ہوم » نیوز » Explained

ہندوستان میں کیوں گہرایا آکسیجن کا بحران ، اگلے ہفتے تک سدھر جائیں گے حالات ؟

ملک کے زیادہ تر حصوں میں آکسیجن کیلئے کہرام مچا ہوا ہے ۔ تین لاکھ سے زیادہ لوگ روزانہ کورونا کی دوسری لہر سے متاثر ہورہے ہیں اور ہزاروں کی موت روزانہ ہورہی ہے ۔ ان اموات کے پیچھے سب سے بڑی وجہ آکسیجن کی کمی مانی جارہی ہے ۔

  • Share this:
ہندوستان میں کیوں گہرایا آکسیجن کا بحران ، اگلے ہفتے تک سدھر جائیں گے حالات ؟
ہندوستان میں کیوں گہرایا آکسیجن کا بحران ، اگلے ہفتے تک سدھر جائیں گے حالات ؟(AP)

برجیش کمار سنگھ


ملک میں مائع آکسیجن کے انڈسٹریل سیکٹر میں استعمال پر وزارت داخلہ نے پابندی لگادی ہے ۔ کانڈلا کے دین دیال بندرگاہ پر آکسیجن سلینڈر بنانے کیلئے خاص قسم کا اسٹیل سلینڈر بیرون ممالک سے بڑے مال بردار جہاز میں ڈھوکر لایا گیا ہے ۔ سنگاپور سے آکسیجن کنسنٹریٹ کی بڑی سپلائی طیاروں کے ذریعہ آرہی ہے ۔ فرانس سے پورٹیبل آکسیجن جنریٹر مشینیں منگوائی جارہی ہیں ۔ ملک میں سبھی اسٹیل پلانٹس ، خواہ وہ پبلک سیکٹر میں ہوں یا پھر پرائیویٹ سیکٹر میں ، وہاں انڈسٹریل گریڈ آکسیجن کو میڈیکل گریڈ آکسیجن میں جنگی سطح پر تبدیل کیا جارہا ہے ۔ ملک میں آکسیجن ایکسپریس کے طور پر مال گاڑیاں پٹریوں پر دوڑ رہی ہیں ۔ آج صبح ہی جام نگر سے مہاراشٹر کیلئے آکسیجن اسپیشل ٹرین نکلی ہے ۔ آکسیجن ٹینکرس کو گرین کاریڈور بناکر اسپتالوں تک پولیس کی سیکورٹی میں لایا جارہا ہے ۔ ملک کے ہر ضلع میں پی ایس ایس آکسیجن جنریشن پلانٹ بنانے کیلئے مرکز نے رقم مہیا کرانے کا اعلان کردیا ہے ۔ ملک میں نجی شعبہ کی بڑی کمپنیاں یا تو کرایوجینک لیکوڈ آکسیجن ٹینکر بیرون ممالک سے خرید کر منگوا رہی ہیں یا پھر اپنے پلانٹ سے ملک کی سبھی ریاستوں میں آکسیجن کے ٹینکر بھیج رہی ہیں ۔


آکسیجن کی کمی سب سے زیادہ دہلی میں


دہلی ، جہاں پر گزشتہ دنوں آکسیجن کی پریشانی سب سے سنگین رہی ہے ، اس کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ان سبھی بڑے صنعت کار گروپوں کو خط لکھ کر آکسیجن دینے کی اپیل کرتے پھر رہے ہیں ، جنہیں کچھ وقت پہلے تک وہ پانی پی پی کر گالیاں دے رہے تھے ۔ خود وزیر اعظم مودی جن کی قیادت میں مرکزی حکومت جنگی سطح پر آکسیجن مہیا کرانے کیلئے سبھی کوششیں کررہی ہیں ، وہ ایک کے بعد ایک مسلسل میٹنگیں کررہے ہیں ۔ کبھی ریاست کے وزرائے اعلی کے ساتھ تو کبھی آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تو کبھی آکسیجن تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ۔ تاکہ آکسیجن کی کمی کو فورا دورا کیا جاسکے اور جب بات جنگی سطح کی ہو رہی ہے تو وہ صرف محاورہ نہیں بلکہ ہندوستانی فضائیہ کے گلوب ماسٹر سمیت تمام بڑے مال بردار جہاز ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آکسیجن سپلائی والے خالی ٹینکرس کو پہنچا رہے ہیں ۔ تاکہ ان میں آکسیجن بھر کر انہیں فورا جہاں ضرورت ہو ، اس کے مطابق اسپیشل آکسیجن ٹرین میں چڑھا کر روانہ کیا جاسکے ۔

آکسیجن کا بحران کیوں گہرا ہوا

سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب یہ ساری کوششیں ہورہی ہیں تو بھی آکسیجن کو لے کر چیخ پکار کیوں مچی ہے ۔ کیوں کسی کو چاہ کر بھی جلدی اپنے گھر پر آکسیجن کا سلینڈر نہیں مل پا رہا ہے ۔ پھر اسپتال آکسیجن کی کمی کو لے کر پریشان ہیں یا پھر انہیں چلانے والے ڈاکٹر کئی مرتبہ کیمرے کے سامنے بھی رو رہے ہیں ، گڑگڑا رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ راجدھانی دہلی سمیت ملک کے کئی شہروں کے اسپتالوں میں آکسیجن کے فقدان سے مریضوں کی موت کی بھی خبر آرہی ہے ۔ لکھنو سے لے کر پٹنہ ، جے پور سے لے کر بھوپال اور پونے سے لے کر ممبئی تک یہی حال ہے ۔

کیا نہیں تھی کوئی تیاری

کیا یہ مان لیا جائے کہ آکسیجن مہیا کرانے کیلئے کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی یا پھر جو تیاری کی گئی تھی ، وہ اتنی کافی نہیں تھی کہ کورونا کی سونامی آنے پر ڈیمانڈ کے حساب سے آکسیجن کی سپلائی ہوسکے ۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ملک میں میڈیکل گریڈ آکسیجن کی اکنامکس سمجھنی ہوگی اور ملک میں اس کے حساب سے آکسیجن کی سپلائی کے انتظام کو سمجھنا ہوگا ۔

پہلی لہرمیں نہیں ہوئی تھی آکسیجن کی قلت

دراصل پچھلے سال مارچ میں جب کورونا نے ہندوستان میں دستک دی تھی اور اس کے اکا دکا معاملات سامنے آنے شروع ہوئے تھے ، اس کے ٹھیک پہلے فروری کے مہینے میں ملک میں اوسطا ہزار بارہ سو میٹرک ٹن میڈیکل گریڈ آکسیجن کی سپلائی کی ضرورت پڑتی تھی ۔ اسپتالوں کے اندر نارمل حالات میں نہ تو وینٹی لیٹر کی بڑے پیمانے پر ضرورت تھی اور نہ ہی آکسیجن کی ۔ کسی بھی بڑے اسپتال میں مہینے میں مرتبہ آکسیجن کا ٹینکر منگوانے کی ضرورت پڑتی تھی ، لیکن اپریل 2020 آتے آتے کورونا کے معاملات بڑھنے شروع ہوئے تو بھی یہ ڈیمانڈ 1500 میٹرک ٹن سے زیادہ نہیں گئی ۔ لیکں وہاں سے ستمبر آتے آتے ملک میں کورونا کا زور کم ہوتا چلا اور آکسیجن کی مانگ واپس ہزار میٹرک ٹن کی پرانی اور روٹین سطح پر پہنچ گئی ۔ یہ وہی وقت تھا ، جب ملک میں ویکسین کا ڈیولپمنٹ ہونا شروع ہوا تھا ۔ وزیر اعظم مودی خود کئی ریسرچ سینٹر پر ویکسین ڈیولپمنٹ کی پروگریس کو دیکھنے کیلئے گئے تھے اور آخر کار 16 جنوری 2021 سے کورونا واریئرس کو ویکسین لگانے کا عمل شروع بھی ہوگیا ۔

سال کی شروعات میں ہر کوئی رہا لاپروا

ملک کے زیادہ تر لوگ اور سیاسی پارٹیاں کورونا کی دوسری لہر کے خطرے سے کنتی انجان تھیں ، اس کا اندازہ اس بات سے لگ سکتا ہے کہ کئی ریاستوں میں مقامی سطح کے الیکشن ہوئے ، خود لیڈران ماسک پہنے بغیر فوٹو کھینچانے لگے ۔ ماسک ناک اور منہ کی جگہ گلے کی زینت بڑھانے والے فیشن آئٹم کے طور پر استعمال ہونے لگے اور شادیوں کا سلسلہ شباب پر آگیا ۔ پچاس سو کون کہے ، بڑی تعداد میں شادیوں اور سیاسی ریلیوں میں لوگ جمع ہونے لگے ۔ کورونا گائیڈ لائنس کی کھلے عام دھجیاں اڑنے لگیں ۔ حد تو یہ ہوئی کہ ٹرین اور ہوائی جہاز بھر بھر کر مہاراشٹر جیسی ریاستوں سے لوگ یوپی اور بہار جیسی ریاستوں میں ہولی منانے آئے اور تحفہ کے طور پر اپنے ساتھ کورونا کے وائرس لے کر آئے ، جس نے مہاراشٹر میں پھر سے دستک دیدی تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کیا شہر اور کیا گاوں کورونا کا بحران بڑھنے لگا ۔

دہلی میں بھی ہوئی لاپروائی

راجدھانی دہلی میں بھی مانو سب کچھ نارمل ہی ہوگیا تھا ۔ سڑکوں پر بھیڑ دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ سال بھر پہلے اس شہر پر کورونا نے دستک دی تھی ۔ ملک کے دیگر شہروں کا بھی یہی حال رہا ۔ لوگ ماسک کو تو بھولنے لگ گئے تھے ۔ چار لوگ ملے نہیں کہ ماسک اتار کر دن میں چائے اور رات میں جام چھلکانے لگے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 15 مارچ سے 15 اپریل کے ایک مہینے کے دوران ملک میں کورونا نے بھیانک سونامی کی شکل اختیار کرلی ، جس نے لاکھوں لوگوں کو روازنہ اپنی زد میں لینا شروع کردیا  ۔

مرکز نے شروع کی گزشتہ سال ہی تیاری

کیا وزیر اعظم مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے اس بارے میں سوچا نہیں تھا یا پھر اس حساب سے تیاری نہیں کی تھی ۔ اگر معاملہ آکسیجن کا لیں تو مودی سرکار نے یوروپ اور امریکہ میں کورونا کی دوسری لہر آتے دیکھ گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں ہی 162 پریشر سیونگ ابزارپشن میڈیکل آکسیجن جنریشن پلانٹ ملک کے الگ الگ حصوں میں لگانے کیلئے تقریبا دو سو کروڑ روپے کی رقم منظور کر دی تھی ۔ اکتوبر میں ہی اس کیلئے ٹینڈر جاری کردئے گئے تھے ۔ وزارت صحت کو ملک بھر میں یہ پلانٹ لگوانے تھے ۔ پلانٹ لگانے سے پہلے متعلقہ جگہ پر سائٹ تیار کرنے کا کام متعلقہ ریاستی سرکاروں کو کرنا تھا ۔ یہ پلانٹ سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ہی لگنے تھے تاکہ بحران کے وقت آکسیجن کی بلارکاوٹ سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے اور ٹینکروں پر پوری طرح سے منحصر نہ رہنا پڑے ۔

ملک کے ہر ضلع میں لگیں گے اب پی ایس اے آکسیجن پلانٹ

کورونا کی دوسری لہر کے بعد مودی سرکار نے اسی اتوار کو 551 اور اضلاع میں پی ایس اے پلانٹ پی ایم کیئر فنڈ سے لگانے کی منظوری دیدی ہے ، لیکن المیہ یہ ہے کہ دسمبر 2020 میں پلانٹ لگانے کی جو کارروائی پوری ہوجانی تھی ، وہ ہی نہیں ہوسکی ، کیونکہ زیادہ تر جگہوں پر ریاستی سرکاروں نے سائٹ تیار نہیں کئے اور وزارت صحت کو سائٹ کمپلشن سرٹیفکیٹ نہیں سونپے ۔

ہیلتھ ٹھیک رکھنے کی ذمہ داری کس کی ؟

دہلی تو ٹھیک ، ملک کی زیادہ تر اپوزیشن حکومتوں نے آکسیجن کی کمی کا ٹھیکرا مودی سرکار کے سر پھوڑنے کی کوشش کی اور سوال صرف آکسیجن کا ہی نہیں وینٹی لیٹر سے لے کر ویکسین کی کمی تک کا ۔ حالانکہ ریاست کی طاقتوں میں مرکز کی مداخلت کا رونا رونے والی زیادہ تر ریاستی سرکاریں بھول جاتی ہیں کہ آئینی بندوبست کے تحت پبلک ہیلتھ اور اسپتال ریاست کی فہرست میں آتے ہیں ۔ نہ تو مرکزی فہرست میں اور نہ ہی کنکرینٹ لسٹ میں ۔ کورونا کے دوران ریاستوں کی اس سطح پر خامیوں کو دیکھتے ہوئے ہی مالی کمیشن نے پبلک ہیلتھ کو کنکرینٹ لسٹ میں ڈالنے کا مشورہ دیا ہے ۔ لیکن ریاستی سرکاروں نے ابھی تک اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ۔

بحران گہراتے ہی وزیر اعظم نے لی اپنے ہاتھ میں کمان

مرکز اور ریاستوں کے درمیان اس نظام کے بیچ آکسیجن بحران کا ٹھیکرا بھی وزیر اعظم مودی کے سر پھوڑنے کی کوشش ہوئی ۔ سوال یہ ہے کہ آخر مودی نے اس کیلئے کیا کیا ۔ کیا ریاستوں کو خبردار نہیں کیا گیا ، تیاری نہیں کی گئی ۔ کورونا کی دوسری لہر کی آگاہی ہوتے ہوئے کئی خط مرکز کی طرف سے ریاستی سرکاروں کو بھیجے گئے ، لیکن زیادہ تر ریاستی سرکاروں نے اس بحران کو ختم مانتے ہوئے کوئی تیاری نہیں کی ۔ آخر کار جب اپریل کے پہلے ہفتہ کے بعد بحران کافی گہرا ہوگیا تو وزیر اعظم کو میدان میں کودنا پڑا ۔ دو مرتبہ ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ میٹنگ تو ایک مرتبہ گورنروں کے ساتھ میٹنگ اس دوران ہوئی ۔

ہفتے بھر میں سپلائی ٹھیک ہوجانے کی امید

آکسیجن کے کوٹے سے لے کر ایک دوسرے کے یہاں آکسیجن کے ٹینکر روکے جانے کا ریاستوں کا معاملہ بھی وزیر اعظم کو حل کرنا پڑا اور پھر ہوائی جہاز سے لے کر ٹرین تک اس پریشانی کو حل کرنے کیلئے چلانی پڑی ۔ اگر اعلی سطحی ذرائع کی مانیں تو ان سبھی کوششوں سے اگلے ایک ہفتے کے اندر ملک کے زیادہ تر حصوں میں آکسیجن کی سپلائی نارمل ہوجائے گی ۔ اس کیلئے مچا کہرا ختم ہوجائے گا اور اس کے ساتھ ہی کورونا کی سونامی جیسی دوسری لہر بھی اپنی اونچائی چھونے کے بعد نیچے کی طرف آنی شروع ہوجائے گی ۔

یہ آرٹیکل بنیادی طور پر ہندی میں ہے ۔ اس کو ہندی میں پورا پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔ 

ڈسکلیمر : یہ رائٹر کے ذاتی خیالات ہیں ۔ 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 27, 2021 12:06 AM IST