உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    COVID-19 Vaccine:کووڈ ویکسین اور بچے کو دودھ پلانا، ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ احتیاط ضروری

    نوزائیدہ بچوں کی نارمل نشو نما اور صحت مند ڈیولپمنٹ کیلئے ماں کا دودھ انتہائی مقوی اور غذائیت سے بھر پور خوراک ہوتا ہے۔ (تصویر:shutterstock)۔

    نوزائیدہ بچوں کی نارمل نشو نما اور صحت مند ڈیولپمنٹ کیلئے ماں کا دودھ انتہائی مقوی اور غذائیت سے بھر پور خوراک ہوتا ہے۔ (تصویر:shutterstock)۔

    نوزائیدہ بچوں کی نارمل نشو نما اور صحت مند ڈیولپمنٹ کیلئے ماں کا دودھ انتہائی مقوی اور غذائیت سے بھر پور خوراک ہوتا ہے۔ اس میں ایسی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو انفیکشنز کے خلاف لڑنے کیلئے نوزائیدہ بچے میں امیونٹی کو تقویت بخشتی ہیں۔

    • Share this:
      یہ وبا اپنے ساتھ ایسے غلط تصورات بھی لے آئی جو آج معاشرے کے ہر کونے میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت جبکہ COVID-19 کے خلاف لڑائی میں ہر محاذ پر فتح حاصل ہو رہی ہے، ایک نئے مفروضے نے جنم لے لیا ہے جو ایک خاص جغرافیائی علاقے میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ مفروضہ شیر خوار بچے والی عورتوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ اس غلط معلومات میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ کوئی بھی کوویڈ ویکسین فرٹیلیٹی، بچے پیدا کرنے کی طاقت اور دودھ پلانے کے عمل کیلئے خطرہ ہے۔ صرف بیان ہی میں اتنی طاقت ہے کہ یہ لاکھوں خواتین اور خاندانوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس نے خواتین کے مقابلے مردوں پر اثر ڈالا جو خود کو ویکسینیشن کیلئے رجسٹر کر رہے تھے، حالانکہ کوویڈ کسی بھی طرح جنس کی بنیاد پر کسی کو اپنا نشانہ نہیں بناتا ہے۔

      ویکسین دئے جانے کے ابتدائی مراحل میں، حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی خواتین کیلئے اس کے محفوظ ہونے سے متعلق ڈیٹا کم دستیاب تھا، اسلئے ان سے فی الوقت ویکسین لینے سے گریز کرنے کو کہا گیا۔ تاہم، سائنسی حقیقت کے اس کے برعکس ہونے کے باوجود، اس مفروضے نے معاشرے میں ویکسین سے متعلق جھجھک کی سطحوں میں اضافہ کیا۔ حال ہی میں خواتین کیلئے ویکیسنوں کی فراہمی میں اضافے کے دوران اس موضوع پر زیادہ بحث ہونے لگی۔ یہ اگست کا مہینہ تھا، وہ مہینہ جب عالمی بریسٹ فیڈنگ ماہ منایا جاتا ہے۔


      ہر سال، اگست کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر میں عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ منایا جاتا ہے اور اگست کے مہینے میں بریسٹ فیڈنگ ماہ منایا جاتا ہے۔ 2021 کا تھیم ’’بریسٹ فیڈنگ کو تحفظ فراہم کرنا: ایک مشترکہ ذمہ داری ہے‘‘۔ اس دوران بچوں اور ماؤں کیلئے بریسٹ فیڈنگ کی اہمیت اور بچوں کی مجموعی صحت اور فلاح میں مجموعی طور پر کمیونٹی کی ذمہ داری کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ماؤں کیلئے، یہ پستان کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے اور بچوں کے درمیان وقفے کا اہتمام کرتا ہے۔ بچوں کیلئے، یہ ان کی امیونٹی کو بہتر بناتا ہے اور مختلف قسم کے انفیکشنز سے ان کی حفاظت کرتا ہے اور حواسِ خمسہ کے ڈیولپمنٹ کو فروغ دیتا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی نارمل نشو نما اور صحت مند ڈیولپمنٹ کیلئے ماں کا دودھ انتہائی مقوی اور غذائیت سے بھر پور خوراک ہوتا ہے۔ اس میں ایسی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو انفیکشنز کے خلاف لڑنے کیلئے نوزائیدہ بچے میں امیونٹی کو تقویت بخشتی ہیں۔

      عالمی ادارۂ صحت (WHO) بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر اسے ماں کا دودھ پلانے اور اس کی زندگی کے ابتدائی 6 مہینوں کے دوران صرف ماں کا دودھ پلانے، اور اس کے بعد 2 سال یا اس سے زیادہ عرصے تک مفید سپلیمنٹری فوڈ کے ساتھ ماں کا دودھ پلانے کی تجویز دیتا ہے۔ 1 تاہم، ایسی ماؤں کیلئے جنہوں نے ویکسین لگوا لی ہے، ایسے کئی مفروضوں کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس بات کو قبول کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے کہ ویکسینیشن کے نتیجے میں بچے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کی وجہ سے کئی معاملات میں دودھ پلانا روک دیا گیا ہے، جبکہ چند معاملات میں ویکسینیشن سے انکار کیا گیا ہے۔

      دیہی علاقوں میں اس کا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے جہاں لوگوں کو ٹیکنا لوجی اور توثیق شدہ معلومات تک محدود رسائی حاصل ہے۔ ایکریڈیٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹس (ASHA)، آکزیلیری نرس مڈ وائف اور آنگن واڑی ورکرز نے ان رکاوٹوں کو توڑنے کیلئے انتھک محنت کی ہے، لیکن خواتین اور بچوں کے اپنی صحت اور نیوٹریشنل ضروریات کو پورا نہ کرنے کا خطرہ لاحق ہے۔ سائنس نے دنیا کو بتایا ہے کہ ویکسین دودھ پینے والے بچے یا ایکسپریس کردہ انسانی دودھ پینے والے بچے کیلئے خطرہ نہیں ہے۔ 2

      WHO اور UNICEF کے مطابق، ایسی ماؤں سمیت جنہیں COVID-19 ہونے کا شبہ ہے، تمام مائیں اپنے نوزائیدہ بچوں اور چھوٹے بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں۔ ماں کے دودھ میں COVID-19 کا سبب بننے والے کورونا وائرس کی علامات نہیں پائی جاتی ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق، COVID-19 انفیکشن ہونے کے دوران بھی ماؤں کو اپنے بچے کو دودھ پلانا محفوظ ہے، البتہ انہیں یہ کام ڈاکٹرو کی تجویز کردہ احتیاط کے ساتھ کرنا چاہئے۔3 COVID اسٹیٹس کے برخلاف، ماں کے دودھ پلانے کے عمل کو فروغ دینا چاہئے۔ اب تک COVID-19 ویکسینوں سے متعلق ہونے والی تحقیقات COVID-19 ویکسین کے کام کرنے کے طریقے سے متعلق معلومات کے مطابق، دودھ پلانے والی ماؤں کو ویکسین لگانے سے ان کے نوزائیدہ بچوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ ویکسین لگوانے والی ماں کے دودھ میں اینٹی باڈیز بھی شامل ہو سکتی ہیں، جو وائرس سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ماؤں کی مدد کر سکتی ہیں۔4,5,6 WHO کی موجودہ گائیڈلائنز اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ مندرجہ ذیل احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلا سکتی ہیں:

      دودھ پلانے کے دوران صفائی کا خیال رکھیں، اس میں ماسک پہننا یا اپنے منہ اور ناک کو ڈھکنا بھی شامل ہے

      • بچے کو چھونے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے 20 سیکنڈ تک دھونا

      • وہ جن سطحوں کو چھوتے ہیں، انہیں باقاعدہ طور پر صاف اور ڈِس انفیکٹ کرنا


      دودھ پلانے والی ماؤں میں امیونائزیشن کو فروغ دینے اور ویکسین لگوانے کی خواہش بڑھانے کے ساتھ عالمی بریسٹ فیڈنگ ماہ کا جو تعلق ہے، اس کے ضمن میں، عالمی بریسٹ فیڈنگ ماہ ایک عمل انگیز کا کام سر انجام دے سکتا ہے۔

       

      رینوکا برگوڈیا، کوآرڈنیٹر، یونائٹیڈ وے ممبئی اور

      تارا رگھوناتھ، کوآرڈنیٹر، یونائٹیڈ وے ممبئی

       

      حوالہ جات

      1. http://apps.who.int/iris/bitstream/10665/42590/1/9241562218.pdf

      2. https://www.unicef.org/vietnam/stories/frequent-asked-questions-covid-19-vaccines-and-breastfeeding

      3. https://www.euro.who.int/en/media-centre/sections/press-releases/2021/who-recommends-continuing-breastfeeding-during-covid-19-infection-and-after-vaccination

      4. https://news.harvard.edu/gazette/story/2021/03/study-shows-covid-19-vaccinated-mothers-pass-antibodies-to-newborns/

      5. https://www.cedars-sinai.org/blog/newborn-covid-19-immunity.html

      6. https://www.news-medical.net/news/20210407/COVID-19-antibodies-persist-in-breast-milk-for-months-following-mothere28099s-vaccination.aspx


      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: