ہوم » نیوز » Explained

آئیسولیشن کی مدت ختم ہونے کے بعد کووڈ مریض ان باتوں کا رکھیں خاص خیال 

آئیسولیشن کی مدت ختم ہونے یا اسپتا؛ سے چھوٹنے کے بعد مریض فکر، کمزوری اور کھانسی کی شکایت بنی رہتی ہے۔ کووڈ سے آزاد ہونے کے بعد کی مدت کے بارے میں کئی سوالات ہیں۔ مثلا لوگ کس طرح کی زندگی اپنائیں؟ کس طرح کا کھانا لیں؟ کس طرح کا احتیاط انہیں برتنا ضروری ہے؟

  • Share this:
آئیسولیشن کی مدت ختم ہونے کے بعد کووڈ مریض ان باتوں کا رکھیں خاص خیال 
ملک میں کورونا ریکوری ریٹ 92.48 فیصد

آئیسولیشن کی مدت ختم ہونے یا اسپتا؛ سے چھوٹنے کے بعد مریض فکر، کمزوری اور کھانسی کی شکایت بنی رہتی ہے۔ کووڈ سے آزاد ہونے کے بعد کی مدت کے بارے میں کئی سوالات ہیں۔ مثلا لوگ کس طرح کی زندگی اپنائیں؟ کس طرح کا کھانا لیں؟ کس طرح کا احتیاط انہیں برتنا ضروری ہے؟ یہاں ہم انہیں باتوں کے بارے میں کچھ ضروری باتٰں بتا رہے ہیں تاکہ آپ ٹھیک ہو سکیں۔

جو مریض گھر میں ہی آئیسولیٹ ہوکر رہ رہے ہیں۔ وہ علامت کے ظاہر ہونے کے کم سے کم دس دنوں کے بعد علامت نہیں ہونے کیلئے جس دن نمونے لئے گئے اس کے بعد سے اور اگر گزشتہ تین دن سے بخار نہیں آرہا ہے تو آئیسولیشن ختم کرسکتے ہیں۔ اسپتال سے چھٹی ملنے کی بھی یہی شرائط ہیں۔ گھر پر آئیسولیشن کی مدت کے ختم ہونے کے بعد جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔

ہردن آکسیمیٹر سے آکسیجن سے سیجوریشن کو ناپنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کمرے کی ہوا پر 94 کے لیول پر بنا رہے

مریض کو یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ اس کی کھانسی بگڑے نہیں اور سانس لینے میں اسے کوئی تکلیف نہیں ہو۔

جسم کا درجہ حرارت ہر دن چیک کرنا چاہئے۔


سستی یا نیند میں کمہ کوئی بھی ایسی تبدیلی آنے کی بات پر غور کرتے رہنا چاہئے۔
جس مریض کو شوگر ہے ان کو نظر رکھنی چاہئے۔ کووڈ جسم میں خون کے بہاؤ کو بدل دیتا ہے۔ تین دن میں ایک بار اس کی جانچ اور ڈاکٹر سے باقاعدہ طور پر رابطے میں رہنا ضروری ہے۔
ایسے شخص جو ہائیپر ٹینشن کے شکار ہیں ان کو اپنے بلڈ پریشر پر نظر رکھنی چاہئے اور ایسی کسی بھی بات سے دور رہنی چاہئے ۔
اپنے جسم کی آکسیجن کی ضرورت کو کم کرنتے کیلئے پوری طرح آرام کریں۔
پانی، ناریل پانی، پھلوں کا رس، سوپ اور تربوز، خربوزہ وغیرہ پھل زیادہ کھائیں۔ یاد رکھیں کہ آپ جتنا پانی پئیں گے اتنے ہی جلدی ٹھیک ہوں گے۔
ایسی چیزیں زیادہ لیں جس میں پروٹین ہو، جیسے دودھ، پنیر، مونگ پھلی، دال، انڈے اور مانس وغیرہ۔۔
سانس سے متعلق، یوگ پر دھیان دیں راکہ آپ سکون سے رہ سکیں۔
ضرورت سے زیادہ ورک آؤٹ نہ کریں اس سے زیادہ آکسیجن کی مانگ بڑھے گی۔ آرام کریں تاکہ آپ کےے جسم میں آکسیجن کی مانگ کم ہوگی۔
اسپتال سے چھوٹنے کے ساتھ دن کے اندر ڈاکٹرس سے رابطہ کریں یا اگر اسپتال سے باہر آنے پر بخار ، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔
اگر ڈاکٹر اس کی صلاح دیتا ہت رو پہلے اور اس کے بعد کے فالو اپ پر سی بی سی کرائیں۔

اگر ڈاکٹر سجھاؤ دیتا ہے تو وائرس کے بعد آپ کے پھپھڑے کے ٹھیک ہونے کی رفتار اور اس میں وائرس کی حد پتہ لگانے کیلئے تین ماہ بعد چھاتی کا سی ٹی اسکین (CT scan) دوبارہ کرائیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 28, 2021 09:42 PM IST