உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Union Budget 2022: فائنانس منسٹر اس مرتبہ کے بجٹ میں ان 10 طریقوں سے عام آدمی کو دے سکتی ہے راحت، جانیے تفصیل

    Union Budget 2022

    Union Budget 2022

    اس مرتبہ کا بجٹ بھی چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ آئندہ یکم فروری وزیر خزانہ بجٹ پیش کریں گی۔ یہ فائنانس منسٹر نرملا سیتارمن کا چوتھا بجٹ ہوگا۔ اس بجٹ سے اسٹاک مارکٹ (Stock Market), عام آدمی اور اکنامسٹ کو بڑی امیدیں ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی:وزیر خزانہ نرملا سیتارمن (Nirmala Sitharaman) کا اس مرتبہ کا بجٹ بھی چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ آئندہ یکم فروری وزیر خزانہ بجٹ پیش کریں گی۔ یہ فائنانس منسٹر نرملا سیتارمن کا چوتھا بجٹ ہوگا۔ اس بجٹ سے اسٹاک مارکٹ (Stock Market), عام آدمی اور اکنامسٹ کو بڑی امیدیں ہیں۔ کورونا کی دوسری لہر کے بعد اور تیسری لہر کے درمیان یہ بجٹ آرہا ہے۔ لہٰذا بجٹ سے بازار اور عام آدمی دونوں کو امیدیں ہیں۔
      یہاں ہم کچھ ایسے راحتی اقدامات کی بات چیت کریں گے جن سے معیشت کو رفتار مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی عام آدمی کو بڑی راحت ملے گی۔

      1- اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن میں اضافہ
      تنخواہ پر منحصر طبقہ اس بجٹ میں اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن (Standard Deduction) میں اضافہ کی امید کررہا ہے۔ کورونا نے لوگوں کا میڈیکل خرچ بڑھایا ہے۔ ادھر، مہنگائی خاص کر پٹرول-ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا محال کردیا ہے۔ اس سے خاص کر مڈل کلاس خاندان کا گھریلو بجٹ بگڑ گیا ہے۔ اس لئے اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ اسے 50,000روپے سے بڑھا کر سالانہ 75,000 روپے کرسکتی ہے۔

      2- ہیلتھ انشورنس پر جی ایس ٹی میں کمی
      میڈیکلیم پالیسی (Mediclaim) پریمیم پر جی ایس ٹی کی شرح کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی یہ 18 فیصدی ہے۔ اسے گھٹا کر 5 فیصدی کیا جاناچاہیے۔ اس سے لوگوں کے درمیان ہیلتھ پالیسی کی مانگ بڑھے گی۔ ابھی 18 فیصدی ٹیکس کی وجہ سے پریمیم بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس سے کئی لوگ ہیلتھ پالیسی لینے سے کتراتے ہیں۔ اس مرتبہ بجٹ میں فائنانس منسٹر نرملا سیتارمن اس بارے میں اعلان کرسکتی ہیں۔

      3-معیشت کو مضبوط بنانے والے اقدام
      اکنامی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ماہر اقتصادیات کا ماننا ہے کہ حکومت کو پھر سے ریاستی خزانہ کی حالت میں بہتری کے اقدام پر فوکس کرنا چاہیے۔ پچھلے دو سال سے کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لئے حکومت زیادہ خرچ کررہی ہے۔ اس کا اثر حکومت کی تجوری پر پڑا ہے۔ اُدھر، ٹیکس کلیکشن میں بھی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالانکہ، حالات اب ٹھیک ہورہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کو انفرااسٹرکچر اور روزگار بڑھانے کو ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

      4- ویلتھ ٹیکس کی واپسی
      ماہر اقتصادیات پھر سے ویلتھ ٹیکس (Wealth Tax) لگانے کے حق میں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ویلتھ اور انہیریٹینس ٹیکس لگانے سے سماج میں تیزی سے بڑھتی اقتصادی عدم مساوات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ کورونا کی وبا کا سب سے زیادہ اثر اقتصادی طور سے کمزور طبقے کے لوگوں پر ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے غریب اور امیر کے درمیان کھائی بہت بڑھ گئی ہے۔ ویلتھ اور انہیریٹینس ٹیکس لگانے سے اس فرق کو کچھ حد تک دور کیا جاسکتا ہے۔

      5- ورک فرام ہوم کے لئے الگ سے ڈیڈکشن
      کورونا کی وبا سال 2020 میں شروع ہوئی تھی۔ اس سال مارچ میں لاک ڈاون لگائے جانے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ورک فرام ہوم (Work From Home) کے لئے مجبور ہوگئے۔ ورک فرام ہوم (WFH) اب تک جاری ہے۔ خاص کر پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرنے والے کروڑوں لوگ گھر سے کام کررہے ہیں۔ اس کی وجہ سے انٹرنیٹ، بجلی، فرنیچر سمیت کئی خرچے بڑھ گئے ہیں۔ اس لئے ورک فرام ہوم کرنے والے لوگوں کے لئے بجٹ میں الگ سے ڈیڈکشن کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔

      6- الیکٹرک وہیکلس کے لئے رعایتیں
      حکومت الیکٹرک وہیکل (Electric Vehicles)کے استعمال کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اس سے تیزی سے بڑھ رہے پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی آئے گی۔ اس سے پیٹرولیم کے امپورٹ پر انحصار گھٹے گا۔ اگر حکومت الیکٹرک وہیکل کے لون کو ترجیحی لینڈنگ (Priority Lending) کے زمرے میں لاتی ہے تو اس سے ای وی کا استعمال بڑھے گا۔ اس قدم سے لوگوں کو الیکٹرک وہیکل خریدنے کے لئے سستی شرح پر لون مل پائے گا۔ آٹو انڈسٹری کا ماننا ہے کہ حکومت کو ای وی (EV) سے جڑے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لئے زیادہ فنڈ بھی تقسیم کرنا چاہیے۔

      7-منریگا کے لئے زیادہ فنڈ
      وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو اس بار منریگا کے فنڈ میں بڑا اضافہ کرنا چاہئے۔ سال 2020 میں لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے ہی شہروں سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے گاؤں واپس لوٹے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی اپنے گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے منریگا آمدنی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہ انہیں سال میں کم از کم 100 دن کے لیے روزگار کی ضمانت دیتا ہے۔

      8-STT میں کمی
      شیئروں کی خریدوفروخت پر لگنے والے سیکوریٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (STT) میں کمی کرنے کی ضرورت ہے۔ بروکریج فرموں نے اس مرتبہ وزیر خزانہ کو اپنی رائے بتائی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ STT فعال تاجروں کے منافع کو کم کرتا ہے۔ صرف بروکریج فرم زیرودھا کے صارفین ایس ٹی ٹی، سٹیمپ ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کے طور پر سالانہ 2,500 کروڑ روپے ادا کرتے ہیں۔ STT 2004 میں لگایا گیا تھا۔ تب وزیر خزانہ پی چدمبرم نے ایل ٹی سی جی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پھر بعد میں LTCG کو بھی لاگو کیا گیا۔ اس لیے سی ٹی ٹی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

      9- رینیویبل انرجی سیکٹر پر فوکس
      حکومت کو رینیوایبل انرجی سیکٹر پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت ملک میں روایتی ایندھن (کوئلہ، پٹرول، ڈیزل دیگر) کے استعمال کو کم کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے رینیویبل انرجی کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے حکومت کو اس سیکٹر میں آر اینڈ ڈی کو فروغ دینا چاہیے۔ ساتھ ہی اس سیکٹر میں انوسٹمنٹ کو فروغ دینے والی پالیسی کا اعلان بھی بجٹ میں کیا جاسکتا ہے۔

      10- اسٹارٹ اپ کے لئے اٹریکٹیو پالیسی
      اسٹارٹ اپ کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آج کا نوجوان کچھ نیا کرنا چاہتا ہے۔ وہ نوکری تلاش کرنے کی جگہ نوکری کے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسے فروغ دینے کے لئے حکومت،اسٹارٹ اپ کے لئے راغب کرنے والی پالیسی کا اعلان کرسکتی ہے۔ اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والے ادارے کا ماننا ہے کہ اسٹارٹ اپ کو قیام کے 10 سال تک اسٹارٹ اپ کا درجہ جاری رہنا چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: