உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: الیکٹرانک وہیکل کیسے کام کرتی ہے؟ EV کی اتنی قیمت کیوں ہے؟ میںEV کب خریدوں؟

    ملک میں بہتر ای وی انفراسٹرکچر آنے تک انتظار کرنا صحیح مشورہ ہوگا۔

    ملک میں بہتر ای وی انفراسٹرکچر آنے تک انتظار کرنا صحیح مشورہ ہوگا۔

    سادہ الفاظ میں ایک برقی گاڑی لیتھیم آئن بیٹری پیک (lithium-ion battery pack) یا نکل میٹل ہائیڈرائیڈ (nickel-metal hydride) سے چلتی ہے۔ یہ ​​اسی طرح کام کرتی ہے جس طرح کسی کا موبائل فون کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایپل یا سیام سنگ جیسی بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتی ہیں۔

    • Share this:
      آٹوموبائل انڈسٹری (automobile industry) کے بیشتر ماہرین کے مطابق آٹوموبائل انڈسٹری میں تبدیلی کی ہوائیں تقریباً چل چکی ہیں۔ پچھلی صدی اور اس کے بعد کے عرصے سے ہماری زندگیوں میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اسی لیے فوسل ایندھن (fossil fuels) پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔ یہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اتنا سرایت کرچکا ہے کہ اس کے بغیر مستقبل کا تصور کرنا مشکل سا ہوگیا ہے۔ تاہم زمین کے ماحولیاتی توازن کو پہنچنے والے نقصان اور پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے کاربن اخراج کو دیکھتے ہوئے اس عالمی مسئلے کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

      مذکورہ مسئلہ کے قابل عمل اور پائے دار حل کے لے الیکٹرک بیٹری (electric battery) سے چلنے والی آٹوموبائل کی طرف شفٹ کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً تمام بڑے آٹوموبائل برانڈز اس تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے پہلے ہی اپنی تبدیلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تو آئیے جانتے ہیں کہ الیکٹرانک وہیکل کیسے کام کرتی ہے؟ اس بارے میں مکمل معلومات ذیل میں پیش ہیں:

      ای وی کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟

      سادہ الفاظ میں ایک برقی گاڑی لیتھیم آئن بیٹری پیک (lithium-ion battery pack) یا نکل میٹل ہائیڈرائیڈ (nickel-metal hydride) سے چلتی ہے۔ یہ ​​اسی طرح کام کرتی ہے جس طرح کسی کا موبائل فون کام کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایپل یا سیام سنگ جیسی بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتی ہیں۔ اس کی سب سے بنیادی سطح پر بیٹری یونٹ سینکڑوں انفرادی سیلس پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک ساتھ پیک کیا جاتا ہے تاکہ بیٹری زیادہ گھنٹوں تک چل سکے، جو  کہ چیسس (chassis) کے اندر ہوتی ہے۔


      الیکٹرک وہیکل میں استعمال ہونے والی بیٹری یونٹ کی پیمائش کی جاتی ہے۔ تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ کب تک کام کرسکتی ہے۔ او وی بیٹری کی پیمائش میں استعمال ہونے والی یونٹ کو کلو واٹ گھنٹے (یا kWh) کہا جاتا ہے۔ اس کو رن آف دی مل انٹرنل کمبشن انجن (ICE) کار میں فیول ٹینک کی صلاحیت کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ لہذا بیٹری کی گنجائش جتنی زیادہ ہوگی، رینج اتنی ہی لمبی ہوگی اور الیکٹرک گاڑی سے اتنی ہی طاقت حاصل کی جاسکتی ہے۔

      الیکٹرک وہیکل کب تک چلتی ہے؟

      انٹرنل کمبشن انجن (آئی سی ای) کاروں کی لمبی عمر کے پیش نظر ای وی کا ایک اہم حصہ ہے جو شاید ابھی اتنا ہموار نہ ہو۔ تاہم ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ای وی میں پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والے انجن کے مقابلے میں کم حرکت پذیر پرزے (moving parts) ہوتے ہیں۔ اس مرمت کے اخراجات میں کمی آسکتی ہے اور الیکٹرک گاڑی کے لائف سائیکل میں اضافہ کے لیے مدد ملتی ہے۔ تاہم یہ مکمل طور پر بیٹری پیک کی صلاحیت پر منحصر ہے۔

      مثال کے طور پر ٹاٹا موٹرس حال ہی میں لانچ کی گئی ٹاگور ای وی پر بیٹری پیک اور موٹر پر آٹھ سال یا 1,60,000 کلومیٹر کی وارنٹی پیش کرتا ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ کوئی تشویشناک بات نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ تر ای وی پر بیٹری کی زندگی 10 سال کے قریب ہونی چاہیے۔ لیکن ابھی بھی ایسے بہت سے عوامل ہیں، جن کی وجہ سے ای وی کی مدت حیات میں کمی پیشی آسکتی ہے۔ اس میں موسمیاتی تبدیلی، سڑک کی حالت اور خود بیٹری پیک کا معیار شامل ہے۔ جو الیکٹرک گاڑی / کار کی عمر کو بدل سکتا ہے۔ جہاں تک رینج کا تعلق ہے؛ اس کے لیے بیٹری کا یونٹ جتنا بڑا ہوگا، اتنی ہی زیادہ طاقت اور رینج حاصل ہو سکتی ہے۔

      ای وی کی قیمت اتنی کیوں ہے؟

      عام گاڑیوں کے بنسبت ای وی کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو زیادہ تر بیٹری پیک کافی بڑے ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ ٹیکنالوجی اب بھی کافی نئی ہے اور ابھی تک بہتر ہونے کے عمل میں ہے۔ ای وی کا ایک اور پہلو بھی ہے اگرچہ وہ ڈرائیونگ کے دوران کوئی کاربن اخراج پیدا نہیں کرتی ہے، لیکن لیتھیم آئن بیٹری پیک بنانے کا عمل وقت طلب ہے اور اس کی دستیابی میں مزید وقت لگے گا۔ ای وی صنعت اب بھی فوسل فیول پر کام کرنے والی صنعتوں پر انحصار کرتی ہے۔ تاہم مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ طویل مدت میں یہ مجموعی طور پر ماحول کے لیے بہتر ہے اور اس کی قیمت بھی کم ہوسکتی ہے۔

      فی الحال الیکٹرک گاڑیاں، پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں کافی مہنگی ہیں۔ مثال کے طور پر پٹرول سے چلنے والی Tigor کمپیکٹ سیڈان کے بیس ورژن کے مقابلے Tata Tigor EV کی قیمت تقریباً دوگنی ہے۔ اس پر پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں، کیونکہ ابھی ای وی میں مزید تبدیلی آنے کا امکان ہے کیونکہ ای وی دنیا میں زیادہ سے زیادہ مقبول ہو رہی ہے۔

      میں ای وی کب لے سکتا ہوں؟

      یہ سوال قدرے مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں بہتر ای وی انفراسٹرکچر آنے تک انتظار کرنا صحیح مشورہ ہوگا۔ اس میں بہتر آر اینڈ ڈی، زیادہ چارجنگ اسٹیشنز، ہندوستانی سڑکوں پر ای وی ٹیسٹنگ اور دیگر عناصر شامل ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہر خریدار کو شعوری طور پر تبدیلی کرنی ہوگی اور ای وی کو خریدنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے کوئی جلد بازی نہ کریں۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: