உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained:کیسے اُجاگر ہوئی Dhani فرضی لون کیس سے ڈیجیٹل لینڈنگ کی خامیاں

    ڈیجیٹل فراڈ کے معاملات نے پالیسی سازوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    ڈیجیٹل فراڈ کے معاملات نے پالیسی سازوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    Dhani Loan Fraud: اس سے ڈیٹا کی چوری اور مالی فراڈ کے اشارے ملتے ہیں۔ بلاشبہ دھوکہ دہی سے قرضہ لینے کا معاملہ ہے جو کہ بہت سنگین الزام ہے۔ قرض کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں، کلیکشن ایجنٹ پین کارڈ کے اصل مالکان کو ہراساں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ متاثرہ افراد میں اداکارہ سنی لیون (Sunny leone)بھی شامل ہیں، جنہوں نے جعلی قرض لینے کے لیے شناخت کی چوری کا الزام لگایا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:Dhani fake loan episode: کچھ عرصہ پہلے، ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کو ایپ پر مبنی ڈیجیٹل قرض دہندگان(digital lenders) کی ہراسانی کی وجہ سے خودکشی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد قدم اٹھانا پڑا اور نئے قواعد وضع کرنے پڑے۔ لیکن، اب ڈیجیٹل قرض دہندگان کے دھوکہ دہی کے معاملات پالیسی سازوں کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں، متاثرین عام صارفین تھے، جو ایپ پر مبنی قرض دہندگان کا شکار ہوئے تھے۔

      رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ فراڈ بنیادی طور پر اہم ذاتی اکاؤنٹس سے متعلق معلومات کے افشاء سے متعلق تھے۔ انڈیا بلز کی ملکیت والے Dhani Loans and Services ایپ سے متعلق تازہ ترین کیس نے مسئلہ میں اضافہ کیا ہے اور ڈیجیٹل قرض دینے کی دنیا میں خامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔

      جانیے، کیا ہے معاملہ؟
      پچھلے کچھ دنوں میں، بہت سے صارفین نے پلیٹ فارم پر نامعلوم افراد کی طرف سے قرض حاصل کرنے کے لیے اپنے پین کارڈ(PAN card) کی تفصیلات کے غلط استعمال کی شکایت کی ہے، کچھ نے شکایت کی ہے کہ جمع کرنے والے ایجنٹوں نے ان قرضوں کے لیے شوکاز نوٹس بھیجے ہیں جو انھوں نے کبھی لیے ہی نہیں۔ صارفین کی جانب سے کریڈٹ اسکور پر اثر انداز ہونے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

      کتنا تشویشناک ہے مسئلہ؟
      اس سے ڈیٹا کی چوری اور مالی فراڈ کے اشارے ملتے ہیں۔ بلاشبہ دھوکہ دہی سے قرضہ لینے کا معاملہ ہے جو کہ بہت سنگین الزام ہے۔ قرض کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں، کلیکشن ایجنٹ پین کارڈ کے اصل مالکان کو ہراساں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ متاثرہ افراد میں اداکارہ سنی لیون (Sunny leone)بھی شامل ہیں، جنہوں نے جعلی قرض لینے کے لیے شناخت کی چوری کا الزام لگایا ہے۔

      دھانی(Dhani) کا یہ ہے طریقہ کار
      Dhani کے ترجمان نے کہا، ’انجان لوگوں نے ایپ پر فن ٹیک آپریشن کے ذریعے قرض لینے کے لئے کسی دیگر کے پین کارڈ اور پہچان کے استعمال کے کچھ معاملے ہماری جانکاری میں آئے ہیں۔‘

      ترجمان نے بتایا کہ، ’ہم نے ان معاملوں میں ضروری قدم اٹھائے ہیں اور سبھی شکایت گزاروں سے بات کررہے ہیں۔ ہم کریڈیٹ بیورو میں ان کے ریکارڈ کو بھی ٹھیک کررہے ہیں۔‘

      2022 میں یہ 8 اسمال کیپ اسٹاک 50فیصد سے زیادہ تیز
      دھانی نے ایک بیان میں کہا، ’شناخت کی چوری کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ہماری رسک مینجمنٹ اور ٹیک ٹیم کام کر رہی ہے۔ ہم مزید مضبوط نظام تیار کر رہے ہیں، تاکہ ایسی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

      لیکن، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھانی کے عالمی سیکورٹی پلیٹ فارم جی ڈیفنس سے منسلک ہونے کے بعد ڈیٹا کا لیکیج کیسے ہوا۔

      دراصل یہ واحد معاملہ نہیں ہے۔ RBI نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے ڈیجیٹل فراڈ کو دو بڑے چیلنجوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا ہے، دوسراہے سائبر فراڈ، اس کا ذکر 8دسمبر کو آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر ٹی روی شنکر نے کیا تھا۔

      RBI کے لئے نئے چیلنجز
      ڈیجیٹل فراڈ نئے دور کے بینکنگ چینلز کے لیے بہت سے چیلنجز کا باعث ہیں۔ کمپنیوں کو کاروبار کے ساتھ ان چیلنجوں سے نمٹنا ہوگا اور ڈیٹا کی چوری، غلط استعمال کو روکنے کے لیے اپنے ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کو بہتر بنانا ہوگا۔

      اس سال جنوری میں، آر بی آئی نے اس شعبے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایک فن ٹیک ڈیپارٹمنٹ بنایا ہے۔ تاہم، بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل قرض دینے کے شعبے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے RBI کے پاس مناسب انفرااسٹرکچر اور افرادی قوت موجود ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: