உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآباد دکن میں واقع دائرہ میر مومن جہاں کربلا کی خاک شفا ہے، دکن آرکائیو کی جانب سے ہیریٹیج واک کا اہتمام

    دائرہ میر مومن (تصویر: محمد رحمان پاشا)

    دائرہ میر مومن (تصویر: محمد رحمان پاشا)

    پرانے شہر حیدرآباد کے سلطان شاہی نامی علاقے میں واقع تقریباً چار صدی پرانا قبرستان دائرۂ میر مومن کئی خصوصیات کا حامل ہے۔ چارمینار کا نقشہ تیار کرنے والے آرکٹیکیٹ میر محمد مومن استرآبادی کی آخری آرام گاہ یہی ہے۔

    • Share this:
    حیدرآباد دکن سے متعلق تاریخ و ثقافت پر کام کرنے والا ادارہ دکن آرکائیو (Deccan Archives) کی جانب سے 30 جنوری 2022 بروز اتوار کو دائرۂ میر مومن استرآبادی (میر کا دائرہ) میں ہیریٹیج واک کا اہتمام کیا گیا۔ پرانے شہر حیدرآباد کے سلطان شاہی نامی علاقے میں واقع تقریباً چار صدی پرانا قبرستان دائرۂ میر مومن کئی خصوصیات کا حامل ہے۔ چارمینار کا نقشہ تیار کرنے والے آرکٹیکیٹ میر محمد مومن استرآبادی (Mir Momin Astarabadi) کی آخری آرام گاہ یہی ہے۔ اسلامی تاریخ یعنی ہجری کے ایک ہزار سال مکمل ہونے پر چار مینا کو یادگار کے طور پر بانی شہر حیدرآباد محمد قلی قطب شاہ (پیدائش 4 اپریل 1566 ۔ وفات: 11 جنوری 1612) نے تعمیر کرایا تھا۔ یوں میر محمد مومن استرآبادی کو قطب شاہی سلطنت میں کئی اعتبار سے خصوصی حیثیت حاصل تھی۔

    آخر کون تھے میر محمد مومن استرآبادی؟

    سید رفیع الدین قادری ممتاز ماہر لسانیات و دکنیات اور مورخ ڈاکٹر محی الدین قادری زور کے فرزند ہیں۔ ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے برصغیر اور خاص کر دکن کی ادبی، علمی اور مذہبی شخصیتوں پر جو مضامین لکھے تھے؛ ان میں سے منتخب مضامین کو سید رفیع الدین قادری نے افاداتِ زور جلد چہارم (شخصیات) کے نام سے کتابی شکل میں مرتب کیا ہے۔ کتاب میں شامل ڈاکٹر زور اپنے مضمون ’محمد قلی قطب شاہ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’حیدرآباد کی تعمیر کے زمانے میں محمد قلی قطب شاہ کے وزیر اعظم اور پیشواۓ سلطنت ایک بہت بڑے عالم اور ایرانی شاعر میر محمد مومن تھے، ان کا بادشاہ پر بڑا اثر تھا، یہ مسلمانوں کے فرقہ امامیہ کے مجتہد اور مبلغ تھے۔ انھوں نے بادشاہ کو بھی اس مذہب کے اصولوں کا اتنا گرویدہ بنالیا کہ اس نے پوری سلطنت میں ہر جگہ عاشور خانے بنوائے اور علم اور تعزیوں کو رواج دیا۔ ہر سال محرم کے زمانے میں ہندو اور مسلمان دونوں ایام عزا میں دل چسپی لینے لگے اور یہ رواج کئی سو سال گزر جانے کے بعد بھی اب تک دکن میں موجود ہے اور کئی دیہات کے عاشورخانوں کے متولی ہندو چلے آتے ہیں‘‘۔ افاداتِ زور جلد چہارم (شخصیات) صفحہ نمبر: 39

    انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (INTACH)، حیدرآباد چیاپٹر کی کنوینر انورادھا ریڈی (Anuradha Reddy) نے نیوز 18 اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قطب شاہی سلطنت کے پانچواں حکمران محمد قلی قطب شاہ کے دور میں میر محمد مومن استرآبادی کو پیشوا / وزیر اعظم کا درجہ حاصل تھا۔ حیدرآباد کی جدید طرز پر مبنی تعمیر و ترقی میں میر محمد مومن کا زبردست کردار رہا ہے۔

    انورادھا ریڈی نے بتایا کہ ایرانی شہر اصفہان سے دکن آمد کے بعد میر مومن استرآبادی نے شہر حیدرآباد کے قیام کے اولین دور میں ہی جدید طرز کی تعمیرات پر زور دیا۔ شہر اصفہان خود دنیا کے بڑے متمدن شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ میر مومن خان نے اصفہان کے تعمیراتی طرز سے متعلق اپنے تجربات اور مشاہدات کو دکن آمد کے بعد بادشاہ وقت کے سامنے پیش کیا اور شہر میں جدید تعمیرات کے دوارن ان کے تجربات سے استفادہ بھی کیا گیا۔

    نوجوان مورخ صبغت اللہ خان ہیریٹیج واک کے دوان شرکا کو تاریخی حقائق سے واقف کراتے ہوئے (تصویر: محمد رحمان پاشا)
    نوجوان مورخ صبغت اللہ خان ہیریٹیج واک کے دوان شرکا کو تاریخی حقائق سے واقف کراتے ہوئے (تصویر: محمد رحمان پاشا)


    دائرۂ میر مومن کی خصوصیت:

    دائرۂ میر مومن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تمام ہی مکاتب فکر کے ماننے والے مسلمانوں کی مرنے کے بعد تدفین عمل میں آتی ہے۔ یہ حیدرآباد کے قدیم ترین قبرستانوں میں سے ایک ہے۔ یہاں معروف موسیقار استاد بڑے غلام علی خان (پیدائش: 2 اپریل 1902، قصور، پاکستان ۔ وفات: 25 اپریل 1968 حیدرآباد) کے علاوہ کئی نوابوں اور ان کی آل و اولاد بھی مدفون ہیں۔

    دکن آرکائیو کی جانب سے منعقدہ ہیریٹیج واک کے دوران دکن آرکائیو کے بلاگر، حیدرآباد دکن کے تاریخی و ثقافتی مقامات پر مبنی دستاویزی کتاب Hyderabad Deccan: Illustrated کے معاون مصنف اور نوجوان مورخ صبغت اللہ خان نے نیوز 18 اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میر مومن استرآبادی دکن آمد کے موقع پر اپنے ساتھ کربلا کی خاک شفا بھی ساتھ لائے تھے اور وہ اسی قبرستان میں موجود ہے۔ میر مومن استرآبادی سمیت کئی اہم شخصیات جنہوں نے حیدرآباد کی بنیاد رکھنے میں بھرپور تعاون پیش کیا تھا، وہ یہاں سپرد خاک ہیں۔ جن شخصیتوں کو یہاں سپرد خاک کیا گیا ہے؛ ان میں نجف اشرف، عراق سے تعلق رکھنے والی مشہور صوفی شخصیت حضرت شاہ چراغ کی بھی آخری آرام گاہ یہیں ہے۔ ان کا وصال 957 ہجری میں ہوا تھا، جو کہ آصف جاہ اول قلی قطب شاہ کا دور تھا۔

    عاشور خانہ شاہ چراغ (تصویر: محمد رحمان پاشا)
    عاشور خانہ شاہ چراغ (تصویر: محمد رحمان پاشا)


    صبغت اللہ خان نے بتایا کہ دکن میں اولین طور پر جن صوفیائے کرام کی آمد ہوئی؛ ان میں سے ایک حضرت شاہ چراغ بھی تھے۔ ان کے علاوہ ایران سے تعلق رکھنے والے ایک اور عالم دین و صوفی حضرت نور الہدیٰ بھی یہیں مدفون ہیں۔ حضرت نور الہدیٰ ایران سے دکن آمد کے موقع پر مقدس آثار اپنے ساتھ لائے تھے، جو انہوں نے قطب شاہی سلطت کو پیش کیا تھا۔

    جگہ جگہ بڑی بڑی شخصیات مدفون:

    دائرہ میر مومن میں داخل ہوتے ہوئے میر مومن کی بیٹی خدیجہ کی مزار واقع ہے۔ اسی کے سامنے کلثوم جاہ بھی مدفون ہیں۔ سلطنت گولکنڈہ کے ساتویں حکمران عبداللہ قطب شاہ کے دور میں شاہی محل میں پان کا ڈبا لے کر گھونے والے یعنی ڈبا بردار کا مزار بھی یہاں موجود ہے۔ سالار جنگ اول میر تراب علی خان (پیدائش 21 جنوری 1829 - وفات 8 فروری 1883)، سالار جنگ دوم میر لائق علی خان (پیدائش 1862 ۔ وفات 7 جولائی 1889)، سالارجنگ سوم میر یوسف علی خان (پیدائش: 4 جون 1889، پونے ۔ وفات: 2 مارچ 1949 دیوان دیوڑی)، آصف سابع نواب میر عثمان علی خان کے فرزند معظم جاہ اور اردو زبان و ادب کی معروف ادیبہ پروفیسر ڈاکٹر سیدہ جعفر (پیدائش 5 اپریل 1934۔ وفات 24 جون 2016) کی آخری آرام گاہیں بھی یہیں ہیں۔

    دائرہ میر مومن کے احاطہ میں واقع مسجد صلوۃ جنازہ (تصویر: محمد رحمان پاشا)
    دائرہ میر مومن کے احاطہ میں واقع مسجد صلوۃ جنازہ (تصویر: محمد رحمان پاشا)


    سال 2014 میں انٹیک کی جانب سے دائرہ میر مومن کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے انٹیک ہیریٹیج ایواڈ دیا گیا۔ ہر سال اسلامی تاریخ کے اعتبار سے 26 اور 27 شعبان کو میر محمد مومن کے عرس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دکن آرکائیو ہیریٹیج میں مبشر علی خان، عون مہدی اور طالب علی کے علاوہ نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    دکن آرکائیو کا مختصر تعارف:

    دکن آرکائیو حیدرآباد کے چند متحرک نوجوانوں کا ایسا گروپ ہے؛ جس کا مقصد دکن سے متعلق تاریخی حقائق کو عام کرنا ہے۔ اس کے ذریعے دکن کی درست معلومات اور تاریخی واقعات سے واقف کرایا جاتا ہے اور اسے عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ گروپ دکن کے متنوع تاریخی ورثے کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    اس کے علاوہ نایاب مخطوطات، قدیم تصاویر اور آرکائیو کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔ سماجی رابطہ کے مختلف ذرائع فیس بک، انسٹاگرام کے علاوہ ویب سائٹ https://thedeccanarchive.in پر دکن آرکائیو سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: