உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive:اکھلیش یادو نے کہا- یوپی میں بڑی پارٹیوں سے اتحاد نہیں، ٹکرا رہی ہیں ڈبل انجن کی سرکار

    سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو۔

    سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو۔

    اکھلیش نے یہ بھی کہا کہ لال ٹوپی پر پی ایم نریندر مودی کے ریمارک سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی لال ٹوپی سے ڈرتی ہے۔ سابق سی ایم نے کہا کہ وارانسی میں آخری دنوں میں جانے کے بارے میں اُن کا ریمارک بی جے پی حکومت کے تعلق سے تھا۔

    • Share this:
      جونپور: سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) نے کہا ہے کہ اُترپردیش (Uttar Pradesh) میں سماج وادی پارٹی (Samajwadi Party) کا کانگریس (Congress) سمیت بڑی پارٹیوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی (BJP) کے لئے دروازے کھولنے والے اوم پرکاش راج بھر (OM Prakash Rajbhar) جیسی چھوٹی پارٹیاں اب ہمارے ساتھ ہیں۔ ایک انٹرویو میں نیوز18 سے اکھلیش نے یہ بھی کہا کہ لال ٹوپی پر پی ایم نریندر مودی کے ریمارک سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی لال ٹوپی سے ڈرتی ہے۔ سابق سی ایم نے کہا کہ وارانسی میں آخری دنوں میں جانے کے بارے میں اُن کا ریمارک بی جے پی حکومت کے تعلق سے تھا۔ یادو نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ لکھیمپور معاملے میں سازش واضح ہونے کے بعد مملکتی وزیر داخلہ اجے مشرا ٹینی کو ہٹادیا جائے۔ یہاں پڑھیں اُن کے انٹرویو کے اقتباسات۔
      سوال: وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ لال ٹوپی والوں سے لوگوں کو محتاط رہنا چاہیے کیونکہ یہ انارکی اور دہشت گردوں پر رحم دکھانے کی علامت ہے۔۔۔
      جواب: پتہ نہیں بی جے پی لال رنگ سمجھتی ہے یا نہیں۔ وہ تسلیم کررہے ہیں کہ وہ لال ٹوپی سے ڈرتے ہیں۔ لال رنگ جذبات اور انقلاب کا رنگ ہے۔ جن کی زندگی میں لال رنگ نہیں ہے، وہ اسے نہیں سمجھیں گے۔ ماں درگا کی چُنری لال، سندور لال ہے۔ لال ایک زندہ رنگ ہے۔ لال ٹوپی جئے پرکاش نارائن نےپہنی تھی۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور اُن کے شاگردوں نیتاجی (ملائم سنگھ یادو( اور برج بھوشن تیواری کی جانب سے مکمل آزادی کا نعرہ دیا تھا۔ یہ سبھی ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے لال ٹوپی پہنی تھی اور کسانوں، غریبوں، نوجوانوں اور اقلیتوں کے لئے سخت محنت کی اور اُں کے لئے اعزاز حاصل کرنے کا کام کیا۔ آئین کی توہین کرنے والوں سے آئین کو بچانا وقت کی ضرورت ہے، اور ہمارے پاس صرف لال نہیں ہے، ہمارے پاس اوم پرکاش راج بھر جی کا پیلا اور ہرا رنگ ہے۔ جب یہ لوگ ایک ساتھ آئیں گے تو یو پی سے ایک رنگ کو پسند کرنے والوں کو ہٹادیں گے۔

      سوال: کیا آپ اُترپردیش الیکشن میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کریں گے؟
      جواب: بڑی پارٹیوں سے ہمارا کوئی الائنس نہیں ہوگا۔ اگر آپ دیکھیں تو ہمارے ساتھ اوم پرکاش راج بھر اور دیگر لوگ ہیں جنہوں نے بی جے پی کے لئے (یوپی میں) دروازے کھولے۔ اس بار انہوں نے نہ صرف اُن دروازوں کو بند کیا بلکہ اُن دروازوں کو کُنڈی بھی لگادی۔

      سوال: لکھیم پور کھیری واقعہ میں ایس آئی ٹی نے کہا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند سازش تھی اور دفعات جوڑی گئی ہیں؟
      جواب: اب جانچ ہوچکی ہے اور اس کے ملزم سازش رچتے پائے گئے ہیں۔ لوگوں پر سوال اٹھائے گئے اور وہ اب بھی حکومت کا حصہ ہیں (مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی)۔ کیا آپ اُنہیں اُن کے عہدے سے ہٹائے بغیر انصاف کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ ان ہلاکتوں نے ہمیں جلیان والا باغ کی یاد دلائی جہاں لوگوں کو سامنے سے گولی ماری گئی۔ اُدھر بی جے پی لیڈروں نے کسانوںکو پیچھے سے کچل دیا۔ آج ہر طبقہ، چاہے وہ بیوپاری ہو، کسان ہو، ہر کوئی بی جے پی کے خلاف ہے اور بی جے پی ان الیکشن میں ہار جائے گی۔
      سوال: آپ کا کاشی کاریمارک کا مطلب کس کے لئے تھا؟
      جواب: سوال یہ نہیں ہے کہ یہ کسے کے لئے کہا گیا۔ لوک کاشی کیوں جاتے ہیں؟ کاشی کس لئے جانا جاتا ہے؟ گنگا میں تیرتی لاشوں کو کس نے نہیں دیکھا ہے۔ دواوں اور ٹیکہ اندازی کی ضرورت کے درمیان لوگوں کو چھوڑ دیا گیا۔ بی جے پی کے پاس کسی کے بھی بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا شوق ہے۔ آج سب سے بڑے سوال جو پوچھے جارہے ہیں وہ بے روزگاری، مہنگائی کے ہیں نہ کہ کاشی میں آخری دن کون گزارے گا۔ سوال حکومت کے مستقبل کا ہے (حکومت کے آخری دن بچے ہیں)۔ سماج وادی پارٹی کو کسانوںِ نوجوانوں، مہنگائی، بے روزگاری کی فکر ہے اور یہ ہمارے لئے مدعے ہیں۔

      سوال: ااپ نے کاشی کے آرگنائزروں پر بہت طنز کیا اور اُن میں سے ایک سی ایم یوگی کی جانب سے گنگا میں ڈوبکی نہ لگانے پر تھا۔ آپ نے یہ بات کیوں کی؟
      جواب: مجھے جانکاری ملی کہ سی ایم نے گنگا میں ڈوبکی نہیں لگائی اورمجھے لگتا ہے کہ مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ یوپی میں ندیاں اور اُن ندیوں میں گندگی گنگامیں جاتی ہے، چاہے وہ کالی ندی ہو، گومتی ندی ہو اور یمنا ندی بھی ہو۔ اس لئے سی ایم کو اس کی جانکاری تھی۔ یوپی نے ندیوں کی صفائی نہیں دیکھی اور اس لئے سی ایم نے ڈوبکی نہیں لگائی۔ اگر یہ بات پی ایم کو پتہ ہوتی ہے تو اُنہیں بھی اس مدعے کو اُٹھانا چاہیے تھا۔

      سوال: تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ سی ایم یو پی کے بارے میں پی ایم کو جانکاری نہیں دیتے؟
      جواب: ڈبل انجن والے سرکاری انجن آپس میں ٹکرارہے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ اُن کے لوگوں نے سی ایم کو میلوں چلنے کے لئے مجبور کیا تھا اور جب وہ ویڈیو وائرل ہوا تو سی ایم نے پی ایم کے ساتھ اپنی تصویر کلک کرائی۔ کیوں کیا گیا؟ ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ اُنہیں چلنا تھا۔

      سوال: I&B منسٹر انوراگ ٹھاکر نے ہمیں بتایا کہ آپ کی حکومت نے لمبے وقت تک پروجیکٹس میں دیری کی۔۔۔
      جواب: کیا بی جے پی اس بات سے انکار کرسکتی ہے کہ کاشی بازآبادکاری کے لئے زمین کا ایکوائر کرنا سماج وادی پارٹی حکومت کے دوران شروع ہوا تھا؟ جہاں تک کاشی وشواناتھ دھام کی بازآبادکاری کا سوال ہے تو ورونا ندی کا کام کیوں روکا گیا؟ میٹرو کی ڈی پی آر اور بجٹ ہم نے منظور کیا تھا۔ گھاٹ پورے کیوں نہیں ہوئے؟ نیتاجی (ملائم سنگھ یادو( کے وقت میں جو پل بنے تھے، اُس کا کریڈیٹ بی جے پی لینے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی مجھے بتائے کہ انہوں نے ایس پی کی جانب سے شروع کیے گئے کاموں کو کیوں روکا۔ ہم نے ایمس کے لئے زمین کو حاصل کیا۔ جس گیس پائپ لائن کو ہلدیہ تک جانا تھا، وہ ہماری حکومت کی معیاد میں منظور ہوئی تھی۔ ہمیں جیور اور فیروزآباد ایئرپورٹ کے لئے این او سی نہیں ملی۔ اگر وہ دیا جاتا، تو یوپی میں ایک اور انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہوتا۔

      سوال: ٹھاکر نے یہ بھی کہا کہ آپ بڑوں کی عزت نہیں کرتے ہیں اور اُنہیں ملائم سنگھ یادو کے لئے برا لگتا ہے۔
      جواب: بی جے پی کو پہلے اپنے بزرگ لیڈروں کے بارے میں سوچنا چاہیے اُس کے بعد ہی د وسروں پر انگلی اٹھانی چاہیے۔ اُں کے سینئر لیڈروں کی بے عزتی کی گئی۔ وہ کہاں ہیں کسی کو پتہ نہیں۔ اُنہیں آئینے میں دیکھنا چاہیے اور خوداحتسابی کرنا چاہیے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: