உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Death Anniversary: سعادت حسن منٹو کےمذہب کو لےکرکیاتھے خیالات؟جانئے اُن سے جڑےیہ دلچسپ قصے

    سعادت حسن منٹو

    سعادت حسن منٹو

    اس کی وجہ سے منٹو پر فحاشی اور ننگا پن پھیلانے کے الزام صرف ادبی ہی ںۃین قانونی عدالتوں میں بھی لگائے گئے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جن کہانیوں کو لے کر یہ الزام لگائے گئے، اُن میں کہیں بھی سیکس کی منظر کشی نہیں ہے بلکہ اُن کے ذریعے سے انسان کی بربریت اور محبت سے مبرا جسمانی تعلقات کے کھوکھلے پن کو ہی بے نقاب کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      سماج کے سلگتے مسائل پر بے باکی اور بہادری کے ساتھ اپنی بات رکھنےوالے سعادت حسن منٹو کا آج ہی کے دن سن 1912 میں جنم ہوا تھا۔ اپنے چھوٹی سی دور زندگی میں سعادت حسن منٹو نے 22 مختصر کہانیوں کا مجموعہ، ایک ناول، پانچ ریڈیو ڈراموں کے مجموعے اور تخلیقات کے تین مجموعہ وہیں ذاتی خاکوں کے تین مجموعے شائع کئے۔ اُن کی کہانیوں میں اکثر فحاشی کے الزام لگتے تھے اس وجہ سے سعادت کو 6 مرتبہ عدالت بھی جانا پڑا۔ حالانکہ ایک بھی معاملہ ثابت نہ ہوسکا۔ آئیے جانتے ہیں اُں سے جڑے کچھ دلچسپ قصے۔

      سعادت کے افسانوں کے کئی ہیں دیوانے
      سعادت حسن منٹو پر اکثر یہ الزام لگتا ہے کہ اُن کے افسانوں کے کردار فحش زبان تھے۔ منٹو پر فحاشی پھیلانے کا بھی الزام لگانا بے حد آسان ہے لیکن منٹو کو قریب سے جاننے والے اور اُن کو بے انتہا پڑھنے والے جانتے ہیں کہ انہوں نے کسی بھی افسانوں میں سیکس کو نہ تو گلیمرائزڈ کیا ہے اور نہ ہی ولگرائزڈ، بلکہ انہوں نے تو سیکس کو سماجی ناانصافی کے نتیجے سے پیدا ہوئی ایک انسانی ضرورت کے طور پر پیش کیا ہے۔

      منٹو نے لکھا ہے، ’’ گناہ اور ثواب، سزا اور جزا کی بھول بھلیا میں پھنس کر آدمی کسی مسئلے پر ٹھنڈے دل سے غور نہیں کرسکتا۔ مذہب خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘‘

      اب سوال یہ ہے کہ مذہب کو مسئلہ ماننے والے منٹو کو کیا خدا میں یقین نہیں تھا؟ یا پھر وہ خدا پر یقین رکھتے تھے؟ دراصل اس کا جواب نند کشور وکرم کی کتاب ’سعادت حسن منٹو‘ میں ملتا ہے۔ اس کتاب میں اس بات کا ذکر ہے کہ منٹو اپنی ہر تحریر کے آغاز میں 786 لکھتے تھے لیکن منٹو کے لئے عقیدہ کسی وہم کی بنیاد پر قائم رسمیں نہیں تھیں۔ تبھی اپنے ایک افسانے میں ’بابو گوپی ناتھ‘ کی زبان سے نکلے ڈائیلاگ میں یہ افسانہ نگار کہتا ہے-

      ’فحاشہ کا کوٹھہ اور پیر کا مزار، بس یہ دو جگہ ہیں جہاں میرے من کو شانتی ملتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ فحاشہ کے کوٹھے پر ماں باپ اپنی اولاد سے پیشہ کراتے ہیں اور مقبروں اور تاکیوں میں انسان اپنے خدا سے۔‘‘

      ایک جگہ چراغ حسن حسرت کے خاکے میں منٹو نے اُن کی لمبر عمر کی دعا مانگتے ہوئے لکھا ہے 'میں نے کبھی نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی میرے دوست نے کبھی پڑھی۔ لیکن خدا، ہمیں آپ پر یقین ضرور ہے کیونکہ آپ ہمیں ہماری بیماری میں مبتلا کر کے ہمیں دوبارہ اچھا بنا دیتے ہیں۔

      اگرچہ منٹو خود نماز اور آرتی پر یقین نہیں رکھتے لیکن ایک جگہ لکھتے ہیں:
      ’’روحانیت یقیناً کوئی چیز ہے۔ جو لوگ روزے، آرتی کیرتن سے روحانی پاکیزگی حاصل کرتےہیں۔ ہم انہیں پاگل نہیں کہہ سکتے۔‘‘

      اتنا ہی نہیں ’میرٹھ کی قینچی‘ نامی ایک افسانے میں ایک محفل کا ذکر ہے جہاں ایکٹریس پارو نے ٹھمری گیت، غزل اور بھجن سے حاضرین کا دل بہلاتے ہوئے جب نعت شروع کی تو منٹو نے روک دیا اور کہا- محفل شراب میں کالی کملی والے کا ذکر نہ کیا جائے تو اچھا ہے۔‘

      اپنے ’یزید‘ نامی افسانے میں انہوں نے اس نام سے وابستہ روایت کو نیا رُخ دینے کی کوشش کی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ افسانے کا مرکزی کردار اپنے بیٹے کا نام ’یزید‘ رکھتا ہے اور اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اُس یزید نے پانی بند کیا تھا اور یہ یزید پانی جاری رکھے گا۔

      یقیناً منٹو کا ماننا تھا کہ ہر مذہب کے ساتھ خدا کا نام جڑا ہے لیکن خدا کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ لیڈروں کو لے کر انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ خطرہ مذہب کا ہوا کھڑا کرنے والے لیڈروں کو ہوسکتا ہے مذہب کو نہیں۔

      منٹو پاکستان کیوں گئے؟
      منٹو ایک ایسے انسان نے تھے جس کے اندر جلیان والا باغ سے لے کر تقسیم کے درد کی آگ جل رہی تھی۔ منٹو کی موت کے بعد ان کے ایک دوست احمد ندیم قاسمی نے کہا ’’منٹو پاکستان کی محبت میں لبریز ہو کر لاہور تشریف لائے۔‘‘ یقیناً یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ منٹو پر پاکستان حامی ہونے کا الزام لگتا رہا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس افسانہ نگار کو نہ ہندوستان اپنا سکا اور نہ پاکستان نے ہی اُنہیں صحیح سے قبول کیا۔ دراصل جب منٹو پاکستان جارہے تھے تو انہوں نے بلونت گرگی سے بات کی اور کہا
      ’’میرے دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں پاکستان کیوں جارہا ہوں۔ کیا میں ڈرپوک ہوں، مسلمان ہوں لیکن یہ میرے دل کی بات نہیں سمجھ سکے۔ میں پاکستان جارہا ہوں کہ وہاں کی سیاسی حرام زدگیوں کا پردہ فاش کرسکوں۔‘‘

      منٹو اور عورتیں
      منٹو سے پہلے بھی فحاشائیں، بگڑی ہوئی لڑکیاں اور اُن کے دلال اردو ادب کا حصہ ہوتے تھے لیکن ’امراؤ جان ادا‘ کو الگ کرنے کے بعد بہت کم اصل تصویریں تھیں۔ فحاشائیں یا تو نہایت ہی نچلی سطح کی مانی جاتی تھیں یا صرف سماج کا ناسور، جن پر ادیب تھو تھو کر کے آگے بڑھ جاتے تھے۔ منٹو نے اس طبقے کے درد کو ادب کے اعزاز کے ساتھ شامل کیا۔

      اس کی وجہ سے منٹو پر فحاشی اور ننگا پن پھیلانے کے الزام صرف ادبی ہی ںۃین قانونی عدالتوں میں بھی لگائے گئے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جن کہانیوں کو لے کر یہ الزام لگائے گئے، اُن میں کہیں بھی سیکس کی منظر کشی نہیں ہے بلکہ اُن کے ذریعے سے انسان کی بربریت اور محبت سے مبرا جسمانی تعلقات کے کھوکھلے پن کو ہی بے نقاب کیا گیا ہے۔

      دراصل، بنا لحاظ کے جھوٹی شرافت کے دائرے سے باہر ہو کر لکھنے والے مصنف کا نام ہے منٹو۔ جو مہذیب سماج کی بنیاد میں اپنی پوشیدہ گھناونی سچائی کو بیاں کرے اس رائٹر کا نام ہے منٹو۔ جو فحاشاؤں کے جذبات کو بیان کرنے کا کام کرے اس مصنف کا نام ہے منٹو۔ سعادت حسن منٹو اپنے وقت سے آگے کے افسانہ نگار تھے۔ منٹو کے افسانوں کے کردار، چاہے وہ ٹھنڈہ گوشت کے ایشور سنگھ اور کلونت کور ہو یا کالی شلوار کی سلطانہ یا پھر کھول دو کی سکینہ اور سراج الدین یا پھر ہتک افسانے میں سوگندھی نام کی فحاشہ، منٹو کا ہر کردار آپ کو اپنے سماج کا مل جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو مقام ہندی کہانیوں کے عظیم رائٹر منشی پریم چند کا ہے، وہی جگہ اردو میں سب سے عظیم افسانہ نگر منٹو کا ہے۔ مگر پریم چند اور منٹو میں ایک یکسانیت بھی ہے۔ دونوں کسی ایک زبان کے قارئین تک محدود نہیں رہے۔

      شراب اور منٹو
      ایک عام انسان کی طرح منٹو بھی کئی طرح انسانی کمزوریوں کا شکار تھے۔ تمام کوششوں کے باوجود وہ ایک ذمہ دار شوہر یا والد نہیں بن پائے۔ منٹو چین اسموکر تھے۔ شراب نوشی کی لت ایسی تھی کہ رائلٹی کے پیسے کی بھی پی جایا کرتے تھے۔ حالانکہ انہوں نے اپنی کمیوںپر کبھی پردہ نہیں ڈالا۔ ایک ایسے ہی واقعے کا ذکر
      روی شنکر بل کی کتاب ’دوزخ نامہ‘ میں ہے

      ایک بار منٹو کی بڑی بیٹی نکہت کو ٹائفائیڈ ہوا تھا۔ منٹو کی حالت دوائی خریدنے کی بھی نہیں تھی۔ انہوں نے ایک رشتہ دار سے دوائی کے لئے پیسے اُدھار لیے اور اُن پیسوں کی وہسکی خرید کر لے اائے۔ اُن کی بیوی صفیہ نے انہیں بہت دیر تک خاموش ہو کر دیکھا۔ قریب کے کمرے سے بیٹی نکہت کے کراہنے کی آواز آرہی تھی۔ منٹو صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ صفینہ کا پیر پکڑ کر معافی مانگنے لگے۔‘

      شراب وہ آخری وقت تک پیتے رہے۔ اس کا ذکر بھی نند کشور وکرم کی کتاب ’سعادت حسن منٹو‘ میں ملتا ہے۔ اس کتاب میں حامد جلال نے منٹو میرا ماموں ،میں ذکر کیا ہے۔

      ’’ایمبولنس جیسے ہی دروازے پر آئی انہوں نے شراب کی پھر مانگ کی۔ ایک چمچ وہسکی اُن کے منہ میں ڈال دی گئی لیکن شائد ایک بوند اُن کے حلق سے نیچے اتر پائی ہوگی۔ باقی شراب اُن کے منہ سے گر گئی۔ زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے اپنا ہوش و حواس کھویا تھا۔ انہیں اُسی حالت میں ایمبولنس میں لٹا دیا گیا۔ ایمبولنس اسپتال پہنچی اور ڈاکٹر انہیں دیکھنے کے لئے اندر آئے تو منٹو ماموں مر چکے تھے۔‘‘

      منٹو سچ لکھتے تھے اور اسی وجہ سے جب سماج کو آئینے میں اپنی بدصورت شکل دکھائی دی تو وہ منٹو پر ہی تھو تھو کرنے لگے۔ تب اردو کا یہ سب سے بڑا افسانہ نگار کہہ اُٹھتا تھا

       
      ’’زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں، اگر آپ اُس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔‘‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: