ہوم » نیوز » Explained

Explained:کیاکوروناویکسی نیشن کوآدھارسےکیاجائیگامربوط؟’چہرہ شناسی‘کےذریعےممکن ہوگاویکسی نیشن؟

جھارکھنڈ کے کووڈ۔19 ویکسی نیشن مراکز میں چہرہ شناسی پائلٹ پروجیکٹ کے اعلان کے بعد ہی متعدد افراد نے چہرے کی نگرانی لانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا ہے۔ جبکہ کئی لوگوں نے ذاتی اعداد و شمار کو جمع کرنے سے پہلے ڈیٹا سیکیورٹی کی تصدیق نامہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

  • Share this:
Explained:کیاکوروناویکسی نیشن کوآدھارسےکیاجائیگامربوط؟’چہرہ شناسی‘کےذریعےممکن ہوگاویکسی نیشن؟
کیا کورونا ویکسی نیشن کو آدھار سے کیاجائیگامربوط ؟

ہندوستان میں کورونا وائرس (Covid-19) کے خلاف ویکسینیشن مہم کی کوششوں کو آدھار پر مبنی چہرے کی شناخت (Aadhaar based face recognition) سے مربوط کی کاویشیں کی جارہی ہیں۔ اس عمل کو مختلف افراد کو ایک دوسرے سے رابطہ میں آنے سے بچنے کے لیے لازمی قرار دیا جارہا ہے۔دی پرنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (National Health Authority) کے سربراہ آر ایس شرما نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان میں آدھار پر مبنی ذاتی شناختی دستاویز کی گورننگ باڈی ’یونیک آئیڈنٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا‘ (UIDAI) آدھار سے حاصل کردہ چہرے کے اعداد و شمار کے ڈیٹا بیس کی بنیاد پر اپنے چہرے کی شناخت سے متعلق الگورتھم کو جانچنے کے لئے پہلے ہی ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کرچکی ہے۔ تاکہ اس سے ملک میں ویکسینیشن مہم کے لیے مدد حاصل ہوسکے۔یو آئی ڈی اے آئی کے سابق مشن ڈائریکٹر نے اس ہنگامہ پروجیکٹ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ہندوستان میں کووڈ۔19 کی ویکسی نیشن مہم کو افراد کے درمیان کسی بھی طرح کے رابطے سے پاک بنانے میں کلیدی ثابت ہوگا۔


چہرا شناشی(Face Recognition) کا عمل کس طرح کام کرے گا؟


شرما کے دی پرنٹ سے انٹرویو پر مبنی اطلاعات کے مطابق کووڈ۔19 ویکسینیشن مہم میں فی الحال فنگر پرنٹ یا ریٹنا اسکینں پر مبنی بائیو میٹرک تصدیق کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی تصدیق کے طریقہ کار کی وجہ سے کئی افراد ایک دوسرے کے رابطے میں آسکتے ہیں۔


شرما کا کہنا ہے کہ چہرا شناشی (FACE RECOGNITION) ویکسینیشن مراکز میں حادثاتی انفیکشن کے خدشات کو دور کرنے میں مدد دے گا۔ اس کے لیے شہریوں کو آروگیا سیٹو ایپ (Aarogya Setu app) پر کو-ون پورٹل (Co-WIN portal) کے ذریعے کووڈ۔19 ویکسی نیشن سیٹ اپ میں اندراج کرنا ہوگا۔

ملک میں 80 لاکھ لوگوں کو لگایا گیا ٹیکہ ، اب تک سامنے نہیں آیا کوئی بھی سنگین معاملہ
ملک میں 80 لاکھ لوگوں کو لگایا گیا ٹیکہ ، اب تک سامنے نہیں آیا کوئی بھی سنگین معاملہ


اندراج کے دوران صارف اپنے موبائل نمبر کو لنک کرسکتے ہیں اورشناختی دستاویز کے طور پر آدھار نمبر استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک بار ویکسی نیشن مرکز میں وہ صارفین جنھوں نے آدھار کا استعمال کیا اپنی شناخت کو مستند طور پر صرف چہرے کے ذریعے ظاہر کرسکتے ہیں۔ وہ ویکسی نیشن مراکز پر چہرے کی شناخت کا استعمال کرکے خود بخود اس کی تصدیق کر لیں گے۔

چہرا شناشی کے فوائد:

کووڈ۔19 ویکسی نیشن مہم میں چہرے کی پہچان کو استعمال کرنے میں واضح فائدہ یہ ہوگا کہ اس پورے عمل کے دوران افراد کے مابین کم رابطہ ہوگا۔ اس سے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کووڈ۔19 پوری دنیا میں لوگوں میں ایک دوسرے سے رابطہ بڑھنے کی وجہ سے اضافہ ہورہا ہے۔

ایک مناسب فاصلے پر رکھے گئے کیمرے کے ذریعہ چہرا شناسی کے استعمال سے شہریوں کو ’فنگر پرنٹ‘ کے لیے کسی بھی مشین کو چھونے یا اس پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگا۔ اس طرح فنگر پرنٹ کے ذریعہ رجسٹریشن کرنے کی ضرورت خود بہ خود ختم ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ چہرے شناسی کے تحت ویکسی نیشن مہم کے دوران ویکسین حاصل کرنے والوں کو مرکزی حکومت ایک ڈیجیٹل کوڈ - 19 ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ (digital Covid-19 vaccination certificate) بھی جاری کرے گی، جو بین الاقوامی سطح پر فاسٹ ہیلتھ کیئر انٹرآپریبلٹی وسائل کے معیار کے مطابق ہوگی۔

مذکورہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کو کسی فرد کی ذاتی شناخت سے جوڑ دیا جائے گا۔ شرما نے کہا کہ یو آئی ڈی اے آئی آدھار ڈیٹا بیس میں پہلے سے موجود ڈیٹا کا استعمال کرنا کسی بھی طرح نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کے بجائے یہ عمل ویکسین کی مہم کو آسان سے آسان تر بنانے کے لیے کیا جائے گا۔

راز داری اور ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق خدشات:

جھارکھنڈ کے کووڈ۔19 ویکسی نیشن مراکز میں چہرہ شناسی پائلٹ پروجیکٹ کے اعلان کے بعد ہی متعدد افراد نے چہرے کی نگرانی لانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا ہے۔ جبکہ کئی لوگوں نے ذاتی اعداد و شمار کو جمع کرنے سے پہلے ڈیٹا سیکیورٹی کی تصدیق نامہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی ضمن میں مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود (Union Minister for Health and Family Welfare) اشوینی کمار چوبی (Ashwini Kumar Choubey) نے کہا تھا کہ ویکسین لگانے کے لیے افراد کو ان کے آدھار کی تفصیلات فراہم کرنے یا ان سے منسلک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

دو مہینے پہلے کا یہ بیان این ایچ اے کے چیف شرما کے آدھار پر مبنی چہرے کی شناخت کے بارے میں تازہ ترین اعلان کے خلاف ہے۔ انھوں نے دعوی کیا ہے کہ جیسے ہی یو آئی ڈی اے آئی اپنے مذکورہ پائلٹ منصوبے میں پچاس تا ساٹھ ہزار افراد کی چہرہ شناشی کرلے گی، تو یہ پورے ملک میں لازمی کردیا جائے گا۔

اس اعلان کے بعد کئی شہریوں اور سماجی کارکنان کی جانب سے پرائیویسی اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے ضمن میں سخت تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جب کہ اشوینی کمار چوبی (Ashwini Kumar Choubey) نے کہا تھا کہ ویکسین لگانے کے لیے افراد کو ان کے آدھار کی تفصیلات فراہم کرنے یا ان سے منسلک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس کے دوران نیوز 18 کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن آف انڈیا (IFF) کے پارلیمانی اور پالیسی مشیر سدھارتھ دیب نے اروگیا سیٹو کو محفں عوام کی خدمت کے لیے ایک ایپ قرار دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے زیادہ شفافیت برتی جارہی ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 08, 2021 02:06 PM IST