உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’مدھوبن میں رادھیکا ناچے‘ گانے سے مذہبی جذبات کو کیسے پہنچی ٹھیس؟کیا مخالفت کے نام پر اشتعال انگیز بیان دیناضروری ہے؟

    سنی لیونی کے گانے مدھوبن کو لے کر بڑھتی جارہی ہے مخالفت۔

    سنی لیونی کے گانے مدھوبن کو لے کر بڑھتی جارہی ہے مخالفت۔

    جو لوگ مذہب کے نام پر یہ سب کررہے ہیں آخر وہ مذہب کو کتنا سمجھتے ہیں۔ مذہب ہمیں تشدد نہیں صبر اور امن سکھاتا ہے۔ مذہب کسی کو مارنا ن ہیں، جینا سکھاتا ہے۔ مذہب کٹرپن نہیں، بھائی چارہ سکھاتا ہے۔ مذہب ہماری جان، ہماری سوچ، ہمارے رویے میں ہوتا ہے۔ یہ بات ہمیشہ دماغ میں رکھنی ہوگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان میں انتخابی موسم ہے، مذہب کے نام پر بھی انفیکشن پھیلایا جارہا ہے، جسے روکنے کی سخت ضرورت ہے۔ عقیدے کا بہانہ کر کے کہیں بھی مخالفت کی سیاست شروع ہوجاتی ہے۔ کہیں دھرم سنسد کے نام پر اشتعال انگیز بیان دئیے جاتے ہیں تو کہیں عظیم شخصیات کی توہین کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس وقت جو گانا کافی پاپولر ہورہا ہے، اُس میں بھی کچھ لوگوں خو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی نظر آرہی ہے۔ ’مدھوبن میں رادھیکا ناچے‘ (Madhuban mein Radhika naache) گانے کو لے کر سنی لیونی کی گرفتاری کی مانگ اُٹھ رہی ہے۔

      مدھوبن میں رادھیکا ناچی تو ساری ریاستوں میں سادھو سنت ناراض ہوگئے۔ مذہب کی دھڑکن بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندو مذہب کے خلاف ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ نروتم مشرا نے تو صاف کہہ دیا کہ گانا بدلو، نہیں تو ایکشن ہوگا۔ مخالفت نے اپنا اثر دکھایا۔ میکرس نے اس کے بعد کہا۔ بول بدل دیں گے لیکن یہ مخالفت کیوں ہوئی؟ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ مدھوبن میں رادھیکا ناچے رے گانے پر سنی لیونی کے ڈانس مووس متنازع ہیں۔ یہ ایسی دلیل ہے، جسے دلیل کے پلڑے میں تولنا مشکل ہے۔

      مخالفت کے نام پر ملک نے حالیہ دنوں میں اخلاقی اقدار کو کئی مرتبہ مٹی میں ملتے دیکھا ہے۔ خود کو سنت کہنے والے کچھ لوگوں نے ہریدوار کی دھرم سنسد میں تشدد کی وکالت کی۔ دوسرے مذہب کے لئے قابل اعتراض باتیں کہیں اور سبھا میں تالیاں بجتی رہیں۔ رائے پور میں ہوئے ایسے ہی پروگرام میں کالی چرن مہاراج نے مہاتما گاندھی کے خلاف ایسی باتیں کہیں جو کسی سنت کو زیب نہیں دیتیں۔

      لیکن ہندوستان کی سنت تہذیب میں عقیدہ رکھنے والوں نے اسٹیج سے ہی اس کی مخالفت بھی کی۔ کالی چرن مہاراج کی اسٹیج سے ہی مخالفت ہوئی، اُن کے خلاف مقدمے درج ہوئے لیکن یہ مبینہ مہاراج کہتے ہیں کہ جو کہا ٹھیک کہا۔۔۔ پھانسی بھی منظور ہے۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by Sunny Leone (@sunnyleone)





      مذہب کے نام پر اخلاقی حد پار کرنے والے مذہب کو کتنا سمجھتے ہیں؟
      دھرم سنسد میں ہوئی بیان بازی نے ہندوستانی روایتوں پر سوال اُٹھانے کا موقع تلاش کرنے والے غیر ملکی میڈیا آوٹ لیٹس کو بھی موقع دے دیا۔ خیالات میں موافقت نہ ہوں تو مخالفت کرنے کا حق سب کو ہے لیکن کیا مخالفت کے نام پر اشتعال انگیزی ضروری ہے؟ کیا اخلاقی اقدار کی حدوں کو پار کرنا اُسے تار تار کرنا ضروری ہے؟ جس سناتن دھرم کے نام پر یہ سب ہورہا ہے وہ تو اس کی تسلیم نہیں دیتا۔

      جو لوگ مذہب کے نام پر یہ سب کررہے ہیں آخر وہ مذہب کو کتنا سمجھتے ہیں۔ مذہب ہمیں تشدد نہیں صبر اور امن سکھاتا ہے۔ مذہب کسی کو مارنا ن ہیں، جینا سکھاتا ہے۔ مذہب کٹرپن نہیں، بھائی چارہ سکھاتا ہے۔ مذہب ہماری جان، ہماری سوچ، ہمارے رویے میں ہوتا ہے۔ یہ بات ہمیشہ دماغ میں رکھنی ہوگی۔ لیکن مدھوبن میں رادھیکا ناچے گانے پر ہوئے تنازع کی وجہ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے ہم آپ کو اس گیت کا بیک گراونڈ بتادیتے ہیں۔

      مدھوبن میں رادھیکا ناچے رے۔۔۔ گیت سال 1960 میں آئی فلم کوہ نور میں دلیپ کمار اور کُم کُم پر فلمایا گیا تھا۔ گیت شکیل بدایونی نے لکھے تھے۔ میوزک نوشاد نے دیا تھا اور اس گیت کو گایا تھا محمد رفیع نے۔ کرشنا کہانی والی رادھا اور بھوان کرشنا کا مہاراس تو ہندو مذہبی روایتوں میں بھی درج ہے لیکن فلم کوہ نور کے اس گیت کو نہ تو فلم بنانے والوں نے مذہب سے جوڑا تھا، نہ فلم دیکھنے والوں نے۔ اور ایسے بھی نہ تو رادھا اور کرشن کی بڑی تصویر کو کسی دائرے میں باندھا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہر چیز کو مذہب سے جوڑنا ٹھیک ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: