உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Babri Masjid Demolition:بابری مسجدکی تعمیرسےرام مندرکےسنگ بنیادتک۔۔جانئے ایودھیا کیس میں کب۔کب کیاہوا؟

    آج سے 29 سال پہلے ایودھیا میں کار سیوا کے لیے پہنچنے والے ہزاروں لوگوں نے بابری مسجد کے متنازعہ ڈھانچے کو منہدم کردیا۔

    آج سے 29 سال پہلے ایودھیا میں کار سیوا کے لیے پہنچنے والے ہزاروں لوگوں نے بابری مسجد کے متنازعہ ڈھانچے کو منہدم کردیا۔

    آج سے 29 سال پہلے ہزاروں کی تعداد میں کارسیوک ایودھیا پہنچے تھے اور بابری مسجد کومنہدم کردیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ملک فرقہ وارانہ فسادات کا گواہ بھی بنا۔

    • Share this:
      Babri Masjid Demolition:ہندوستان 6 دسمبر کا دن تاریخ کے صفحات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آج سے 29 سال پہلے ہزاروں کی تعداد میں کارسیوک ایودھیا پہنچے تھے اور بابری مسجد کو منہدم کردیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ملک فرقہ وارانہ فسادات کا گواہ بھی بنا۔ اس کے بعد ایودھیا بھارت میں ہندو مسلمان کے درمیان کی سب سے بڑے تنازع کی وجہ بن گیا۔ یہ تنازع کافی طویل عرصے تک چلا اور پھر 9 نومبر 2019 کو اس پر سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ آیا، جس میں ایودھیا میں پوری 2.77 ایکڑ کی متنازع زمین کو رام مندر کے لئے دے دی گئی۔ اس کا یہ تنازع کئی دہائیوں بعد 2019 میں ختم ہوا۔ ایسے میں آج جانتے ہیں کہ آخر یہ تنازع کب شروع ہوا تھا اور اس معاملے میں کب، کیا کیا ہوا۔۔۔۔

      - سال 1528 میں مغل حکمراں بابر کے کمانڈر میر باقی نے بابری مسجد کی تعمیر کروائی تھی۔ حالانکہ، الزام لگایا جاتا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر ہندو بھگوان رام کے جائے پیدائش کے مقام پر تعمیر کروائی گئی تھی۔

      - تنازع کی شروعات ہوئی سال 1853 سے جب نرموہی اکھاڑا نے بابری مسجد کی زمین پر دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جس مقام پر مسجد کھڑی ہے، وہاں ایک مندر ہوا کرتا تھا۔ اس دعوے کے ساتھ ہی تشدد بھی ہوا۔ بعد میں سال 1859 میں برطانوی حکمرانوں نے متنازع مقام میں مسلمانوں کو عبادت اور باہری حصے میں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دے دی۔

      - سال 1885 میں معاملہ پہلی بار عدالت پہنچا اور مہنت رگھوبیر داس نے فیض آباد ضلع عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے متنازع جگہ کے باہر چھتری کی تعمیر کی اجازت مانگی۔ عدالت نے یہ درخواست خارج کردی۔

      - 1949 میں متنازع ڈھانچے کے باہر مرکزی گنبد میں لارڈ رام کی مورتیاں نصب کی گئیں۔ اس سے مسلم طبقہ ناراض ہوگیا اور دونوں فریقین نے عدالت میں مقدمہ درج کردیا اور اس متنازع مقام کو قفل لگادیا گیا۔


      - اس کے بعد فریقین نے عدالت میں پوجا کی اجازت مانگنے کی اپیل کی۔ اس کے بعد فروری، 1986 میں مقامی عدالت نے حکومت کو پوجا کے مقصد سے ہندو بھکتوں کے لئے مقام کھولنے کا حکم دیا۔ مسلمانوں نے اس کی مخالفت میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی۔

      - 14 اگست، 1989 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازع مقام سے متعلق حالات جوں کا توں بنائے رکھنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد وشوا ہندو پریشد کا بی جےپی نے ساتھ دیا اور ایک رتھ یاترا بھی نکالی۔ بی جے پی کے سابق صدر لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ سے اُترپردیش کے ایودھیا تک یہ رتھ یاترا نکالی تا کہ ہندوؤں کو اس اہم مدعے سے واقف کروایا جاسکے۔

      - 31اکتوبر 1992 کو منعقد کی گئی ایک دھرم سنسد میں کارسیوا کا اعلان کیا گیا۔
      - 6دسمبر کو ہزاروں کی تعداد میں کارسیوکوں نے ایودھیا پہنچ کر بابری مسجد کو مسمار کردیا۔ اس کے بعد ہی پورے ملک میں فرقہ وارانہ فساد ہونے لگے۔

      - 16 دسمبر 1992: مسجد منہدم کیے جانے کی جانچ کے لئے لبراہن کمیشن بنا اور جانچ شروع کی گئی۔

      - سال 1994 میں الہ آباد ہائی کورٹ میں کیس شروع ہوا۔

      -ستمبر 1997 میں مسجد منہدم کیے جانے کو لے کر 49 لوگ قصوروار قرار دئیے گئے۔ اس میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی سمیت بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈروں کے نام بھی شامل تھے۔

      -اپریل، 2002 میں ہائی کورٹ میں متنازع مقام کے مالکانہ حق کو لے کر سماعت شروع ہوئی۔

      - 9مئی، 2011: سپریم کورٹ نے ایودھیا زمین تنازع میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگائی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 14 اپیل داخل ہوئیں۔

      - مارچ، 2017 میں سی جے آئی جے ایس کیہر نے متعلق فریقین کے درمیان عدالت کے باہر حل تلاش کرنے کی تجویز دی۔

      - ستمبر 2017 میں الہ آھباد ہائی کورٹ کے 2010 کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے 32 انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں نے درخواست دائر کی۔

      -29 اکتوبر، 2018: سپریم کورٹ نے معاملے کی جلد سماعت پر انکار کرتے ہوئے کیس جنوری 2019 تک کے لئے ملتوی کردیا۔
      - 9نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے ایودھیا میں پوری 2.77 ایکڑ متنازع زمین رام للا کو دی۔ مرکزی اور اُترپردیش حکومت کو مسجد کی تعمیر کے لئے کسی اہم مقام پر 5 ایکڑ زمین مسلمانوں کے لئے دینے کا بھی حکم دیا۔

      -5 فروری، 2020 کو وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے 15 رکنی نیاس کا اعلان پارلیمنٹ میں کیا۔

      - 5 اگست 2020 کو وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں بھومی پوجن کے بعد رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔

      آج سے 29 سال پہلے ایودھیا میں کار سیوا کے لیے پہنچنے والے ہزاروں لوگوں نے بابری مسجد کے متنازعہ ڈھانچے کو منہدم کردیا۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: