ہوم » نیوز » Explained

کس کو ٹیکہ لگوانا چاہئے اور یہ کیوں ضروری ہے ، جانئے ایسے ہی سوالات کے جواب

جس شخص میں امیون سسٹم اس قابل نہیں ہوتا ہے ، اس کے جسم میں اس شخص کے موازنہ میں مرض سے لڑنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے ، جن کے جسم کا امیون سسٹم بہتر ہے ۔

  • Share this:
کس کو ٹیکہ لگوانا چاہئے اور یہ کیوں ضروری ہے ، جانئے ایسے ہی سوالات کے جواب
کس کو ٹیکہ لگوانا چاہئے اور یہ کیوں ضروری ہے ، جانئے ایسے ہی سوالات کے جواب

جن لوگوں کا امیون سسٹم کمزور ہے اور وہ ٹیکہ کاری کو لے کر تذبذب میں ہیں ۔ ٹیکے کے کارگر اور محفوظ ہونے کے بارے میں لوگوں کے ذہن میں کئی شکوک و شبہات ہیں ۔ یہاں ہم ٹیکہ کاری کو لے کر ایسے ہی کچھ شکوک و شہبات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔ تاکہ لوگوں کو ٹیکہ کاری کے بارے میں کسی فیصلہ پر پہنچنے میں مدد ملے ۔


امیونٹی کیا ہے ؟


امیونٹی ہمارے جس کا دفاعی نظام ہے جو ہمیں انفیکشن سے بچاتا ہے ۔ سیدھے الفاظ میں کہیں تو جسم کی یہ وہ طاقت ہے جس کے دم پر وہ ان کی چیزوں سے لڑتا ہے جس کو جسم باہری ( انٹیجین ) سمجھتا ہے اور جسم میں اس کے پہنچنے پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ جسم میں دو طرح کی امیونٹی ہوتی ہے ۔ ایک جو جسم میں پہلے سے ہوتی ہے اور دوسری وہ جو جسم حاصل کرتا ہے ۔ یہ اندرونی امیونٹی ہمارے جسم میں پیدائش سے ہی ہوتی ہے اور دوسری وہ باہری محرکات کی وجہ سے حاصل کرتا ہے ۔ جب کورونا وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو ہمارا جسم اینٹیجین کے طور پر اس کی شناخت کرتا ہے ۔ ہمارا امیون سسٹم اس کے خلاف لڑائی چھیڑ دیتا ہے اور وہ اس وائرس کی ساخت کو بھی دھیان میں رکھتا ہے تاکہ دوسری مرتبہ اگر وہ حملہ کرے تو اس کے خلاف اور اس سے ملتی جلتی ساخت والے انٹیجین کے خلاف وہ امیونٹی حاصل کرسکے ۔ جس شخص میں امیون سسٹم اس قابل نہیں ہوتا ہے ، اس کے جسم میں اس شخص کے موازنہ میں مرض سے لڑنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے ، جن کے جسم کا امیون سسٹم بہتر ہے ۔


امیون سسٹم کی کمزوری والے یہ لوگ کون ہیں ؟

امیون سسٹم کی کمزوری والا شخص وہ ہے جس کا امیون سسٹم اینٹیجن کے خلاف موثر لڑائی نہیں لڑپاتا ہے ۔ جن لوگوں میں تغذیہ کی کمی ہوتی ہے ( زیادہ تر سماجی  و اقتصادی نظریہ سے نچلے پائیدان پر کھڑے لوگ جو نقص تغذیہ کا شکار ہوتے ہیں ) یا پھر ایسے لوگ جن کو ایچ آئی وی انفیکشن کی وجہ سے ایڈس ہوا ہے ، ٹی بی کے مریض ہیں ، جس شخص میں ڈائبٹیز کنٹرول میں نہیں ہے ، بیڑی اور سیگریٹ پینے کی وجہ سے جس کو سی او پی ڈی ہوتا ہے ، جس کو کینسر ہے اور جو کینسر کے علاج کی کڑی میں امیونٹی کو دبانے کیلئے دوا لے رہے ہیں ، جیسے کیمیوتھیریپی اور ریڈییوتھیریپی یا جن کے اعضا کی پیوندکاری ہوئی ہے ۔

کیا ان لوگوں کو انفیکشن زیادہ ہوسکتا ہے ؟

ہاں ! چونکہ اینٹیجن کے خلاف ان کے جسم کا امیون سسٹم کا جواب بہت کمزور ہوتا ہے ، اس لئے ان میں کورونا جیسے انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے  ۔

کیا انہیں ٹیکہ لینے کی ضرورت ہے ؟

ہاں ، کیونکہ جن کے جسم کا امیون سسٹم کمزور ہے ، ان کو کووڈ ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ، اس لئے انہیں ٹیکہ ضرور لگوانا چاہئے ۔

کیا کمزور اور مضبوط امیون سسٹم والے دونوں طرح کے لوگوں میں ٹیکہ ایک ہی طرح سے کارگر ہوتا ہے ؟

ٹیکہ اینٹیجن ہے ، جس کی ساخت وائرس کی طرح ہی ہوتی ہے ، مگر اس کی اندرونی ساخت الگ ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسا وائرس ہوتا ہے جس میں بیماری پیدا کرنے کی طاقت نہیں ہوتی ۔ یہ امیون سسٹم کو مضبوط بناتا ہے تاکہ یہ بیماری نہیں پیدا کرسکنے والے اس وائرس کے خلاف قدرتی انٹی باڈیز تیار کرسکے ، لیکن جس شخص کا امیون سسٹم کمزور ہے ، اس میں یہ طاقت کم ہوجاتی ہے اور اس لئے اس کے جسم میں زیادہ امیونٹی والے شخص کے مقابلہ میں کم امیونٹی پیدا ہوگی ۔

کیا ایسا کوئی ٹیسٹ ہے جس سے انفیکشن اور ٹیکہ کاری کے بعد جسم میں امیونٹی کی حالت کا پتہ لگایا جاسکے ؟

ہاں ! انفیکشن اور ٹیکہ کاری کے بعد جسم میں امیونٹی کی صورتحال کا پتہ لگانے کیلئے لیباریٹری جانچ دستیاب ہے ۔

یہ کیسے پتہ چلے گا کہ ٹیسٹ میں جس اینٹی باڈیز کا پتہ چلا ہے وہ کافی ہے ؟

اس کیلئے ٹیسٹ دستیاب ہے ، لیکن ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ اگلی مرتبہ جسم کو بچانے کیلئے ہمیں کتنی مقدار میں انٹی باڈیز کی ضرورت ہوگی اور یہ ہمارے جسم کو مختلف طرح کے وائرس سے بچا پائے گا یا نہیں ۔

کیا ایسے لوگ جن کے خون میں اینٹی باڈیز کا پتہ نہیں چلتا ، ان کو انفیکشن کا ڈر زیادہ ہوتا ہے ؟

جسم میں اینٹی باڈیز کی موجودگی اور غیرحاضری آگے اور انفیکشن سے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ملتی ۔ جس شخص کے جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، اس کو بھی انفیکشن ہوسکتا ہے اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جس کے جسم میں کوئی اینٹی باڈی نہیں ہے اس کو کوئی انفیکشن نہ ہو ۔ ابھی تک اس بارے میں کوئی ٹیسٹ دستیاب نہیں ہے ، اسلئے کچھ بھی یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتاہے ۔

تو پھر ٹیکہ لینے کا کیا فائدہ ہے ؟

ٹیکہ اس لئے لگایا جاتا ہے تاکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو انفیکشن ہونے سے بچایا جاسکے یا اگر کسی کو انفیکشن ہوتا بھی ہے تو یہ بہت ہی ہلکا ہو ۔ اس بات کا کافی امکان ہوتا ہے کہ جنہوں نے ٹیکہ لگایا ہوا ہے ، انفیکشن ہونے کے بعد بھی ان کی جان بچ جائے اس کے مقابلہ میں جنہوں نے ٹیکہ نہیں لگوایا ہے ۔

کس کو ٹیکہ لینا چاہئے ، جس کا امیون سسٹم مضبوط ہے یا جس کا کمزور ہے ؟

ہر شخص کو ٹیکہ لینا چاہئے خواہ اس کے اندر امیونٹی کی صورتحال کچھ بھی ہوا ۔ ٹیکہ لگوانے والے لوگوں کی تعداد جتنی ہی زیادہ ہوگی ، کمزور امیونٹی والے لوگوں کے متاثر ہونے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا ۔ جتنی زیادہ تعداد میں ایسے افراد کو ٹیکہ لگایا جائے گا جن کے جسم کا امیون سسٹم کزور ہے ، اتنے ہی کم لوگوں کی انفیکشن سے موت ہوگی ۔

ٹیکہ کاری کے بعد جسم میں اینٹی باڈیز بنے یا نہ بنے ، ہر شخص کو ٹیکہ لگوانا چاہئے ۔ ٹیکہ لگوائے لوگوں کی تعداد جتنی ہی زیادہ ہوگی ، کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا ۔



Dr Niket Rai
MBBS, MD
Maulana Azad Medical College and associated LOK Nayak Hopital’
New Delhi


Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 12, 2021 12:01 AM IST