உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایکسکلوزیو: کارگل فوجی سلطان چودھری کو زخمی ہونے کے بعد 8 دنوں تک نہیں آیا تھا ہوش

    ایکسکلوزیو: کارگل فوجی سلطان چودھری کو زخمی ہونے کے بعد 8 دنوں تک نہیں آیا تھا ہوش

    ایکسکلوزیو: کارگل فوجی سلطان چودھری کو زخمی ہونے کے بعد 8 دنوں تک نہیں آیا تھا ہوش

    آج ہی کے دن 1999میں ملک کے جانباز فوجیوں نے کارگل میں ہندوستان کا پرچم لہرایا تھا اور پاکستان سے آئے دراندازوں کو کھدیڑ کر ملک کی سرحد کو محفوظ بنایا تھا۔ 1999 میں لڑی گئی اس جنگ میں پاکستان کو ہندستانیوں کی بہادری کا وہ سبق ملا تھا، جس کو آ ج تک پاکستان بھلا نہیں سکا ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: آج ہی کے دن 1999میں ملک کے جانباز فوجیوں نے کارگل میں ہندوستان کا پرچم لہرایا تھا اور پاکستان سے آئے دراندازوں کو کھدیڑ کر ملک کی سرحد کو محفوظ بنایا تھا۔ 1999 میں لڑی گئی اس جنگ میں پاکستان کو ہندستانیوں کی بہادری کا وہ سبق ملا تھا، جس کو آ ج تک پاکستان بھلا نہیں سکا ہے۔ اسی جنگ میں کپتان حنیف الدین سمیت بڑی تعداد میں جانباز ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ کتنوں نے اپنے اعضاء گنوائے اور معذور ہوگئے۔ کارگل کی جنگ میں بذات خود شامل ہونے والے ایک فوجی سلطان چودھری بھی تھے۔

    سلطان چودھری دراز سیکٹر علاقے میں مورچے پر جنگ لڑرہے تھے۔ سلطان چودھری 12جولائی 1999کو جنگ لڑتے ہوئے زخمی ہوئے اور 8 دنوں تک بے ہوش رہے۔ ان کو دوگولیاں لگی تھیں، پیروں اور بازﺅں میں گولیاں لگیں تھی۔ تاہم گولی لگنے کے بعد اوپر سے نیچے گرنے کی وجہ سے پورا جبڑا ٹوٹ گیا تھا۔ تین سال تک علاج معالجہ کے بعد وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوسکے۔ سلطان چودھری بتاتے ہیں کہ جب جنگ لڑی جارہی تھی تو دشمن کو اونچائی کا فائدہ تھا، اس لئے آگے بڑھنے کے لئے رات کے وقت کا انتظار کیا جاتا تھا۔ ان کے دو ساتھی موقع پر ہی شہید ہوگئے تھے۔

    سلطان چودھری 12جولائی 1999کو جنگ لڑتے ہوئے زخمی ہوئے اور 8 دنوں تک بے ہوش رہے۔ ان کو دوگولیاں لگی تھیں، پیروں اور بازﺅں میں گولیاں لگی تھیں۔
    سلطان چودھری 12جولائی 1999کو جنگ لڑتے ہوئے زخمی ہوئے اور 8 دنوں تک بے ہوش رہے۔ ان کو دوگولیاں لگی تھیں، پیروں اور بازﺅں میں گولیاں لگی تھیں۔


    سلطان چودھری بتاتے ہیں ہمارے پاس عام بندوقیں تھیں جبکہ دشمن کے پاس اے کے 47 جیسے مہلک ہتھیار تھے، لیکن ہتھیاروں سے زیادہ اہم جنگ میں جذبہ اور ملک کی حفاظت کا خیال اہم ہوتا ہے، جو ہمارے پاس تھا اور ہم ہندستانیوں نے دشمن کو بڑی تعداد میں مار گرایا اور ملک کی سرحدوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ سلطان چودھری نے بتایا کہ ان کو کرگل جنگ میں لگی گولیوں کی وجہ سے 2002 میں ریٹائر منٹ لینا پڑی۔ سلطان چودھری بتاتے ہیں انھیں اب وہ وقت یاد آتا ہے جب مشکل حالات کے باوجود آگے بڑھنا تھا اور ساتھی شہید ہورہے تھے۔

    سلطان چودھری بتاتے ہیں انھیں اب وہ وقت یاد آتا ہے جب مشکل حالات کے باوجود آگے بڑھنا تھا اور ساتھی شہید ہورہے تھے۔
    سلطان چودھری بتاتے ہیں انھیں اب وہ وقت یاد آتا ہے جب مشکل حالات کے باوجود آگے بڑھنا تھا اور ساتھی شہید ہورہے تھے۔


    پولیس والوں کی طرح ملے سماج میں احترام

    سلطان چودھر ی کا درد اس وقت چھلک اٹھا، جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ ملک و قوم سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ملک وقوم سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوجی جوانوں کا بھی اسی طرح سے احترام و عزت کی جائے، جس طرح سے پولیس افسران اور اہلکاروں کی عزت کی جاتی ہے۔ سلطان چودھری نے کہا کہ لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کی حفاظت کے لئے ملک کا فوجی سرحد پر کن حالات میں اپنا فرض انجام دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ جوانوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرتے اور نہ ہی وہ احترام ملتا ہے، جو پولیس کے لوگوں کو ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ملک کے عوام کی محبت اور احترام درکار ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: