ہوم » نیوز » Explained

جموں کو الگ ریاست دینے کے مطالبہ میں شدت ، مشکل میں پھنس سکتی ہے بی جے پی ، جانئے وجہ

Jammu and Kashmir News : جموں شہر کے مختلف مقامات پر ان دنوں ایسی احتجاجی ریلیاں اور دھرنے دیکھنے کو مل رہے ہیں ، جس دوران لوگ جموں کو ایک الگ ریاست کا درجہ دینے کی مانگ کر رہے ہیں ۔

  • Share this:
جموں کو الگ ریاست دینے کے مطالبہ میں شدت ، مشکل میں پھنس سکتی ہے بی جے پی ، جانئے وجہ
جموں کو الگ ریاست دینے کے مطالبہ میں شدت ، مشکل میں پھنس سکتی ہے بی جے پی ، جانئے وجہ

جموں : جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے سیاسی حالات کے حوالے سے کافی باتیں سامنے آرہی ہیں ۔ جموں و کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں کئی افواہیں بھی گشت کر رہی ہیں ، جن کی وجہ سے ہر کسی کی نظریں مرکزی سرکار کی طرف مرکوز ہوگئی ہیں ۔ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے حوالے سے اگرچہ کام شروع ہوگیا ہے ۔ تاہم ابھی یہ عمل ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس دوران جموں میں ایسی بھی مانگ پھر اٹھ رہی ہے کہ جموں کو الگ ریاست کا درجہ دیا جائے ۔ تاہم مختلف سیاسی پارٹیاں اس کے حق میں نہیں ہیں اور وہ ماضی کی طرح پورے جموں و کشمیر کو پھر ریاست کا درجہ دینے کی وکالت کر رہی ہیں ۔


جموں شہر کے مختلف مقامات پر ان دنوں ایسی احتجاجی ریلیاں اور دھرنے دیکھنے کو مل رہے ہیں ، جس دوران لوگ جموں کو ایک الگ ریاست کا درجہ دینے کی مانگ کر رہے ہیں ۔ جموں میں یہ آوازیں اس وقت پھر اٹھنے لگیں ، جب گزشتہ کئی روز سے جموں و کشمیر میں یہ افواہیں گشت کررہی ہیں  کہ دفعہ تین سو ستر کی منسوخی کے بعد اب مرکزی سرکار جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی نیا فیصلہ کرنے والی ہے۔ ان افواہوں کے پیش نظر جموں کو الگ ریاست کا درجہ دینے والے لوگ پھر متحرک ہوگئے ہیں اور وہ اپنا مطالبہ سرکار کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہی وقت ہے کہ مودی سرکار کو جموں کو الگ ریاست بنانے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔


جموں و کشمیرمیں اسمبلی انتخابات کی دستک؟
جموں و کشمیرمیں اسمبلی انتخابات کی دستک؟


مُنیش سہانی، صدر شیو سینا نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا ہم وزیراعظم اور وزیرداخلہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک بار پھر سے وہ جرات مندانہ قدم اٹھائیں اور جموں کو الگ ریاست کا درجہ دیں ۔ اس کو الگ حقوق دیے جائیں ، کیونکہ گزشتہ 73 سالوں سے جموں کے ساتھ استحصال کیا گیا ہے ۔ اب ہم مانگ کرتے ہیں کہ جموں کو الگ ریاست کا درجہ دیا جائے۔

جموں ڈوگرہ فرنٹ کے صدر اشوک گپتا نے کہا کہ ہمیشہ جموں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا ۔ ہمیں ترقی سے پیچھے رکھا گیا ہے۔ ہمیشہ جموں کو فنڈس کی کمی محسوس ہوتی رہی ہے ۔ سیاحت کے لحاظ سے سرینگر سے زیادہ جموں کے کٹرہ ویشنو دیوی میں زیادہ سیاح آتے ہیں ، لیکن پھر بھی کشمیر کے ٹورزم کے لئے فنڈز دیے جاتے ہیں ۔ اب یہ ناقابلِ برداشت ہے ، اسی لئے ہم اپنے حق کی مانگ کر رہے ہیں۔

جموں کو الگ ریاست کا درجہ دینے کی مانگ پھر سے ابھرنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ کیونکہ پارٹی زیادہ سیٹیں جموں سے حاصل کرپاتی ہیں ۔ لہذا اسے جموں کے لوگوں کی مانگوں کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ تاہم بی جے پی اس مانگ کو یکسر خارج کرکے دلیل دے رہی ہے کہ مرکزی سرکار ایسا کوئی قدم اٹھانا نہیں چاہتی ، جس سے جموں اور کشمیر کے درمیان دراڑ پیدا ہو۔

بی جے پی کے سینیر لیڈر کوویندر  گپتا نے کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی کبھی اس حق میں بات نہیں کرتی اور نہ ہی اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا جائے گا ، کیونکہ جموں کے بغیر کشمیر ادھورا ہے اور کشمیر کے بغیر جموں ادھورا ہے ۔ کافی وقت سے اس طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں ، لیکن اس وقت جموں و کشمیر کو دو الگ حصوں میں تقسیم کرنا صحیح نہیں ہوگا۔

نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے جموں و کشمیر کو واپس ریاست کا درجہ دیا جائے اور یہاں پہ جمہوری نظام قائم کیا جائے ۔ کیونکہ لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ہم جموں و کشمیر کو توڑنے کے حق میں نہیں ہیں ۔ اگر جموں کو الگ ریاست کا درجہ دیا جائے اور کشمیر کو الگ درجہ دیا جائے تو ایسا کرنا نہ صرف لوگوں کے ساتھ بلکہ پورے جموں و کشمیر کے ساتھ نا انصافی ہوگی ۔ اگر مرکزی سرکار جموں کے لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتی ہے تو جموں و کشمیر کو واپس ریاست کا درجہ دیا جائے۔

وہیں کانگریس کے رویندر شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ساتھ پہلے ہی نا انصافی ہوئی ہے ۔ جموں و کشمیر جوکہ ایک ریاست تھی ، اُس کو توڑ کر یوٹی بنا دیا گیا اور اب اگر مرکزی سرکار جموں اور کشمیر کو الگ الگ درجہ دینے کی مانگ پہ غور کرے گی ، تو یہ جموں و کشمیر کے ساتھ نا انصافی ہوگی ۔ ہم یہ مانگ کرتے ہیں کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر کو توڑے نہیں ، بلکہ اس کو مظبوطی سے جوڑنے پر غور کرے ۔

جموں کو الگ ریاست بنانے کی مانگ کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں کشمیر وادی کی مختلف سیاسی پارٹیاں پی اے جی ڈی کے نام سے متحرک ہوگئی ہیں وہیں جموں کی پارٹیوں کو بھی اپنی مانگیں منوانے کے لئے متحرک ہونے کی ضرورت ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 13, 2021 07:44 PM IST