ہوم » نیوز » Explained

دہلی:سینٹرل وسٹاپروجیکٹ کی زدمیں آسکتی ہیں5تاریخی مساجد،دہلی وقف بورڈ نے امام کوکیامعطل

عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے وزیراعظم اور مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو اس سلسلے میں خط لکھ کر وضاحت کرنے کے لیے کہا ہے۔ امانت اللہ خان کی طرف سے خط میں لکھا گیا ہے ۔

  • Share this:
دہلی:سینٹرل وسٹاپروجیکٹ کی زدمیں آسکتی ہیں5تاریخی مساجد،دہلی وقف بورڈ نے امام کوکیامعطل
عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے وزیراعظم اور مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو اس سلسلے میں خط لکھ کر وضاحت کرنے کے لیے کہا ہے۔ امانت اللہ خان کی طرف سے خط میں لکھا گیا ہے ۔

مرکزی حکومت کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کو لیکر ایک بار پھر تنازع شروع ہو گیا ہے لیکن اس بار تنازعہ اس پروجیکٹ کی زد میں آنے والی مسجدوں کو لے کر ہے ۔عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے وزیراعظم اور مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو اس سلسلے میں خط لکھ کر وضاحت کرنے کے لیے کہا ہے۔ امانت اللہ خان کی طرف سے خط میں لکھا گیا ہے ۔سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کی زد میں پانچ مسجدوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ان مسجدوں میں انڈیا گیٹ کے نزدیک واقعی ضابطہ گنج مسجد ، ادھیوگ بھون کے قریب سنہری باغ روڈ کے چوراہے پر سنہری مسجد، کرشی بھون کے اندر موجود مسجد ،اسی طرح نائب صدر جمہوریہ ہند کی رہائش گاہ کے اندر موجود مسجد اور اور ریڈ کراس ورڈ پر پارلیمنٹ مسجد کے انہدام کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔


حالانکہ ان مسجدوں میں سے بیشتر مسجدیں 100 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔ امانت اللہ خان نے دس دنوں کے اندر وضاحت نہ کرنے کو لے انتباہ دیا ہے کہ وہ معاملے کو لے کر دہلی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ چلے جائیں گے ۔غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعے دہلی کے وی وی آئی پی علاقے لٹین زون میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ شروع کیے جانے کے کے بعد سے ہی اس علاقے میں آنے والی تاریخی مساجد کے تعلق سے مسلمانوں میں تشویش پائی جا رہی ہےحالیہ دنوں میں میں خاص کر سو شل میڈیا میں کچھ اس طرح کی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ سینٹرل وسٹاپروجیکٹ کے تحت خدانخواستہ ان مساجد کو بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے ۔اس تعلق سے کچھ لوگوں نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان سے رابطہ کرکے انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔



یادرہے کہ لٹین زون میں تین تاریخی مساجداور ایک درگاہ واقع ہے اور یہ تمام مقدس مقامات دہلی وقف بورڈ کے ماتحت آتے ہیں،ان تمام تشویشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین امانت اللہ خان نے اس تعلق سے ملک کے وزیراعظم اور وزیر شہری ترقیات کو ایک اہم مکتوب ار سال کیا ہے اور مساجد کی حفاظت کے تعلق سے وزیراعظم کے آفس سے یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے ۔ وہی اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے اب تک سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے جو نقشے اور بلوپرنٹ سامنے آئے ہیں ان میں تمام عمارتیں دکھائیں گئی ہیں لیکن مسجدوں کو بلو پرنٹ میں نہیں دکھایا گیا ہے۔

مسجدوں کو فی الحال نہیں دیا گیا ہے کوئی بھی نوٹس

سینٹرل وسٹا پروجیکٹ اور مسجدوں پر انہدامی کارروائی کے اندیشہ کو لے ماحول گرم ہو رہا ہے تو وہی اب تک کسی بھی مسجد کو کسی بھی قسم کا کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ہے۔ ضابطہ گنج مسجد کے امام مولانا اسد خان فلاحی نے سبکدوش ہونے سےپہلے بتایا ان کی مسجد 250 سال سے زیادہ پرانی ہے اور قومی وراثت کے تحت سو سال پرانی چیزیں آتی ہیں ابھی تک ان کو کوئی بھی نوٹس نہیں ملا ہے ۔البتہ مسجد کے قرب و جوار میں میں بڑے پیمانے پر پروجیکٹ کے تحت کھدائی کی جا رہی ہے اور اس مسجد کو پروجیکٹ کے بلوپرنٹ میں دکھایا گیا ہے اس لئے میری رائے ہے کہ یہ مسجد محفوظ ہے۔ جب کہ سنہری مسجد کے امام نے بھی اس بات کی تصدیق کی کی انہیں اب تک کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ہے۔ دہلی وقف بورڈ بہتر طور پر فیصلہ لے گا

دہلی وقف بورڈ نے ضابطہ گنج مسجد کے امام کو ہٹایا

سنٹرل اسٹاف پروجیکٹ کی کی زد میں آنے والی انڈیا گیٹ پر واقع مسجد ضابطہ گنج میں دہلی وقف بورڈ کے مقرر کردہ امام مولانا اسدخان فلاحی کو وقف بورڈ نے امامت کے فرائض منصبی سے فوری طور پر برخاست کر دیا ہے،دہلی وقف بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈر میں کہا گیا ہے۔مولانا موصوف وقف بورڈ کی اجازت اور اختیار کے بغیر اپنی جانب سے ذرائع ابلاغ کو گمراہ کن اور غلط بیانات جاری کر رہے تھے۔دوسری جانب امام مولانا اسد خان فلاحی نے نیوز18 سے سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر قانونی طریقے سے ہٹایا گیا ہے وہ اعزازی طور پر امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں دہلی وقف بورڈ کے پینل پر وہ موجود ہی نہیں ہیں نیز انہیں کارروائی سے قبل وجہ بتاؤ نوٹس بھی نہیں دیا گیا اور ان کا موقف نہیں سنا گیا۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 04, 2021 11:24 PM IST