உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: ٹی وی اور او ٹی ٹی پر آئی پی ایل دکھا کر 45 ہزار کروڑ کمائے گا بی سی سی آئی، جانئے کیسے؟

    Explained: ٹی وی اور او ٹی ٹی پر آئی پی ایل دکھا کر 45 ہزار کروڑ کمائے گا بی سی سی آئی، جانئے کیسے؟ (Twitter/IPL)

    Explained: ٹی وی اور او ٹی ٹی پر آئی پی ایل دکھا کر 45 ہزار کروڑ کمائے گا بی سی سی آئی، جانئے کیسے؟ (Twitter/IPL)

    IPL Broadcasting Rights : بی سی سی آئی نے منگل کو آئی پی ایل سیزن 2023-2027 کے میڈیا حقوق کے لیے ٹینڈر جاری کردئے ۔ آئی پی ایل کے میڈیا رائٹس کی ای نیلامی 12 جون سے شروع ہوگی ۔

    • Share this:
      بی سی سی آئی نے منگل کو آئی پی ایل سیزن 2023-2027 کے میڈیا حقوق کے لیے ٹینڈر جاری کردئے ۔ آئی پی ایل کے میڈیا رائٹس کی ای نیلامی 12 جون سے شروع ہوگی ۔ مانا جارہا ہے کہ آئی پی ایل 2023-2027 کے میڈیا یا نشریاتی حقوق بیچ کر بی سی سی آئی کو 45,000 کروڑ روپے کی بھاری قیمت مل سکتی ہے، کیونکہ اس مرتبہ وہ ٹی وی اور او ٹی ٹی پر میچ دکھانے کے حقوق الگ الگ فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اسٹار کے ساتھ ساتھ کئی کمپنیاں بھی آئی پی ایل میڈیا رائٹس خریدنے کی دوڑ میں شامل ہیں ، جو ان رائٹس کیلئے ایک نیا مقابلہ پیدا کر سکتی ہیں ۔ فی الحال آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق اسٹار اسپورٹس کے پاس ہیں، جو 2022 کے سیزن کے ساتھ ختم ہورہا ہے ۔

      آئیے جانتے ہیں کہ آئی پی ایل کے اگلے 5 سیزن کیلئے میڈیا رائٹس سے بی سی سی آئی کو کس طرح ہزاروں کروڑ کا فائدہ ہو سکتا ہے؟ کون سی کمپنیاں اس دوڑ میں شامل ہیں؟ دنیا میں سب سے مہنگے نشریاتی حقوق والی اسپورٹس لیگ کون سی ہیں؟

       

      یہ بھی پڑھئے : PSL کے چیمپئن کو ملی اتنے کروڑ کی انعامی رقم، IPL میں اس سے 4 گنا زیادہ تو صرف راشد خان لے اڑے


      نشریاتی حقوق یا میڈیا رائٹس کیا ہیں؟

      نشریاتی حقوق کو اکثر میڈیا رائٹس بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی کمپنی کسی اسپورٹس لیگ کو چلانے والے ادارہ سے اس لیگ کے میچوں کو دکھانے کا حق ایک مقررہ مدت اور ایک مقررہ رقم میں خریدتی ہے ۔

      مثال کے طور پر پچھلے 5 سالوں سے آئی پی ایل کے میچ صرف اسٹار اسپورٹس کے چینل اور اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہاٹ اسٹار پر ٹیلی کاسٹ کئے جاتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹار نے یہ رائٹس بی سی سی آئی سے 5 سال کیلئے 16347 کروڑ روپے میں خریدے ہیں ۔

      بی سی سی آئی ، آئی پی ایل کے میڈیا رائٹس کو چار الگ الگ پیکجوں یا بنڈلوں میں بیچ سکتا ہے۔
      بی سی سی آئی ، آئی پی ایل کے میڈیا رائٹس کو چار الگ الگ پیکجوں یا بنڈلوں میں بیچ سکتا ہے۔


      چار الگ الگ پیکجوں میں میڈیا رائٹس بیچ سکتا ہے بی سی سی آئی

      اس مرتبہ بی سی سی آئی ، آئی پی ایل کے میڈیا رائٹس کو چار الگ الگ پیکجوں یا بنڈلوں میں بیچ سکتا ہے، جس میں ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل رائٹس الگ الگ رکھے جائیں گے ۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ 25 مارچ کو آئی پی ایل گورننگ کونسل کی میٹنگ میں کیا گیا تھا ۔ اب تک صرف ایک کمپنی کو یہ تمام حقوق حاصل ہوتے تھے۔ الگ الگ پیکجوں میں رائٹس فروخت کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی نے ایڈوائزری فرم کے پی ایم جی کی مشاورت سے کیا ہے ۔

      اس کے تحت پیکیج اے میں ٹیلی ویژن کے حقوق ، پیکیج بی میں ڈیجیٹل حقوق ، پیکیج سی میں نان ایکسکلوزیو اسپیشل کٹیگری (18 میچوں کا بنڈل) اور پیکیج ڈی میں باقی دنیا کیلئے براڈکاسٹنگ رائٹس شامل ہوں گے ۔

      نیز اس مرتبہ متعدد براڈکاسٹروں کو کنسورٹیم بنا کر او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ایک ساتھ بولی لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ یعنی حال ہی میں ضم ہونے والے سونی اور زی کو ایک ساتھ بولی لگانے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ انہیں الگ الگ بولی لگانی ہوگی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  ایک اننگز میں دو ڈی آر ایس سے لے کر کورونا تک ، لیگ کے قوانین میں ہوئی یہ بڑی تبدیلیاں


      45 ہزار کروڑ روپے میں فروخت ہو سکتے ہیں آئی پی ایل میڈیا رائٹس

      اگلے پانچ سالوں کیلئے فروخت ہونے والے میڈیا رائٹس سے بی سی سی آئی کئی ہزار کروڑ روپے کے فائدہ کی امید ہے ۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی پی ایل 2023-2027 کے نشریاتی یا میڈیا رائٹس 35000 کروڑ روپے تک میں فروخت کئے جا سکتے ہیں ۔

      رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کے خود کے جائزے کے مطابق یہ حقوق 40-45 ہزار کروڑ روپے تک میں فروخت ہوسکتے ہیں ۔

      تخمینہ کے مطابق صرف آئی پی ایل کے ٹیلی ویژن حقوق 20 ہزار کروڑ میں فروخت ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ ڈیجیٹل رائٹس سے بھی کم از کم اتنی ہی رقم ملنے کی امید ہے ۔

      پچھلے کچھ سالوں میں ہاٹ اسٹار ، سونی لیو، ایمیزن پرائم ، نیٹ فلکس سمیت کئی او ٹی ٹی پلٹ فارم کے آنے سے ڈیجیٹل میڈیا کی مقبولیت کافی تیزی سے بڑھی ہے۔

      او ٹی ٹی ، یعنی اوور دی ٹاپ، ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہیں، جہاں صارفین کو کیبل، براڈکاسٹ اور سیٹلائٹ کی بجائے انٹرنیٹ کے ذریعے مواد فراہم کیا جاتا ہے۔ ہاٹ اسٹار ، سونی لیو، ایمیزن پرائم ، زی فائیو او ٹی ٹی کی مثالیں ہیں ۔

      2023 سے آئی پی ایل دکھانے کی ریس میں شامل ہو سکتی ہیں کونسی کمپنیاں؟

      ابھی اسٹار کے پاس آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق بھلے ہی ہوں، لیکن اگلے 5 سیزن کیلئے لگنے والی بولی میں اس کو کئی بڑی کمپنیوں سے ٹکر ملنے والی ہے ۔

      رپورٹس کے مطابق ملک اور بیرون ملک کی کئی کمپنیاں آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق خریدنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اسٹار کے علاوہ سونی، زی، میٹا (فیس بک)، ایمیزن، یوٹیوب (گوگل) اور ریلائنس (وائیاکوم-18) جیسی کمپنیاں ان حقوق کو خریدنے کی دوڑ میں شامل ہیں ۔

      پچھلے کچھ سالوں کے دوران، ٹی وی کے ساتھ ساتھ او ٹی ٹی جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی آئی پی ایل دیکھنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں  بی سی سی آئی کو امید ہے کہ نئے میڈیا رائٹس میں ڈیجیٹل رائٹس ، ٹی وی رائٹس کی طرح ہی مہنگے فروخت ہوں گے ۔

      بی سی سی آئی جس طرح الگ الگ پیکجوں میں میڈیا رائٹس بیچنے کے موڈ میں ہے، اس سے ممکن ہے کہ 2023-2027 کے دوران کوئی اور کمپنی آئی پی ایل کو ٹی وی پر دکھائے اور کسی اور کمپنی کے پاس او ٹی ٹی یعنی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر میچ دکھانے کے رائٹس ہوں ۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان سے باہر باقی دنیا میں میچ دکھانے کے رائٹس کسی دوسری کمپنی کو بھی مل سکتے ہیں ۔

      بی سی سی آئی کو آئی پی ایل سے بھاری کمائی پر نہیں دینا پڑتا ٹیکس

      بی سی سی آئی بھلے ہی آئی پی ایل سے موٹی کمائی کرتا ہو ، لیکن اسے اس پر ٹیکس نہیں دینا پڑتا ہے ۔ دراصل آئی پی ایل کے ذریعہ ملک میں کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے بی سی سی آئی کو انکم ٹیکس کے سیکشن 12 اے کے تحت آئی پی ایل کی آمدنی پر ٹیکس ادا کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: