ہوم » نیوز » Explained

جانئے کووڈ 19 اور نمونیا سے متعلق سبھی سوالات کے جواب

کورونا وائرس کے انفیکشن سے جو نمونیا ہوتا ہے وہ عام نمونیا سے کافی الگ ہے ۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

  • Share this:
جانئے کووڈ 19 اور نمونیا سے متعلق سبھی سوالات کے جواب
جانئے کووڈ 19 اور نمونیا سے متعلق سبھی سوالات کے جواب ۔ تصویر : Pixabay

ہم سبھی جانتے ہیں کہ کورونا پھیپھرے کو انفیکٹیڈ کرتا ہے اور اس کو انفیکٹیڈ کرنے والے اس وائرس کا نام نوویل کورونا وائرس ( SARS COV 2 وائرس) ہے ۔ اس انفیکشن کا پہلا معاملہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 31 دسمبر 2019 کو سامنے آیا اور اس کو کووڈ 19 نام دیا گیا ۔ یہ منہ اور ناک کے راستے ڈراپ لیٹ کے توسط سے جسم میں پہنچتا ہے ۔ سانس کی نلی سے ہوکر یہ پھیپھڑے تک جاتا ہے ۔ اس کی علامتیں اور اس کی شدت کے بارے میں یہاں میں آسان الفاظ میں بتانے کی کوشش کروں گا ۔


پھیپھڑا کیا ہے ؟


انسانی جسم میں دو پھیپھڑے ہوتے ہیں اور باہری ماحول کے ساتھ اس کی وابستگی ایک سانس کی نلی کے ذریعہ ہوتی ہے ، جو جسم کے باہر ناک اور منہ کے طور پر کھلتا ہے ۔ دائیں پھیپھڑے کے تین حصے ہوتے ہیں ، جس کو بالائی ، وسطی اور نچلا حصہ ( لوب) کہا جاتا ہے ۔ بائیں پھیپھڑے کے دو حصے ہوتے ہیں ۔ بالائی اور نچلا حصہ ۔ ہمارے آس پاس کی ہوا میں تقریبا 20 فیصد آکسیجن ہوتا ہے ، جس کو ہم اپنے منہ اور ناک سے ہوکر ایک عام سانس کی نلی کے ذریعہ پھیپھڑے تک لے جاتے ہیں ۔ پھیپھڑے میں کئی ایلوی اولائی ہوتے ہیں ، جو غبارے کے گچھے کی شکل میں ہوتے ہیں جو سانس لی گئی اور چھوڑی گئی ہوا سے پھولتے اور سکڑتے رہتے ہیں ۔ ایلوی اولائی آکسیجن کو خون میں بھیجتا ہے جو اس کو پورے جسم کے خلیات میں بھیجتا ہے ۔ بدلہ میں یہ خلیات سے گندی گیسوں جیسے کاربن ڈائی آکسائڈ کو لے کر انہیں جسم کے باہر ہوا میں بھیج دیتا ہے ۔ اس کو ہوا کی تبدیلی کہا جاتا ہے ۔ سبھی سیلس ، ٹیشوز اور ہمارے جسم کے اعضا کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زندہ بچے رہیں ۔


نمونیا کیا ہے؟

نمونیا پھیپھڑے کی بیماری ہے ، جس کی وجہ سے اس کی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور جسم میں خون کو ضروری آکسیجن یہ نہیں پہنچا پاتا ہے ۔ اس کی وجہ بیکٹریا ، وائرس اور فنگس ہوسکتے ہیں ۔ نمونیا کی وجہ ایلوی اولائی میں فلوئڈ بھر جاتا ہے اور پھر اس میں آکسیجن کیلئے جگہ نہیں بچتی ہے ، اس لئے خون کو آکسیجن تک پہنچانے کا جو اہم کام ایلوی اولائی کا ہے وہ رک جاتا ہے ۔

نمونیا کیسے ہوتا ہے ؟

یہ جرثومے ایلوی اولائی میں پنپتے رہتے ہیں اور اس کو پوری طرح سے بھر دیتے ہیں ۔ ہمارے جسم کا امیون سسٹم اس سے لڑتا ہے تاکہ وہ ان جرثوموں کو مار سکے ، اس میں آئے سوجن کی وجہ سے پھیپھڑا سیال اور مردہ خلیات سے بھر جاتا ہے اور وہاں ہوا کی تبدیلی کیلئے کوئی جگہ نہیں بچتی ہے ، جس کی وجہ سے بلغم یا سانس لینے میں تکلیف جیسی علامتیں ہمارے جسم میں ظاہر ہوتی ہیں ۔

کووڈ نمونیا دیگر نمونیا سے کیسے الگ ہے ؟

علامت کی بنیاد پر کورونا وائرس اور کسی دیگر وائرس ، بیکٹیریا یا فنگس سے ہونے والے نمونیا میں فرق کرنا مشکل ہے ۔ انفیکشن کی حقیقی وجہ جاننے کیلئے کئی طرح کی لیباریٹری جانچ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کچھ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس پھیپھڑے کے کم علاقہ کو متاثر کرتا ہے ۔ اس کے بعد وہ مکمل پھیپھڑے میں اگلے کئی دنوں اور ہفتوں کے درمیان پھیلنے کیلئے اپنے امیون سسٹم کا استعمال کرتا ہے ۔ جیسے جیسے انفیکشن پھیپھڑے میں پھیلتا ہے ، یہ کورونا سے متاثر مریض کے پھیپھڑے کو نقصان پہنچاتا ہے ، جس کی وجہ سے بخار آتا ہے ، کھانسی ہوتی ہے ، سانس لینے میں تکلف ہوتی ہے ، گردا ، دماغ ، دل اور جسم کے دیگر اعضا کو نقصان پہنچتا ہے ۔

کیا کووڈ 19 سے متاثر ہر مریض کو نمونیا ہوتا ہے ؟

نہیں ، نمونیا کووڈ کی عام علامت نہیں ہے ۔ 60 سے زیادہ عمر کے لوگ اور جنہیں ہائی بلڈ پریشر ، دل اور پھیپھڑے کی پریشانی ، ڈائبٹیز ، موٹاپا یا کینسر ہوتا ہے ، ان کے جسم میں اس کے زیادہ سنگین ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ حالانکہ کوئی بھی شخص کسی بھی عمر میں کورونا کی وجہ سے سنگین طور پر بیمار پڑسکتا ہے ۔ جن لوگوں میں اس کی علامتیں نظر آتی ہیں ، ان میں سے زیادہ تر ( 80 فیصد) اسپتال میں بھرتی کئے بغیر ٹھیک ہوجاتے ہیں ۔ تقریبا 15 فیصد مریض ہی اس سے سنگین طور پر بیمار ہوتے ہیں اور انہیں آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے اور صرف پانچ فیصد مریض بہت زیادہ بیمار ہوجاتے ہیں ، جنہیں انتہائی نگہداشت جیسے وینٹی لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لئے کورونا سے مرنے کا اندیشہ بہت کم ہوتا ہے ، لیکن کشیدگی اور فکر کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کی مانگ کافی بڑھ جاتی ہے ، جس کی وجہ سے اس بیماری کے علامتیں بڑھنے لگتی ہیں ۔ اس لئے اس انفیکشن میں جسمانی اور ذہنی آرام ضروری ہوتا ہے ۔

مناسب علاج سے نمونیا کتنے دنوں میں ٹھیک ہوجاتا ہے ؟

دیگر نمونیا کے مقابلہ میں کووڈ کا نمونیا ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ ہفتوں میں ہی ٹھیک ہوجائے ، مگر کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں ۔ کئی مرتبہ پوری طرح ٹھیک ہونے میں چھ ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے ۔ کئی معمامات میں یہ پھیپھڑے کے کچھ حصے کو مستقل طور پر نقصان پہنچاتا ہے ، لیکن پھیپھڑے کا باقی حصہ اس خراب حصے کے کردار کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ۔ تاکہ جسم میں آکسیجن کی مطلوبہ مقدار دستیاب ہوتی رہے ۔

کووڈ کے بعد بہتر طریقہ سے ٹھیک ہونے کیلئے کیا کرنا چاہئے ؟

اپنے ڈاکٹر سے مسلسل رابطے میں رہیں اور ان کے مشورہ کو پوری طرح مانیں ۔ پیٹ کے بل لیٹ کر سانس لیتے رہیں ۔  صحت مند طرز زندگی اختیار کریں اور مناسب اور ضروری کھانا ہی لیں ۔ دھیان اور یوگا کریں تاکہ ذہنی اور جسمانی طور سے صحت مند برقراررہیں ۔

Dr Niket Rai
MBBS, MD
Maulana Azad Medical College and associated LOK Nayak Hopital’
New Delhi

Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 10, 2021 12:02 AM IST