ہوم » نیوز » Explained

Corona Variants & Double Mutant:مہاراشٹر کے’ڈبل میوٹنٹ‘کے بعداب مغربی بنگال میں کورونا کی نئی قسم’ایمون ایسکیپ‘کاانکشاف

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں B.1.617 کے بعد ’’نیو میوٹنٹ ویرینٹ‘‘ (new mutant variant) جینوم کی ترتیب (genome sequencing) کے لئے حاصل کیے گئے نمونوں میں سے 60 فیصد سے زیادہ کیسوں میں پایا گیا ہے۔ اس کے بعد اب کورونا کی ایک اور نئی قسم B.1.618 مغربی بنگال میں نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔

  • Share this:
Corona Variants & Double Mutant:مہاراشٹر کے’ڈبل میوٹنٹ‘کے بعداب مغربی بنگال میں کورونا کی نئی قسم’ایمون ایسکیپ‘کاانکشاف
علامتی تصویر

ہندوستان میں گذشتہ کئی دنوں سے کورونا وائرس (Covid-19) کی بھیانک ہوتی صورت حال میں مزید اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ گذشتہ سال کورونا کا مطلب تو کورونا ہی تھا۔ لیکن اب کورونا کی کئی بھیانک اور دردناک اقسام بھی سامنے آتی جارہی ہیں۔لندن، جنوبی افریقہ، برازیل اور امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی کورونا کی نئی اقسام کا انکشاف کیا گیا ہے۔ کورونا کی ان تغیر پذیر اقسام میں نہایت درجہ کی شدت ہے۔ جس سے یہ وائرس بہت جلد اور بہت تیزی کے ساتھ ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا جارہا ہے۔ یوں کورونا کی یہ اقسام پورے سماج میں تحلیل ہوکر لوگوں کو متاثر کررہی ہیں۔ اب ہندوستان بھی ان اقسام کے قہر سے نہیں بچ سکا۔ یہاں بھی کورونا کی نئی اقسام اور ’ڈبل میوٹنٹ‘ (Double Mutant) کے کیس سامنے آتے جارہے ہیں۔



B.1.618 کس بلا کا نام ہے؟

سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ ہندوستان میں B.1.618 نامی سارس کووی۔ 2 (SARS-CoV-2) کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں B.1.617 کے بعد ’’نیو میوٹنٹ ویرینٹ‘‘ (new mutant variant) جینوم کی ترتیب (genome sequencing) کے لئے حاصل کیے گئے نمونوں میں سے 60 فیصد سے زیادہ کیسوں میں پایا گیا ہے۔ اس کے بعد اب کورونا کی ایک اور نئی قسم B.1.618 مغربی بنگال میں نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔ جسے ایمون ایسکیپ (Immune Escape) کہا جارہا ہے۔

مدافعتی نظام پر سخت حملہ کررہے ہیں یہ اقسام:

انڈیا ٹوڈے کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں E484K سمیت مختلف قسم کے جینیاتی اقسام (genetic variants) کے ایک الگ سیٹ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام (immune system) کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔ دیگر وائرس کے مقابلہ میں اس وائرس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس وائرس کے حملے کے بعد انسان پہلے وائرس کے مقابلہ میں جلد سے جلد ایٹی باڈیز کو تیار کرلیتا ہے۔

وائرس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ B.1.618 مختلف قسم کے ابتدائی سلسلے مغربی بنگال میں پائے گئے۔ جہاں اس وقت ریاستی انتخابات کی گہما گہمی پورے عروج پر ہے۔ مزید یہ کہ اس سلسلہ کے افراد امریکہ، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور اور فن لینڈ کے علاوہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی پائے گئے ہیں۔

کورونا کی نئی قسم کا انکشاف سب سے پہلے کب ہوا تھا:

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کورونا کی تغیر پذیر قسم یا اس کی نئی شکل دنیا میں سب سے پہلے 22 اپریل 2020 کو ہندوستان کے باہر ایک نمونے میں پائی گئی۔ہندوستان میں کم از کم 129 کیسوں میں B.1.618 کی شناخت مغربی بنگال میں حاصل کیے گئے نمونوں میں ہوئی ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق فی الحال ہندوستان میں B.1.618 کیس دنیا کے کل کیسوں کے مقابلہ میں 62.5 فیصد پائے گئے ہیں۔عالمی سطح پر انفلوئنزہ سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے والا ادارہ GISAID (Global initiative on sharing all influenza data) کے مطابق ہندوستان میں B.1.618 کو کل کیسوں کا 12 فیصد بتایا گیا ہے۔ یہ پچھلے 60 دنوں میں تیسری سب سے عام قسم ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 21, 2021 10:08 PM IST