உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’دادا‘نہیں پارٹنر کی طرح بات۔۔۔ روس-یوکرین جنگ کے درمیان مودی-بائیڈن کی میٹنگ کے کیا ہیں معنی؟جانیے تفصیل

    وزیراعظم مودی اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ہوئی اہم ورچول میٹنگ۔

    وزیراعظم مودی اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ہوئی اہم ورچول میٹنگ۔

    امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ بھی مشہور ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں چین نے خطے کے تمام ممالک کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ان میں آسٹریلیا اور جاپان بھی شامل ہیں۔

    • Share this:

      Highlights





      • مودی اور بائیڈن نے روس-یوکرین جنگ کے درمیان پیر کو ورچوئل میٹنگ کی۔

      • بائیڈن نے واضح کیا، امریکہ ہندوستان کو ایک اہم پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے۔

      • امریکہ اور روس ہندوستان کو اپنی طرف کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔



      نئی دہلی: PM Modi-Joe Biden Virtual Meeting:روس اور یوکرین کے درمیان جنگ (Russia-Ukraine War) شروع ہوئے 47 دن گزر چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ کوئی نہیں جانتا۔ تاہم اس جنگ نے دنیا کی سیاسی مساواتیں پلٹ کر رکھ دی ہیں۔ امریکہ اور مغرب یوکرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے روس کو سبق سکھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان ممالک نے روس پر پابندیوں (Sanctions on Russia) کی بارش کر دی ہے۔ امریکہ ان کی قیادت کر رہا ہے۔ ہندوستان ان ممالک میں سے ایک ہے جو اس سارے معاملے میں غیر جانبدار(Neutral Stand of India) رہا۔ یعنی اس نے امریکہ یا روس میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا۔ ساتھ ہی امریکہ اور روس دونوں چاہتے ہیں کہ ہندوستان اس کے ساتھ کھڑا نظر آئے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی(Narendra Modi) کے ساتھ ورچوئل میٹنگ (Virtual Meeting) کی۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ ملاقات بائیڈن کی پہل پر ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں امریکی صدر نے 'دادا' نہیں بلکہ ساتھی کی طرح بات کی۔ یہ ملاقات کئی حوالوں سے اہم ہے۔ آئیے، اسے سمجھتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      India-Pakistan: پی ایم مودی نے پاک کے نئے پی ایم کو دی مبارکباد ،ٹوئٹ کرکے کہی یہ باتیں

      یہ میٹنگ ورچول ہوئی اور پوری دنیا نے دیکھا کہ دو بڑی ریاستوں کے سربراہان کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں۔ میٹنگ میں پی ایم مودی نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی بات رکھی۔ دو ٹوک الفاظ میں انہوں نے کہا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان امن چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی طرف سے کوششیں بھی کیں۔ انہوں نے جنگ میں ملوث دونوں ممالک کے صدور کو فون کیا اور کہا کہ وہ ایک دوسرے سے بات کریں۔ انہوں نے بوچا میں بے گناہ لوگوں کے قتل پر بھی تنقید کی اور اسے تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے امن کا راستہ تلاش کرلیں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      یوکرین کو ملے گا نیا سہارا: EUچیف بوچا پہنچی، کہا-یوروپی یونین میں کیو کاانتظارجلدہوگا ختم

      جیسا کہ توقع تھی، امریکی صدر نے یوکرین میں انسانی بحران پر ہندوستان سے تعاون کی توقع ظاہر کی۔ انہوں نے روسی حملوں کا شکار ہونے والے یوکرین کے لوگوں کو امدادی سامان فراہم کرنے کے لیے ہندوستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ یہ بھی کہا کہ دونوں مستقبل میں بھی اس معاملے پر بات کرتے رہیں گے۔

      امریکہ-ہندوستان دنیا کے دو سب سے بڑی اور پرانی جمہوریت
      میٹنگ کا ٹون غور کرنے والا تھا۔ پوری میٹنگ میں پی ایم مودی کی باڈی لینگویج بالکل مثبت رہی۔ ان کے پیغام کی گہرائی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ ہندوستان کو ایشیا پیسفک خطے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ہندوستان جب امن کی بات کرتا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان دنیا کی دو بڑی اور قدیم ترین جمہوریتیں ہیں۔ امریکہ کی طرف ہندوستان کے نہ نظر آنے سے روس کے خلاف امریکہ کا نظریہ کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ ہندوستان آمرانہ قوتوں کے ساتھ زیادہ طاقتور نظر آئے۔ پوری مغربی دنیا پوتن کو ایک تاناشاہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

      امریکہ سمجھتا ہے ہندوستان کی مجبوری
      روس کے ساتھ ہندوستان کے پرانے تعلقات ہیں۔ وہ ہر مشکل میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا رہا۔ یوکرین کی جنگ کے بعد بھی ان تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ البتہ اس میں اور زیادہ مضبوطی آگئی ہے۔ امریکہ کو ہٹا کر روس ہندوستان کے ساتھ روپیہ-روبل میں تجارتی آپشن بنانے میں مصروف ہے۔ چین پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ روس کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا۔ اگر ایشیا کی دو بڑی معیشتیں روس کے ساتھ تجارت جاری رکھتی ہیں تو مغربی پابندیوں کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے۔ تاہم ان کے پاس ہندوستان سے ناراض ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کوئی بھی باشعور ملک سب سے پہلے اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ وہ ہندوستان اور روس کے تعلقات سے بخوبی واقف ہیں۔ ایسے میں امریکہ کی بھی مجبوری ہے کہ وہ توازن برقرار رکھے۔

      چین پر لگام لگانے کے لئے ہندوستان کا ساتھ ضروری

      ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ ایشیا پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے تسلط کو دیکھ رہا ہے۔ وہ اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں کو بھی سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ بھی مشہور ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں چین نے خطے کے تمام ممالک کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ان میں آسٹریلیا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ سری لنکا جیسے ممالک نے چین کے قرضوں کے جال میں پھنس کر خود کو برباد کر لیا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ہندوستان ہی چین کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتا ہے۔ ہندوستان نے گلوان کی جھڑپ میں بھی یہ کرکے دکھایا ہے۔ ایسے میں امریکہ بھی ہندوستان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ ان کی جانب سے وزیراعظم سے ملاقات کی پہل کرنا اس کا ثبوت ہے۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: