ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیا سال بھر کے اندر بے اثر ہوجائے گی کورونا ویکسین؟ جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین

Covid-19 vaccine: کل 28 ممالک کے 77 سائنسدنوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ویکسین کی موجودہ شکل سال بھر کے اندر کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز نہیں بنا سکے گا ۔ کچھ سائنسدانوں کا تو یہ بھی اندازہ ہے کہ اگر چھ مہینے کے اندر ہرڈ امیونٹی نہ پیدا ہو تو ویکسین بے کار ہوجائے گی ۔

  • Share this:
Explained: کیا سال بھر کے اندر بے اثر ہوجائے گی کورونا ویکسین؟ جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین
Explained: کیا سال بھر کے اندر بے اثر ہوجائے گی کورونا ویکسین؟ ۔ (Photo- news18 English Reuters)

کورونا وائرس کی رفتار ایک مرتبہ پھر بے قابو ہوگئی ہے ۔ یہ صورتحال صرف ملک میں ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی دیکھی جارہی ہے ۔ اس درمیان تیزی سے جاری ٹیکہ کاری مہم کے دران یہ بات بھی اٹھ رہی ہے کہ شاید سال بھر کے اندر ٹیکے کی وجہ سے بنے اینٹی باڈیز ختم ہوجائیں ۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٹیکہ کا اثر ایک سال کے بھی کم رہے ۔ ایسے میں ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کا قہر برپا ہوسکتا ہے ۔


پیپلز ویکسینیشن الائنس کے تحت 28 ممالک کے 77 سائنسدانوں کی ریسرچ جمع کی گئی ہے اور دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ کورونا وائرس کی رفتار کم کرنے میں ٹیکہ کاری کس طرح کام کررہا ہے ۔ اس دوران ایک ڈرانے والی بات نظر آئی ۔ تقریبا سبھی سائنسدانوں نے اعتراف کیا کہ اگر ہمیں موجودہ ٹیکہ کا اثر برقرار رکھنا ہے اور کورونا کو قابو میں کرنا ہے تو ہمارے پاس نو مہینے سے بھی کم کا وقت ہے ۔ ان کے مطابق کل اتنے ہی وقت میں پوری دنیا کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی کو ٹیکہ لگانا ہوگا ورنہ نیا ٹیکہ تلاش کرنے کی نوبت آجائے گی ۔


اس میں وبائی امراض کے ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ وائرس میں اتنی تیزی سے میوٹیشن ہوسکتا ہے کہ پہلی مرتبہ بنی ویکسین صرف تبھی موثر ہوگی جب جلد از جلد اس کا ایڈمنسٹریشن ہو ۔ بتادیں کہ پہلی مرتبہ تیار ویکسین کو فرسٹ جنریشن ویکسین کہتے ہیں ۔ اس کے بعد مسلسل ویکسین بنتی رہتی ہیں ، لیکن وہ پرانے فارمولہ میں ہی تھوڑی تبدیلی کرکے تیار ہوتی ہیں ۔ حالانکہ کورونا ویکسین کے معاملہ میں ایسا نہیں بتایا جارہا ہے ۔


کتنے فیصد سائنسداں کیا کہتے ہیں ؟

اسٹڈی میں شامل 77 ایکسپرٹس میں سے ون ففتھ نے اعتراف کیا کہ میوٹیشن اتنا زیادہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے پاس ویکسین دے کر کورونا کو پوری طرح سے ختم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ چھ مہینے کا وقت ہو ، وہیں ایک تہائی کے مطابق ویکسین کو بے اثر ہونے سے بچانے کیلئے ہمارے پاس نو مہینوں کا وقت ہے ، جبکہ اٹھارہ اعشاریہ دو فیصد کے مطابق اس کیلئے سال بھر کا وقت ہے ۔ ایک میں سے آٹھ سے بھی کم سائنسدانوں نے مانا کہ فرسٹ جنریشن ویکسین وائرس کے میوٹیٹ ہوئے روپ کیلئے موثر ہوگی ۔

پیپلز ویکسینیشن الائنس کے تحت 28 ممالک کے 77 سائنسدانوں کی ریسرچ جمع کی گئی ہے ۔ (pixabay)
پیپلز ویکسینیشن الائنس کے تحت 28 ممالک کے 77 سائنسدانوں کی ریسرچ جمع کی گئی ہے ۔ (pixabay)


دھیمی رفتار ہے خطرہ

ایچ آئی وی ایڈس پر اقوام متحدہ کے پروگرام نے ویکسینیشن کی رفتار سمجھانے کیلئے سروے کیا ، جس میں پایا گیا کہ جہاں مضبوط معیشت والے ممالک میں تیزی سے ٹیکہ کاری ہورہی ہے ، تو وہیں کئی غریب ممالک میں اب تک ٹیکہ کا پہلا ڈوز بھی دیا جانا شروع نہیں ہوسکا ہے ۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ چھ مہینے یا سال بھر کے اندر دنیا کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی کی ٹیکہ کاری نہیں ہوسکے گی ۔ اس سے ہوگا یہ کہ کورونا ہمارے درمیان ہی رہے گا اور مسلسل میوٹیشن کی وجہ سے ٹیکہ لگوا چکے لوگوں پر بھی اس کا حملہ ہوگا ۔

کوویکسین کے تیسرے ڈوز کا ٹرائل

یہی وجہ ہے کہ اب سائنسدان کورونا کے بوسٹر ڈوز کی بات کررہے ہیں ۔ ہندوستان میں بھی ویکسین بنانے والی کمپنی بھارت بایوٹیک کو ڈرگ ریگولیٹر کے سبجیکٹ ایکسپرٹ کمیٹی سے اس کی اجازت مل گئی ہے ۔ اس دوران رضاکاروں کو ویکسین کے دوسرے ڈوز کے چھ مہینے بعد ویکسین کا تیسرا ڈوز دیا جائے گا ۔ اس کو بوسٹر ڈوز اسٹڈی کہا جارہا ہے ۔

کیسے کام کرتا ہے بوسٹر ؟

بوسٹر ڈوز ایک خاص طریقہ پر کام کرتا ہے ، جس کو امیونولاجیکل میموری کہتے ہیں ۔ ہمارا امیون سسٹم اس ویکسین کو یاد رکھتا ہے جو جسم کو پہلے دیا جاچکا ہے ۔ ایسے میں طے شدہ وقت کے بعد ویکسین کی چھوٹی خوراک یعنی بوسٹر کا لگنا امیون سسٹم کو فورا الرٹ کردیتا ہے اور وہ زیادہ بہتر طریقہ سے ریسپانس دیتا ہے ۔

فی الحال ہمارے یاہں دو طرح کے ٹیکے دئے جارہے ہیں ۔ (news19 creative)
فی الحال ہمارے یاہں دو طرح کے ٹیکے دئے جارہے ہیں ۔ (news19 creative)


فی الحال دنیا میں زیادہ تر کورونا ویکسین جو دی جارہی ہیں ، ان کے دو ڈوز کچھ وقت کے وقفہ پر دئے جارہے ہیں ۔ یہ دونوں دوز مل کر پرائم ڈوز کہلائیں گے ۔ ان کے بعد بھی اگر کوئی ڈوز سال بھر یا اس سے بھی زیادہ وقت کے بعد لگوانے کو کہا جائے تو اس کو بوسٹر کہا جائے گا ۔

الگ الگ بیماریوں کیلئے بوسٹر ڈوز الگ الگ طرح سے کام کرتے ہیں ۔ جیسے کالی کھانسی کیلئے بوسٹر جلدی لگتے ہیں تو وہیں ٹٹنیس کیلئے ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس کا بوسٹر دس سالوں میں لیا جانا چاہئے کیونکہ جسم کی قوت مدافعت کم ہوچکی ہوتی ہے ۔ وہیں کورونا کے بارے میں فی الحال ہمارے پاس کوئی خاص جانکاری نہیں ہے ۔ ایسے میں میوٹیشن اور دنیا کے کئی ممالک میں دوسری و تیسری لہر کے درمیان بوسٹر ڈوز جلد سے جلد لگانے پر زور دیا جارہا ہے ۔ اس سے یہ بھی فائدہ ہوسکتا ہے کہ جب تک ہم آدھی سے زیادہ آبادی کو ٹیکہ لگائیں گے ، اس دوران شروعات میں ٹیکہ لگا چکے لوگوں کے اندر کمزور ہوئی اینٹی باڈیز کو دوبارہ ریوائیو کیا جاسکے گا ۔ تاکہ میوٹیشن سے گزرا وائرس ان پر حملہ نہ کرسکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 03, 2021 03:06 PM IST