا اب کہنا ہے کہ کام کی جگہ مخصوص ہونا اور ملازمین سے وہاں سے کام کرنے کی توقع کرنا ماضی کی بات ہے۔ جزوی طور پر اس رجحان کو بہت سے شعبوں میں ٹیلنٹ نے مجبور کیا ہو گا- خاص طور پر آئی ٹی کے شعبے میں گھر سے کام کی وجہ سے بہتر کارکردگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ملازمین اب اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنی پسند کی جگہ سے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ بہت سی کمپنیاں اس لچک کو دینے کے لیے تیار ہیں، جو آجر سخت رویہ اپناتے ہیں وہ خود کو نقصان میں پا سکتے ہیں۔

      کام اور زندگی کا توازن بہتر ہوا:

      زوہو کارپوریشن کے ڈائریکٹر آف ٹیکنالوجی راجیندرن ڈنڈاپانی کا کہنا ہے کہ کام اور زندگی کا توازن بہتر ہوا ہے اور لوگوں کے پاس نئے مشاغل وغیرہ ہیں۔ وہ اب اس طرز زندگی کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ اشونی کمار، جنرل منیجر (انڈیا) اور نائب صدر، MPOWER فنانسنگ سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے ملازمین کی طرف سے گھر سے کام کرنے کی بہت زیادہ مانگ دیکھی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دفتر میں مکمل واپسی کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تھا، کیونکہ کارکردگی اور پیداواری صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

      پرسسٹنٹ سسٹمز کے چیف پیپل آفیسر سمیر بیندرے کا کہنا ہے کہ وبائی مرض نے ملازمین کے کام کو دیکھنے کا طریقہ بدل دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ توازن کی ضرورت ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: