உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ان5 وجوہات سے عمران خان سے چھن گیا اقتدار، نیا پاکستان کا وعدہ کرکے ملک کو بدحال چھوڑ گئے کیپٹن

    اس وجہ سے چھن گیا عمران خان کا اقتدار۔

    اس وجہ سے چھن گیا عمران خان کا اقتدار۔

    عمران کی سب سے بڑی غلطی اس سال جنوری کے بعد اپوزیشن کے منصوبوں میں تبدیلی کا احساس نہ کرنا تھا۔ اپوزیشن نے عمران اور فوج کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو موقع کے طور پر استعمال کیا اور متحد ہو کر عمران پر حملہ کیا۔

    • Share this:
      اسلام آباد: عمران خان جب اقتدار میں آئے تو انہیں پاکستان کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی امید کے طور پر دیکھا گیا لیکن 44 ماہ بعد جب عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے اقتدار سے بے دخل کیا گیا تو یہ تمام امیدیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ عالم یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور اس کی جی ڈی پی اور روپیہ دونوں کی حالت ابتر ہے۔
      چلیے جانتے ہیں کہ نیا پاکستان بنانے کی امید کے ساتھ آئے عمران کو کن 5 غلطیوں نے ڈبودیا؟ وہ کون سی اہم وجوہات رہیں، جن کی وجہ سے اقتدار سے بے دخل ہوئے عمران؟

      1. آرمی کے چہیتے سے آنکھوں کا کانٹا بننے کی غلطی

      • پاکستان میں 2018 میں الیکشن جیت کر وزیر اعظم بننے والے عمران کو شروع سے ہی فوج کی حمایت حاصل تھی۔ ان عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ فوج کی مدد سے عمران اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہی عمران اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا ہونے لگے۔

      • ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی بڑی وجہ عمران کی سابق وزرائے اعظم ذوالفقار بھٹو اور نواز شریف کی طرح فوج کے چنگل سے آزاد ہوکر خود وزیراعظم بننے کی خواہش تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ایسے بہت سے اقدامات کیے، جس کی وجہ سے ان کے اور فوج کے درمیان خلیج بڑھ گئی۔

      • 2019 میں عمران نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کو ملتوی کرنے کی بہت کوششیں کیں، تاہم اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔

      • اسی طرح گزشتہ سال عمران باجوہ کے پسندیدہ جنرل ندیم انجم کی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے پر تقرری میں تاخیر کرتے رہے اور جان بوجھ کر اسے لٹکانے کی کوشش کی۔

      • گزشتہ سال ہی عمران نے آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید کو کور کمانڈر کے طور پر پشاور بھیجا، تاکہ وہ ریٹائر ہوتے ہی باجوہ کی جگہ آرمی چیف بنائے جاسکیں۔

      • عمران اور فوج کے تعلقات میں دراڑ رفتہ رفتہ اتنی بڑھ گئی کہ دونوں تقریباً ہر معاملے پر ایک دوسرے سے الگ کھڑے نظر آئے۔

      • مثال کے طور پر عمران نے حال ہی میں روس کا دورہ کیا اور انہوں نے یوکرین پر روس کے حملے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan:تحریک ِعدم اعتماد میں شکست کھانے والے پہلے پاکستانی پی ایم بنے عمران خان

      • امریکہ نواز سمجھی جانے والی پاک فوج کے لیے یہ ایک دھچکا تھا، یہی وجہ ہے کہ اگلے ہی روز جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوکرین پر روس کے حملے کو غلط بتانے والا بیان جاری کر دیا۔

      • عمران یہیں نہیں رکے اور اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں ہٹانے کی کوششوں کو غیر ملکی سازش قرار دیا اور اس کے پیچھے کھل کر امریکہ کا نام لیا۔ یہ پاکستان کی فوج کے بالکل برعکس ہے جسے امریکہ نواز سمجھا جاتا ہے۔

      • عمران نے جہاں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کی وہیں جنرل باجوہ نے مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی۔

      • ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ فوج موجودہ بحران میں براہ راست ملوث نہیں ہے، لیکن اس نے عمران کو ایک جھٹکا دیا ہے، جس سے سپریم کورٹ کے ذریعے عمران کو بے دخل کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔


      2.پاکستان کی بدحال معیشت نے بگاڑا عمران کا کھیل

      • عمران پاکستان کی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے لیکن اب جب وہ رخصت ہو رہے ہیں تو پاکستان بدترین حالت میں ہے۔

      • عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی جی ڈی پی 315 بلین ڈالر سے کم ہو کر 264 بلین ڈالر رہ گئی ہے۔

      • مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ رواں سال فروری میں خوردہ افراط زر 12.2 فیصد اور تھوک مہنگائی 23.6 فیصد تک پہنچ گئی۔

      • پاکستانی روپیہ مسلسل گر رہا ہے، عمران کے اقتدار سنبھالتے وقت 1 امریکی ڈالر کے مقابلے 109 پاکستانی روپے کی قدر اب 1 ڈالر کے مقابلے میں 186 پاکستانی روپے پر آ گئی ہے۔

      • اس کے ساتھ ہی اس سال جنوری میں کنزیومر پرائس انڈیکس 13 فیصد تک پہنچ گیا جو دو سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یعنی عمران کے دور حکومت میں پاکستان میں معیشت بہتر ہونے کے بجائے مزید پاتال تک پہنچ گئی۔

      • اپوزیشن جماعتوں نے بھی عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی بڑی وجہ ملک کی خراب مالی حالت کو قرار دیا تھا۔


      3. عمران کے راج میں پاکستان میں خوب پروان چڑھی بدعنوانی

      • ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

      • اس رپورٹ کے مطابق پاکستان 2021 میں کرپٹ ترین 180 ممالک کی فہرست میں 140 ویں نمبر پر تھا جس میں 180 ویں نمبر پر دنیا کا کرپٹ ترین ملک ہے۔ پاکستان کی رینکنگ 2018 میں 117، 2019 میں 120 اور 2020 میں 124 تھی۔
        اسی دوران پاکستانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عمران کے دور حکومت میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسز میں اضافہ ہوا۔


      4. اپوزیشن کو ہراساں کرتے رہے، اُسے کمتر سمجھا

      • عمران کی سب سے بڑی غلطی اس سال جنوری کے بعد اپوزیشن کے منصوبوں میں تبدیلی کا احساس نہ کرنا تھا۔ اپوزیشن نے عمران اور فوج کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو موقع کے طور پر استعمال کیا اور متحد ہو کر عمران پر حملہ کیا۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan: قومی اسمبلی میں شہباز شریف نے کہا- اللہ نے قبول کرلیں پاکستانی عوام کی دعائیں

      5. عثمان بزدار کی پنجاب سی ایم عہدے پر تقرری

      • عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد 2018 میں ہی عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا۔ لیکن بزدار اس عہدے کے لیے نااہل ثابت ہوئے۔

      • عمران خان کی جانب سے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے فیصلے کو ان کے پورے سیاسی کیریئر کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا جا رہا ہے۔

      • صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ، جسے پاکستان میں سب سے زیادہ بااثر سمجھا جاتا ہے، وہاں وزیراعظم کے بعد دوسرا طاقتور عہدہ سمجھا جاتا ہے۔




      • صوبہ پنجاب کو سنبھالنے میں عثمان بزدار کی ناکامی نے عمران کی پارٹی پی ٹی آئی میں دھڑے بندی کو ہوا دی اور کئی ناراض اراکین نے یہ کہتے ہوئے پارٹی چھوڑ دی کہ ان کی شکایات کو دور نہیں کیا گیا۔

      • بالآخر رواں سال مارچ میں عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: