உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine کے پاس بائیولاجیکل ہتھیار؟ روس کا وہ دعویٰ جس سے پھیلا ڈر، کیا ہیں ثبوت؟ بائیڈن انتظامیہ کی صفائی اور سچائی

    یوکرین کے پاس بائیولاجیکل ہتھیار؟ روس کا وہ دعویٰ جس سے پھیلا ڈر، کیا ہیں ثبوت؟ (تصویر: دا ٹیلی گراف)

    یوکرین کے پاس بائیولاجیکل ہتھیار؟ روس کا وہ دعویٰ جس سے پھیلا ڈر، کیا ہیں ثبوت؟ (تصویر: دا ٹیلی گراف)

    مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا مقصد کسی حیاتیاتی ہتھیاروں کی دریافت یا تیاری کو ظاہر کرنا نہیں ہے لیکن روس ان الزامات کے بہانے یوکرین پر حیاتیاتی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ روس پر پہلے ہی اپنے دشمنوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام ہے۔

    • Share this:
      کیو: روس نے یوکرین پر امریکا کی مدد سے حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اس کے لیے روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا۔ تاہم امریکا نے واضح کیا ہے کہ روس یو این ایس سی کے پلیٹ فارم کو دنیا بھر میں اپنا جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس سارے تنازع کے درمیان ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ روس کے الزامات کیا ہیں اور اس نے ان الزامات کے حوالے سے کیا ثبوت پیش کیے ہیں۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ حیاتیاتی ہتھیار کتنے خطرناک ہیں اور یوکرین امریکہ نے ان کے حوالے سے کیا بیان جاری کیا ہے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جب بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے، امریکیوں نے اس کے بالکل برعکس دعوے کیے ہیں۔

      پہلے جانیں-کیا ہیں حیاتیاتی ہتھیار؟
      حیاتیاتی ہتھیار روایتی ہتھیاروں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان میں کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا لیکن ان میں ایسے بیکٹیریا، وائرس اور زہریلے مادے ہوتے ہیں، جو دھماکہ خیز مواد سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ کہیں بھی حیاتیاتی حملہ لوگوں کو شدید بیمار کر دیتا ہے اور اگر اس حملے کی شدت زیادہ ہو تو لوگ مر بھی جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسم پر اس حملے کے بہت خوفناک اثرات ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگ معذوری اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیار بہت کم وقت میں بہت بڑے علاقے میں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار براہ راست دشمن پر فائر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ کسی نہ کسی ذریعے سے ایک سے دوسرے تک پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی یہ ہوا، زمین اور پانی کے ذریعے ایک بڑی آبادی میں بھی پھیلائے جاسکتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جنگ کا چاہے کچھ بھی ہو انجام، ہم نہیں کریں گے ایٹمی حملہ‘ Russiaنے کردی وضاحت

      روس کا کیا ہے بیان، کون سے ثبوت ملنے کی بات کہی؟
      گزشتہ ہفتے اتوار کو روس کی وزارت خارجہ نے ایک ٹویٹ میں الزام لگایا تھا کہ امریکہ اور یوکرین کی حکومت مشترکہ طور پر ملٹری بائیولوجیکل ہتھیاروں کا پروگرام چلا رہی ہے۔ ماسکو نے دعویٰ کیا کہ یوکرین پر حملہ کرنے والی فوج نے جنگ کے دوران ہی ہنگامی حالت میں پروگرام کو چھپانے کے شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ روس نے دعویٰ کیا کہ اسے یوکرین کے شہروں خارکیف اور پولٹاوا میں امریکا کی جانب سے چلائی جانے والی انٹیلی جنس لیبارٹریوں سے متعلق دستاویزات بھی ملے ہیں۔

      یو این ایس سی میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ ہم نے امریکی وزارت دفاع کے تعاون سے کیو حکومت کے فوجی حیاتیاتی پروگرام کے انعقاد کا سراغ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی دستاویزات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین میں 30 حیاتیاتی لیبارٹریوں کا نیٹ ورک موجود تھا جہاں طاعون، اینتھراکس، ہیضہ اور دیگر مہلک بیماریوں کے پیتھوجینک خصوصیات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی خطرناک حیاتیاتی تجربات کیے جا رہے تھے۔

      روس کے دعووں کو اب تک کس کا ملا سپورٹ؟
      جمعہ کو ہونے والی یو این ایس سی کی میٹنگ میں یہ معاملہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا جب چین نے روس کے دعووں کی حمایت کی۔ اس کے بعد ہیش ٹیگ US Biolabs ٹویٹر پر کافی ٹرینڈ کرنے لگا۔ یہاں تک کہ امریکی دائیں بازو کی تنظیموں اور کیونن جیسے دھڑوں نے کریملن کے الزامات کی حمایت میں ٹویٹ کیا اور امریکہ کی بائیڈن حکومت سے سوال کیا۔ یہاں تک کہ پوڈ کاسٹ اور فاکس نیوز کے پرائم ٹائم شو کے میزبان ٹکر کارلسن نے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن کے پوڈ کاسٹ پر، ان دعوؤں کی حمایت کی اور اپنی ہی حکومت پر سوال اٹھائے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War:روس کے حق میں UAE کے وزیر توانائی کا بیان، کہا-’روس کا متبادل نہیں‘

      امریکہ اور یوکرین کا کیا ہے دعویٰ؟
      اس معاملے پر اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ لنڈا گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ 'امریکہ میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کے روسی منصوبے کو چھپانے کے لیے سلامتی کونسل کے فورم کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔' لنڈا نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کوئی بھی بہانہ تلاش کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں ہماری حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے۔ لنڈا نے کہا کہ روس حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگا کر پس پردہ نسل کشی کا جواز پیش کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے سفیر سرگئی کیسیلتسیا نے روس کے الزامات پر کہا کہ روس کی طرف سے لگائے جانے والے یہ الزامات پاگل پن سے بھرے جھوٹوں کا پلندہ ہیں۔

      بائیڈن انتظامیہ کے بیان سے گہرایا اپوزیشن کا شک؟
      نیولینڈ کے اس بیان سے امریکہ کے رائٹ ونگ آرگنائزیشن سرگرم ہوگئے ہیں۔ زیادہ تر ٹرمپ حامیوں کا ماننا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا بیان حیاتیاتی ہتھیار بنانے میں امریکہ یوکرین کی ملی بھگت کا ثبوت ہے۔

      کیا ہے یوکرین میں امریکی تعاون سے چلنے والے بائیو لیبس کی تاریخ؟
      تاہم، اگر ہم یوکرین کی بائیو لیبز کو فنڈز فراہم کرنے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکا یوکرین اور کچھ ایسے ممالک کو رقم بھیجتا رہا ہے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے سوویت یونین کا حصہ تھے۔ امریکی حکومتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فنڈنگ ​​کے ذریعے ہی وہ ممالک کی سائنسی مہارتیں حاصل کرتی ہے اور ان کے ہتھیاروں کے پروگراموں کو صحت عامہ کے پروگراموں میں تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ پروگرام پہلے کوآپریٹو تھریٹ ریڈکشن (CTR) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لیکن اب اسے بائیولوجیکل انگیجمنٹ پروگرام کہا جاتا ہے۔

      کیا یوکرین کی Labs میں خطرناک فوسل بھی موجود ہے؟
      یوکرین کی لیبز میں خطرناک فوسلز کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اسکالر ڈاکٹر گیگی گرنوال کے مطابق، یوکرین میں زیادہ تر لیبارٹریز جانوروں کی بیماریوں اور انتہائی خطرناک بیماریوں (جیسے افریقی سوائن فیور) کی نگرانی کرتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان بائیو لیبز میں خطرناک پیتھوجینز یعنی جرثوموں کی موجودگی یقینی ہے۔ اس وجہ سے عالمی ادارہ صحت یوکرین سے بھی اپیل کر رہا ہے کہ وہ لیبارٹریوں میں موجود خطرناک جرثوموں کو ختم کرے کیونکہ روسی حملے کی زد میں آکر کوئی بھی جراثیم خطرناک طور پر پھیل کر بیماریاں پھیلا سکتا ہے۔ خود ڈبلیو ایچ او نے بھی یوکرین میں ان بائیو لیبز کو چلانے سے لے کر ان کی حفاظت تک طویل عرصے تک مدد کی ہے۔

      اگر روس کا دعویٰ غلط ہے تو اس سے یوکرین-امریکہ کو ڈر کیوں؟
      مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا مقصد کسی حیاتیاتی ہتھیاروں کی دریافت یا تیاری کو ظاہر کرنا نہیں ہے لیکن روس ان الزامات کے بہانے یوکرین پر حیاتیاتی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ روس پر پہلے ہی اپنے دشمنوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام ہے۔ پوتن حکومت پر الزام ہے کہ اس نے برطانیہ میں اپنے ایک سابق جاسوس اور پھر روسی حکومت کے واضح مخالف الیکسی ناوالنی کو کیمیکل دے کر مارنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ روس نے بھی شام کی اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی حمایت کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: