உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان میں جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے معاملوں میں ہندوستانی میڈیا کا جانبداری کا مظاہرہ، یونیسکو کی تحقیق کا دعویٰ

    ہندوستان میں جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے معاملوں میں ہندوستانی میڈیا کا جانبداری کا مظاہرہ، یونیسکو کی تحقیق کا دعویٰ

    تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی میڈیا انتہائی تشدد اور ظلم یا اجنبیوں کے ذریعہ کئے گئے حملے سے متعلق ’غیر معمولی معاملات' پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے، ’جو ہندوستان میں عام طور پر تشدد کیسے رونما ہوتا ہے، کی خطرناک تصویرپیش کرتا ہے‘۔

    • Share this:
      ایک حالیہ اشاعت جس کا عنوان ہے، ’جنسی تشدد اور نیوز میڈیا: ہندوستان میں صحافیوں کے لئے موضوع، چیلنجز اور گائڈ لائن‘ ہندوستانی میڈیا کے ذریعہ جنسی تشدد کی رپورٹنگ سے متعلق مشکل صورتحال پر روشنی ڈالتا ہے اور ایسی خبروں کے بہتر کوریج کے لئے ادارتی گیٹ کیپر اور ازالہ کے طریقہ کار کے لئے مناسب اور مفید مشورہ دیتا ہے۔

      تفصیلی جائزہ


      تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی میڈیا جنسی ہراسانی اور ظلم یا اجنبیوں کے ذریعہ کئے گئے حملے سے متعلق ’'غیر معمولی معاملات' پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے، ’جو ہندوستان میں عام طور پر تشدد کیسے رونما ہوتا ہے، کی خطرناک تصویر پیش کرتا ہے‘۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تحقیق کے 20.6 فیصد جواب دینے والوں کے مطابق، جنسی تشدد کے واقعات کو کور کرنے کے لئے صحافیوں کو ترغیب دینے والا حکمرانی کا عنصر عام طور پر متاثرہ یا مجرم کا ’پروفائل‘ ہوتا ہے۔

      پولیس یا اتھارٹی کے ذریعہ ردعمل دوسرا اہم عنصر 16.7 فیصد ہے۔ اس کے بعد صحافیوں کے لئے جرائم کی 'کوریج' کے لئے آبروریزی یا جنسی تشدد کے معاملے کو اٹھانے کے لئے جرم کی ’سنگینی‘  14 فیصد ہوتی ہے۔

      اخبار عام طور پر شہری علاقوں میں 49 فیصد آبروریزی کی رپورٹنگ کرتے ہیں جبکہ دیہی ہندوستان میں واقعات کی ہوتی ہے ۔ صرف 22 فیصد واقعات ہی دیہی علاقوں سے سامنے آپاتے ہیں ۔ آبروریزی اور جنسی تشدد کی بیشتر رپورٹوں میں پیش رفت کی کمی ہوتی ہے اور وہ ’اسپاٹ‘ نیوز رپورٹ ہوتی ہے ، جو حملے کی تفصیل کے بارے میں بات کرتی ہے ۔ حالانکہ متعلقہ جرم صرف 2.2 فیصد معاملات میں ہی دیکھا جاتا ہے، لیکن نیوز رپورٹوں میں متاثرہ کو آواز (براہ راست یا دوسری صورت) دینا کبھی کبھی ہوتا ہے۔

      تحقیق میں پایا گیا ہے کہ صرف 19.5 فیصد جواب دہندگان نے اپنی رپورٹنگ میں ’بلاتکار (آبروریزی) لفظ کا استعمال کیا۔ بیشتر (51 فیصد) نے اس کے بجائے وینجنا کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ بیشتر اخباروں (78 فیصد) نے کہا کہ وہ جنسی تشدد سے متعلق تبدیلی کو متاثر کرنے کے لئے ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ 7 فیصد سے کم ایسی کہانیاں مسائل کے حل پر مرکوز ہیں۔

      تحقیق کا طریقہ کار

      6 الگ الگ زبانوں میں شائع 10 ہندوستانی اخباروں کے مواد کا تقابلی تجزیہ کرکے تحقیق کی گئی تھی۔ اس نے 257 صحافیوں کے ساتھ نیم ساختہ انٹرویو جیسے معیاری تجزیہ کے طریقے سے منصوبہ بند تھا۔ جو 14 زبانوں میں کام کرتے ہیں اور پرنٹ، ریڈیو اور آن لائن میڈیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔

      ادارتی گیٹ کیپر کے لئے کال کریں

      تحقیق موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے طریقوں کی سفارش کرتا ہے اور آبروریزی یا جنسی ہراسانی کی رپورٹ کرنے کے لئے سخت اور اچھی طرح سے متعارف ادارتی گائڈ لائن کا مطالبہ کرتا ہے۔

      قومی سطح پر، یہ سفارش کرتا ہے کہ صحافت ایسوسی ایشن اور نیوز انڈسٹری کے لیڈر ایک قومی چارٹر قائم کریں، جو نیوز آرگنائزیشن کی جوابدہی اور حساس رپورٹنگ کے تئیں عزائم کو فروغ دیتا ہے۔

      یہ نہ صرف صحافیوں کو تربیت دینے اور انہیں جنسی تشدد کی کوریج سے متعلق مناسب ہدایات اور طریقہ کار فراہم کرنے کے لئے بلکہ ان کی ذہنی صحت کی نگرانی کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔  عصمت دری یا جنسی تشدد سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے صحافی اکثر پریشانی یا PTSD سے متاثر ہوتے ہیں، اس لئے ایسے صدمے کا تجربہ کرنے والے صحافیوں کے لئے معاون نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: