ہوم » نیوز » Explained

Explained: انٹرنیٹ کی وہ اندھیری دنیا جہاں پونو گرافی سے لیکر ہوتے ہیں یہ غلط کام، اب کورونا کے فرضی سرٹیفکیٹ بھی یہاں بکنے لگے

ڈارک نیٹ (dakr-net) پر نہ صرف کووڈ ویکسین ہے بلکہ فرضی سرٹیفکیٹ ( covid 19 fake certificate) بھی فروخت ہورہے ہیں۔ مختلف ممالک کے ویکسین کے اشتہار یہاں ملیں گے، جن کی قیمتیں الگ۔الگ ہیں۔ ڈارک ویب کے ذریعے جس کام سے آپ جڑ رہے ہیں وہ غیر قانونی ہوسکتا ہے۔ جیسے کسی کے کریڈٹ کارڈ کا پاس ورڈ لینا ، منشیات کی خریدو فروخر سے جڑنا یا پونو گرافی میں شامل ہو جانا۔ اب کورونا وائرس وبا نے مجرموں کو ایک نیا موقع دے دیا ہے۔

  • Share this:
Explained: انٹرنیٹ کی وہ اندھیری دنیا جہاں پونو گرافی سے لیکر ہوتے ہیں یہ غلط کام، اب کورونا کے فرضی سرٹیفکیٹ بھی یہاں بکنے لگے
اب کورونا وائرس وبا نے مجرموں کو ایک نیا موقع دے دیا ہے۔

کورونا کے معاملات میں اچانک اضافے نے ایک بار پھر ممالک میں تشویش پیدا کردی ہے۔ اس درمیان تیزی سے چلنے والی ویکسینیشن مہم میں کے درمیان ایک نیا مسئلہ دکھائی دے رہا ہے۔ در اصل انٹرنیٹ فرضی کورونا سرٹیفکیٹ پر بیچے جا رہے ہیں تاکہ جو لوگ ویکسین سے خوفزدہ ہیں وہ بغیر کسی ویکسینیشن (Covid 19 Vaccination) کے ہی انٹرنیشنل سفر کرسکیں یا معمول روٹین پر لوٹ سکیں۔ سائبر سیکیورٹی ڈارک نیٹ (dakr-net) کے اس خطرے کو لیکر کافی ڈری ہوئی ہے۔

مشکلات کے درمیان سائبر حملہ

کورونا وائرس وبا نے سال بھر میں پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح کچل دیا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے اب ویکسینیشن کو واحد راستہ سمجھا جارہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں اینٹی باڈیز بننے کے بعد بڑی آبادی ہرڈ امیونٹی آجائے گی۔ اس سے وائرس کا گراف اپنے آپ نیچے ہوتے ہوئے ختم ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممالک ایک دوسرے سے ویکسین خرید کر تیزی سے ویکسینیشن ڈرائیو چلا رہے ہیں۔ دوسری طرف سائبر کرمنلز نے اس میں بھی کھوج لیا۔

کیا کیا بیچا جا رہا ہے یہاں۔۔

ڈارک نیٹ (dakr-net)  پر نہ صرف کووڈ ویکسین ہے بلکہ فرضی سرٹیفکیٹ  ( covid 19 fake certificate) بھی فروخت ہورہے ہیں۔ مختلف ممالک کے ویکسین کے اشتہار یہاں ملیں گے، جن کی قیمتیں الگ۔الگ ہیں۔ فی الحال  اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ چپکے سے فروخت ہونے والی یہ ویکسینیں بھی اصلی ہے یا نہیں۔ ایسے میں اگر لوگ ویکسین لیتے بھی ہیں تو نقلی ویکسین کی وجہ سے انہیں بیماری کا خطرہ لاحق ہوجائے گا۔


vaccine certificate darknet
اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ چپکے سے فروخت ہونے والی یہ ویکسینیں بھی اصلی ہے یا نہیں۔ (Photo- news18 English via AP)


سرٹیفکیٹ بھی فروخت
اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ  ڈارک نیٹ (dakr-net) پر کوارڈ ویکسینیشن کے فرضی سرٹیفکیٹ ( covid 19 fake certificate) فروخت ہورہے ہیں۔ اس  کا اندیشہ پہلے ہی لگایا جا چکا تھا کہ ویکسین لینے کو ناپسند کمیونٹی کیلئے  سائبر کرمنل  ایسا کرسکتے ہیں  وہ اینٹی ویکسر (ویکسین کے خلاف کھڑے لوگوں) کے جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی کاغذ بیچ رہے ہیں۔
اینٹی ویکرز کو ایسے لبھایا جا رہا ہے
کئی بیچنے والوں  نے دعوی کیا ہے کہ وہ کویڈ ۔19 ٹیسٹ کی فرضی رپورٹ دے سکتے ہیں۔ وہ دعوی ہے کہ بیرون ملک جانے والوں کے لئے یا ملازمت کے لئے درخواست دینے والوں کے لئے  وہ منفی کوڈ ٹیسٹ کی رپورٹ دیتے ہیں۔ دو منفی ٹیسٹ رپورٹس خریدیں اور ایک رپورٹ  مفت حاصل کریں۔ بتادیں  کہ جتنے بھی انٹرنیشنل ٹریول شروع ہوئے ہیں اس میں  کووڈ نگیٹو یا ویکسینیشن کی رپورٹ طلب کی جارہی ہے۔ مجرم اس کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ کلائنٹ کو صرف اپنا نام ، شناخت کے لئے ایک کوئی آئی ڈی اور وہ تاریخ بتانی ہوتی ہے ہے جس میں وہ خود کو ویکسین لگی دکھانا چاہتے ہیں۔

راجستھان میں جے پور کے ضلع کلکٹر انترسنگھ نہرا نے کہا ہے کہ ایئرلائنس کو اپنے مسافروں کو اطلاع دے کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ طیارے میں کوئی بھی مسافر بغیر آرٹی پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ (RTPCR test negative report) کے بغیر داخل نہ ہو۔ کورونا وائرس وبا (Corona era)کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ضلع کلکٹر انترسنگھ نہرا نے آج جے پور ہوائی اڈے پر مختلف ایئرلائن کمپنیوں کے نمائندوں کی میٹنگ میں کہا کہ اگرکوئی بھی مسافر بغیر 72 گھنٹے کے اندر کرائے گئے آرٹی پی سی آر RTPCR ٹیسٹ کی کووڈ منفی رپورٹ کے ساتھ طیارے میں داخل ہوتا ہے تو اسے جے پور ہوائی اڈے پر سیمپل لیکر ضوابط کے مطابق 15 دن کے لئے کوارنٹائن کردیا جائے گا۔

انہوں نے اس نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام عمر کے مسافروں، چارٹرڈ فلائٹ سے آنے والے مسافروں کے لئے بھی منفی ٹیسٹ رپورٹ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ایئرلائنس کمپنیاں یکم اپریل کے بعد سفرکرنے والے اپنے 45 سال سے زیادہ عمرکے مسافروں کو کووڈ ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی ایئرپورٹ پر 500 سے 700 کورونا سیمپل لیکرٹیسٹنگ (coronavirus test )کی جارہی ہے۔ ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر جے ایس بلہارا نے بھی ایئرلائنس کمپنیوں کے نمائندوں سے کووڈ سے متعلق پروٹوکال پر عمل کروانے کی اپیل کی۔ اگر کوئی بھی مسافر 72 گھنٹے کے اندر کرائے گئے۔ آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کی کووڈ نگیٹو کے بغیر طیارے میں چڑھتا ہے تو اسے جے پور ہوائی اڈے پر سیمپل لیکر قانون کے مطابق 15 دن کیلئے آن بورڈ نہیں کردیا جائے گا۔

کورونا ویکیسین لینے والوں کو دی جاسکتی ہے چھوٹ
انترسنگھ نہرا نے جے پور ہوائی اڈے پر ٹرمینل 1 پر مختلف طیارہ کمپنیوں کے نمائندوں کی میٹنگ میں کہا کہ سبھی عمر کے مسافروں، چارٹرڈ فلائٹ سے آنے والے مسافروں کیلئے بھی کورونا رپورٹ کا منفی (coronavirus negative) ہونا لازمی ہے۔ ایک اپریل سے سبھی ایئر لائن کمپنیاں سفر کرنے والے اپنے 45 سال سے زیادہ عمر والے مسافروں کو کووڈ ویکسین لگوانے کیلئے بھی کہیں گی۔ اگر کسی نے کووڈ وکیسین کی دونوں ڈوز لگوا لی ہیں تو ممکن ہے کہ اس سے آنے والے وقت میں سفر کرنے کیلئے کورونا وائرس ٹیسٹ سے چھوٹ مل جائے۔
پہلے بھی آیا تھا ڈارک نیٹ (dakr-net) کا ذکر
کورونا کی پیک کے شروعات میں بھی دارکنیٹ کا نام اچھلا تھا۔ ایسے کئی معاملے ہیش آئے جن میں ڈارک نیٹ (dakr-net) پر مجرم کورونا سے صحت یاب ہوئے مریض کا خون اور ماسک، وینٹی لیٹر جیسی ضروری چیزیں تک بیچتے نظر آئے۔ Australian Institute of Criminology  ڈارک نیٹ پر اس خون کے غیر قانونی فروخت کا انکشاف کیا تھا۔ ساتھ ہی مجرم ماسک جیسی ضروری چیزیں اسپتال سے چراکر اونچی قیمت پر یہاں بیچتے رہے ہیں۔

vaccine certificate darknet
۔ Australian Institute of Criminology ڈارک نیٹ پر اس خون کے غیر قانونی فروخت کا انکشاف کیا تھا۔


کیا ہے ڈارک نیٹ اور یہ کیسے کرتا ہے کام۔۔
یہ انٹرنیٹ کی دنیا کی ایسی خفیہ دنیا ہے  جہاں صرف چند براؤزر کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے اور یہ سرچ انجن میں بھی نہیں آتا ہے۔ نیٹ کی یہ  خفیہ دنیا کافی پھیلی ہوئی ہے۔ سال 2015 میں  اس پر لندن کی کنگ یونیورسٹی نے 5 ہفتوں تک تحقیق کی۔ اتنے ہی دنوں میں 2،723 ڈارک ویب سائٹس کا پتہ چلا۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات خراب ہوتے چلے گئے۔

تیزی سے بڑھ رہی ہے مجرموں کی تعداد
سال 2019 کی ایک تحقیق ، جو یونیورسٹی آف سرے کے ڈاکٹر مائیکل میک گروس نے کیا تھا ، اس میں بہت سی چیزیں سامنے آئیں۔ جیسے سائبر کرمنلس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد اور  غلط کاموں کی نوجوانوں کا بڑھتا رجحان۔ Tor Internet کے ذریعے مسلسل دنیا بھر کے لوگوں اس سے جڑنے لگے ہیں جن کے دماغ میں کسی قسم کی خرافات رہتی ہے۔

کیا چلتا ہے انٹرنیٹ کی اس اندھیری دنیا میں۔۔۔
ڈارک نیٹ پر مجرم  کریڈٹ کارڈ خریدتے ہیں اور لاکھوں کا چونا لگا جاتے ہیں۔ یہاں دنیا کی کسی بھی قسم کی نشہ مل سکتا ہے، یہاں کمپیوٹر اورکئی طرح  کے اکاؤنٹس ہیک کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں  ہیکرس بھی پائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ لائف ٹائم نیٹ فلکس پریمیم اکاؤنٹ بھی خریدا جاسکتا ہے ، جو یہاں چوری کے ذریعہ دستیاب ہے۔

ڈارک ویب کی دنیا اپنے آپ میں کافی پر اسرار ہے۔ اس کا استعمال خود میں غیر قانونی نہیں ہے کیونکہ گمنام رہنے کے بعد بھی  آپ کے پاس انکرپشن ہوتا ہے لیکن  ڈارک ویب کے ذریعے جس کام سے آپ جڑ رہے ہیں وہ غیر قانونی ہوسکتا ہے۔ جیسے کسی کے کریڈٹ کارڈ کا پاس ورڈ لینا ، منشیات کی خریدو فروخر سے جڑنا یا پونو گرافی میں شامل ہو جانا۔ اب کورونا وائرس وبا Covid-19 pandemic نے مجرموں کو ایک نیا موقع دے دیا  ہے۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 30, 2021 10:55 AM IST