உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرپٹو کرنسی پر پوری طرح پابندی چاہتا ہے RBI، کیا یہ ممکن ہے؟ جانیے لیگل ایکسپرٹس کی رائے

    کیا کرپٹو کرنسی ہوگی بین، جانیے لیگل ایکسپرٹس کی رائے۔ تصویر: shutterstock

    کیا کرپٹو کرنسی ہوگی بین، جانیے لیگل ایکسپرٹس کی رائے۔ تصویر: shutterstock

    حکومت بھی کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کو لے کر جلدبازی میں ہیں۔ اس ونٹر سیشن میں کرپٹوکرنسی ریگولیشن بل بھی لایا گیا، لیکن بل پر خصوصی بحث نہیں ہوپائی۔ دوسری طرف RBIخود کی ڈیجیٹل کرنسی CBDC پر کام کررہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جیسا کہ ہم جانتے ہیں ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) پرائیوٹ کرپٹو کرنسی کا سب سے بڑی مخالف ہے۔ سب سے پہلے 2013 میں آر بی آئی نے کرپٹو کرنسی سے بچنے کو لے کر احکامات جاری کیے تھے۔ اُس کے بعد سے اس کی مخالفت لگاتار بڑھتی ہی جارہی ہے۔ اس مہینے کی شروعات میں RBIنے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کرپٹو کرنسی پر پوری طرح بین کی ضرورت ہے۔ محدود طور پر بین لگانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

      تین سال پہلے 2018 میں ریزرو بینک نے کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ پر پوری طرح بین لگادیا تھا۔ حالانکہ، دو سال بعد 2020 میں سپریم کورٹ نے ریزرو بینک کے اس فیصلے کو پلٹ دیا۔ فی الحال کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ کو لے کر کوئی روک نہیں ہے، حالانکہ ریگولیشن کا اثر ضرور ہوگا۔ ادھر حکومت بھی کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کو لے کر جلدبازی میں ہیں۔ اس ونٹر سیشن میں کرپٹوکرنسی ریگولیشن بل بھی لایا گیا، لیکن بل پر خصوصی بحث نہیں ہوپائی۔ دوسری طرف RBIخود کی ڈیجیٹل کرنسی CBDC پر کام کررہا ہے۔ ایسے میں سوال اُٹھتا ہے کہ ریزرو بینک کی صلاح کو مانتے ہوئے حکومت پرائیوٹ کرپٹوکرنسی پر پوری طرح بین لاگو کرے گی یا اب کافی دیر ہوچکی ہے۔

      ریزرو بینک کی مخالفت لگاتار بڑھ رہی ہے
      ریزرو بینک کا ماننا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو پہچان (Recognition) ملنے سے فائنانشل سسٹم پر کافی برا اثر ہوگا۔ اس سے موجودہ مالیاتی نظام کی بنیاد ہل سکتی ہے۔ بینکوں اور ریگولیٹر ایجنسیوں کی اہمیت بھی کم ہونے کا ڈر ہے۔ اس سے الگ کرپٹوکرنسی ٹرانزکشن کو ٹریس کر پانا مشکل ہوگا، جس سے بلیک منی کا چلن بھی بڑھے گا۔

      فارین ایکسچینج رسک بڑھ جائے گا
      ٹائمس آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق، اگر پرائیوٹ کرپٹو کرنسی کو منظوری مل جاتی ہے تو فارین ایکسچینج رسک کافی بڑھ جائے گا۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی IMF کی سربراہ اکنامک ایکسپرٹ گوپی ناتھ نے بھی کہا تھا کہ کرپٹو کرنسی کو منظوری ملنے سے یہ خطرہ کافی بڑھ جائے گا۔

      بین لگانے سے چین کے ساتھ ہوجائے گا بھارت
      ایک فائنانشیل ٹیکنالوجی کمپنی کے سینئر عہدیدار کا ماننا ہے کہ حکومت کے اندر دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک گروپ کا ماننا ہے کہ اگر کرپٹوکرنسی پر پوری طرح بین لگایا جاتا ہے تو ہندوستان پوری دنیا سے کٹ جائے گا۔ چین نے کرپٹو کرنسی پر پوری طرح سے بین لگادیا ہے۔ ایسے میں ہندوستان اور چین ایک ہی گروپ میں آجائیں گے۔

      بین لگانے میں اب دیر ہوچکی ہے!
      لیگل ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو لیگل ٹیندر ملنا ناممکن ہے، حالانکہ اس پر پوری طرح بین لگانا اب ممکن نہیں ہے۔ اس میں کافی دیر ہوچکی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ حکومت درمیانی راستہ اختیار کرے گی۔ اس سے سرمایہ کاروں کا انٹرسٹ بھی بنا رہے گا اور جس رفتار سے اس کو تسلیم کرنے کی شرح بڑھ رہی ہے، اُس پر بھی بریک لگے گا۔ اس سے ملک کا فائنشیل سسٹم بھی محفوظ رہے گا۔

      حکومت اسے انوسٹمنٹ انسٹرومنٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے
      لکشمی کمارن اینڈ شریدھرن اٹارنی کے ایگزیکٹیو پارٹنر ایل بدری نارائن نے کہا کہ حکومت کرپٹوکرنسی کو انوسٹمنٹ انسٹرومنٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ حکومت اسے ریگولیٹ کرنے کی تیاری میں ہے۔ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت اسے اسسیٹ کلاس کا درجہ دیا جاسکتا ہے اور کیپٹل گین پر ٹیکس لگایا جائے گا۔

      دوسرے ملکوں میں پیسہ ویسے ہی نہیں لے جاسکتے ہیں
      فارین ایکسچینج ریگولیشن کو لے کر نارائن کا کہنا ہے کہ آپ ہندوستان سے دوسرے ملکوں میں پی سہ ویسے ہی نہیں لے جاسکتے ہیں۔ ہندوستان ایک فارین ایکسچینج ریگولیٹیڈ مارکیٹ ہے۔ ایسے میں امریکہ، یو کے جیسے ملک جس طرح فیسلے لے رہے ہیں، ایسا ہم نہیں کرسکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی مارکیٹ پوری طرح فری ہے۔ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہے۔

      فارین ایکسچینج کو لے کر شک برقرار
      کرپٹو انڈسٹری بھی فارین ایکسچینج کو لے کر حکومت سے رائے کا انتظار کررہی ہے۔ FEMA یعنی فارین ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کراس بارڈر موومنٹ ہونے پر کسی بھی پروڈکٹ اور سروس پر امپورٹ اور ایکسپورٹ ڈیوٹی لگتی ہے۔ ایسے میں کرپٹو ایکسچینج کو کس کیٹگری میں ڈالا جائے گا، یہ ابھی صاف نہیں ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: