உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sanjeevani: ہندوستان میں COVID-19ویکسی نیشن ڈرائیومیں موجود جنسی فرق کوکم کرنا

    بھارت میں، مردوں کی آبادی خواتین سے زیادہ ہے۔ تاہم، ہندوستان ٹائمز کے ایک تجزیے میں اس امکان کو خراج کر دیا ہے کہ ٹیکوں میں یہ فرق کیلئے آبادی کے فرق کی وجہ سے ہے

    بھارت میں، مردوں کی آبادی خواتین سے زیادہ ہے۔ تاہم، ہندوستان ٹائمز کے ایک تجزیے میں اس امکان کو خراج کر دیا ہے کہ ٹیکوں میں یہ فرق کیلئے آبادی کے فرق کی وجہ سے ہے

    بھارت میں، مردوں کی آبادی خواتین سے زیادہ ہے۔ تاہم، ہندوستان ٹائمز کے ایک تجزیے میں اس امکان کو خراج کر دیا ہے کہ ٹیکوں میں یہ فرق کیلئے آبادی کے فرق کی وجہ سے ہے ۔ مہم کے آغاز میں حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین ویکسینیشن کوَریج کا حصہ نہیں تھیں۔

    • Share this:
      ایشوریہ ایّر

      بھارت میں COVID-19 ویکسینیشن ڈرائیو نے اپنے آغاز کے بعد گزشتہ نَو مہینوں میں رفتار حاصل کر لی ہے۔ اب تک ٹیکے کی کُل 87 کروڑ خوراکیں[1] لگائی جا چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، ویکسینیشن کے ڈیٹا نے ویکسین کی خوراکیں لگوانے والوں کے مابین جنسی فرق کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے۔

      آج کی تاریخ تک لگائی گئی کُل خوراکوں میں سے، 45.14 کروڑ خوراکیں[2] مردوں کو لگائی گئی ہیں جبکہ خواتین کو  کروڑ[3] خوراکیں لگی ہیں، یعنی لگائی گئی کُل خوراکوں میں مردوں کو 51.88% اور خواتین کو 47.70% خوراکیں لگائی گئی ہیں۔ خواتین کے مقابلے مردوں کو ویکسین کی تین کروڑ سے زیادہ خوراکیں لگائی گئی ہیں۔


      بھارت میں، مردوں کی آبادی خواتین سے زیادہ ہے۔ تاہم، ہندوستان ٹائمز کے ایک تجزیے میں اس امکان کو خراج کر دیا ہے کہ ٹیکوں میں یہ فرق کیلئے آبادی کے فرق کی وجہ سے ہے[4]۔ مہم کے آغاز میں حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین ویکسینیشن کوَریج کا حصہ نہیں تھیں۔ ہر چند کہ اب ایسی خواتین کے ٹیکے لگوانے کو محفوظ قرار دے دیا گیا ہے، لیکن اس سے متعلق مفروضے اب بھی برقرار ہیں جس کی وجہ سے کئی حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں ٹیکہ لگوانے میں جھجھک محسوس کرتی ہیں۔ حیض اور ویکسین کے تعلق سے بھی غلط معلومات پھیلی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے خواتین دورانِ حیض ٹیکے نہیں لگواتی ہیں۔ لوگوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت پر ویکسین کے ممکنہ اثرات سے متعلق مفروضہ بھی پھیلا ہوا ہے، خاص طور پر دیہی کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والی خواتین میں۔ انہیں خوف ہے کہ ویکسین ان کے حاملہ ہونے اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے اور اسی نے انہیں ویکسین لگوانے سے روک رکھا ہے۔ ہر چند کہ بیداری کے کئی وسائل ہیں اور اس ضمن میں بڑی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں، لیکن ملک کے دیہی علاقے ان سے منقطع ہیں اور وہاں آباد لوگ صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہیں۔

      کئی گھروں میں، کمائی کرنے والے صرف مرد ہوتے ہیں۔ وہ کام کر سکیں، اس کیلئے ان کے ویکسین لگوانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں کے دیہاتوں میں ویکسینیشن سینٹرز دور واقع ہیں، خواتین کے ٹیکے نہ لگوانے کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔ آج بھی کئی گھروں میں، خواتین کو گھروں سے باہر جانے کیلئے اجازتوں کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ اکثر تنہا ویکسین سینٹرز تک سفر نہیں کر پاتی ہیں۔ خاندان میں کوئی دوسرا مرد نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹیکے لگوانے سے قاصر ہیں۔ خاندان کی بنیادی نگہداشت کنندہ ہونے کی وجہ سے، خواتین اکثر اپنی ویکسینیشن میں تاخیر کرتی ہیں تاکہ ویکسین لگوانے کے بعد کے ضمنی اثرات کی وجہ سے گھریلو کام کاج متاثر نہ ہوں۔ علاوہ ازیں، کئی گھروں میں، خواتین کو اسمارٹ فونز تک رسائی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی سے یہ دوری بھی کم خواتین کے رجسٹر کروانے اور ویکسین نہ لگوانے کی وجہ ہے۔


      حالانکہ مہم کے ابتدائی مہینوں میں، ویکسینیشن میں مرد و خواتین کے درمیان یہ فرق کافی زیادہ تھا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ فرق کم ہوا ہے۔ آندھرا پردیش، کیرالا، تملناڈو، میزورم اور مرکز کے زیر انصرام علاقے پڈوچیری میں مردوں کے مقابلے خواتین نے زیادہ ویکسینیشن کروائی ہے[5]۔

      کم آمدنی والے اور دیہی علاقوں میں آباد کمیونٹیز کے افراد کو ویکسینیشن دستیاب کروانے کیلئے کی جانے والی پیش قدمیوں کا خواتین کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ کچھ ریاستوں میں، دیہاتوں اور کمیونٹیز میں ڈی سینٹرلائزڈ ویکسینیشن کیمپس کا اہتمام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو قریبی ویکسینیشن سینٹرز تک جانے کیلئے طویل مسافت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس سے زیادہ خواتین کو ویکسین لگوانے کی تحریک ملے گی۔ اب ویکسینیشن سینٹرز جگہ پر ہی رجسٹریشن کروانے اور واک اِن سلاٹس کی اجازت دیتے ہیں۔ اسلئے، جو خواتین خود کو Co-WIN پورٹل پر رجسٹر کرنے سے قاصر ہیں، وہ بھی سینٹرز پر جا کر براہ راست ویکسین لگوا سکتی ہیں۔ ممبئی میں، شہر کے مراکز میں خاص طور پر خواتین کیلئے واک اِن ویکسینیشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔

      ہر چند کہ یہ مرد و خواتین کے درمیان ویکسینیشن کے اس فرق کو کم کرنے کے حوصلہ افزاء اقدامات ہیں، لیکن ان کاوشوں کو سبھی ریاستوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر کسی کو یکساں طور پر ویکسین تک صحیح معنوں میں رسائی حاصل ہو۔ قومی کمیشن برائے خواتین (NCW) کے مطابق، عوامی صحت سے متعلق بیداری پر زور دینے اور خواتین کو ویکسینیشن سینٹرز تک لانے پر زور دینا چاہئے۔ ایکریڈیٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹس (ASHA)، آنگن واڑی ورکرز اور دیگر سوشل اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اس کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جنس کے ساتھ وابستہ دقیانوسی رسموں کو ختم کرنے اور ملک میں خواتین کی صحت اور فلاح و بہبود کو ترجیح دینے کی فوری ضرورت ہے۔

      فی الوقت، ٹرانس جینڈر، نان بائنیری اور جینڈر فلوئیڈ وغیرہ جیسے لوگوں کی ویکسینیشنز سے متعلق محدود ڈیٹا دستیاب ہے کیونکہ Co-WIN ڈیش پر انہیں ’دیگر‘ کے زمرے کے تحت ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔ اس گروپ کو اب تک ویکسین کی 191690 خوراکیں لگ چکی ہیں[6]۔

       

      ۔ ایشوریہ ایّر

      کوآرڈینیٹر ۔ کمیونٹی انویسٹمنٹ،

      یونائٹیڈ وے ممبئی

       

      [1] Data from Co-WIN dashboard, Ministry of Health and Family Welfare updated as on 28th September 12:00 PM

      [2] Data from Co-WIN dashboard, Ministry of Health and Family Welfare updated as on 28th September 12:00 PM

      [3] Data from Co-WIN dashboard, Ministry of Health and Family Welfare updated as on 28th September 12:00 PM

      [4] https://www.hindustantimes.com/analysis/there-is-a-gender-gap-in-india-s-vaccination-coverage-101623060093797.html

      [5] As per data taken from Co-WIN dashboard, Ministry of Health and Family Welfare on 28th September 12:00 PM

      [6] Data from Co-WIN dashboard, Ministry of Health and Family Welfare updated as on 28th September 12:00 PM
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: