ہوم » نیوز » Explained

بچوں کاجنسی استحصالChild Sexual Abuseاورہندوستان میں موجود قوانین کےبارے آپ کیاجانتے ہیں؟

چائلڈ سیکشول اَبیوز یا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کسی بچے یا بچی کو جنسی عمل میں شامل کرتا ہے جسے وہ بچا یا بچی پوری طرح سمجھ نہیں پاتے ہیں اور اُسے منظور بھی نہیں کرتے۔۔ایک بچہ فطری طور پر کسی جنسی فعل سے لاعلم سمجھا جاتا ہے۔۔

  • Share this:
بچوں کاجنسی استحصالChild Sexual Abuseاورہندوستان میں موجود قوانین کےبارے آپ کیاجانتے ہیں؟
چائلڈ سیکشول اَبیوز یا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کسی بچے یا بچی کو جنسی عمل میں شامل کرتا ہے جسے وہ بچا یا بچی پوری طرح سمجھ نہیں پاتے ہیں اور اُسے منظور بھی نہیں کرتے۔۔ایک بچہ فطری طور پر کسی جنسی فعل سے لاعلم سمجھا جاتا ہے۔۔

بچوں سے زیادتی کیا ہے؟


کسی بھی فرد ، بالغ شخص یا بچے کا کوئی ایسا عمل ، لاپرواہی ، یا غلطی  جس کے نتیجے میں ایک بچے کی زندگی یا اُس کی نشو و نما کے لیے شدید خطرہ پیدا ہوجائے ۔۔یا بچے کی ترقی کا عمل متاثر ہوجائے اور اُس کے نتیجے میں اُس کی جسمانی صحت ، تندرستی متاثر ہو ا اُس بچی یا بچے کی نفسیاتی و معاشرتی صورتحال طویل مدتی طور سے متاثر ہوجائے


بچوں سے جنسی زیادتی کیا ہے؟


چائلڈ سیکشول اَبیوز یا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کسی بچے یا بچی کو  جنسی عمل میں شامل کرتا ہے جسے وہ بچا یا بچی پوری طرح سمجھ نہیں پاتے ہیں اور اُسے منظور بھی نہیں کرتے۔۔ایک بچہ فطری طور پر کسی جنسی فعل سے لاعلم سمجھا جاتا ہے۔۔جنسی استحصال کا شکار بچی یا بچا اپنی عمر کم ہونے کے باعث جنسی سرگرمی کے لیے تیار نہیں رہتے اور ایسے فعل کے لیے ذہنی با خبری کے ساتھ رضا مندی ظاہر کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔۔

POCSO  ایکٹ کیاہے؟

پروٹیکشن آف چلڈرن فرم سیکشول آفین سیس ایکٹ 2012، بچوں کے جنسی استحصال کے مسائل کا ازالہ کرتا ہے۔۔اس کے تحت بچوں کے خلاف کئی قسم کے جنسی جرائم کی فہرست وار درجہ بندی کی گئی ہے ۔۔

POCSO ایکٹ کے تحت بچہ کون ہے؟

ایک بچہ یا بچی 18 سال سے کم عمر کوئی بھی شخص ہوسکتا ہے  ۔،ہندوستان میں نافذ قوانین کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر پختگی کی عمر نہیں سمجھی جاتی ۔

POCSO کے تحت کیس کب درج کراسکتے ہیں ؟

کسی فرد کو اگر یہ اندیشے نے گھیر رکھا ہے جرم انجام دیا گیا ہے ، یا اُسے اس بات کا علم و اداراک ہے کہ پوکسو کے تحت کوئی فعل انجام دیا گیا ہے تو اُسے ایسے جرم کی اطلاع دینی چاہیے۔

پوکسو ایکٹ میں بچوں یا بچیوں کے جنسی استحصال کی جانکاری فراہم کرنے کے لیے وقت کے حدود مقرر نہیں ہیں
پوکسو ایکٹ میں بچوں یا بچیوں کے جنسی استحصال کی جانکاری فراہم کرنے کے لیے وقت کے حدود مقرر نہیں ہیں


کون کون POCSO کے تحت کیس درج کراسکتا ہے؟

والدین ، ​​ڈاکٹر ، اسکول عملہ اور  بچہ یا بچی خود بھی کیس درج کراسکتے ہیں ۔۔لیکن اس معاملے میں کوئی بھی شخص قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرسکتا ہے۔۔

POCSO کیس درج کرانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

کوئی بھی شخص جو اس خدشے یا ڈر کا شکار ہے کہ اس ایکٹ کے تحت کسی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے تو وہ کیس درج کرانے کے لیے پیش قدمی کرسکتا ہے۔۔یا کسی کو لگتا ہے کہ ایسا کوئی جرم سرزد ہونے والا ہے تو اُس شخص کو اسپیشل جووینائیل پولیس یونٹ کو اُس کی جانکاری دینی چاہیئے ۔۔فوری انداز میں مناسب کاروائیوں کے لیے مقامی پولیس سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔۔

کیا جنسی استحصال کے جرم کی اطلا ع دینے کی کوئی مدت ہے ؟ اطلاع فراہم کرنے کے حتمی وقت کے معاملے میں کوئی حد مقرر ہے ؟۔۔

پوکسو ایکٹ میں بچوں یا بچیوں کے جنسی استحصال کی جانکاری فراہم کرنے کے لیے وقت کے حدود مقرر نہیں ہیں ۔۔اپنے بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار کوئی بھی شخص عمر کے کسی بھی پڑاؤ پر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت درج کراسکتاہے۔۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 29, 2021 08:58 PM IST