உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Analysis: اومیکرون کے بڑھتے قہر میں جینومک نگرانی کیسے کرے گی مدد

    ڈبلیو ایچ او نے اطلاع جاری کی تھی کہ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں یہ ویرینٹ دوبارہ پھیلاو کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے اطلاع جاری کی تھی کہ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں یہ ویرینٹ دوبارہ پھیلاو کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

    ساوتھ افریقہ کی ڈاکٹر کو نومبر کے وسط میں جب کسی مریض میں وائرل انفکشن کے غیر معمولی اثر نظر آئے تب انہوں نے یہ جانکاری دی تھی کہ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ اُبھر سکتا ہے۔

    • Share this:
      ہیلتھ ایکسپرٹس اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کورونا وائرس کے ویرینٹ کی پہچان کرنے کے لئے جینومک نگرانی پر زور دے رہے ہیں۔ جس سے اس کی روک تھام کے لئے بہتر قدم اُٹھائے جاسکیں۔ اس سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے مرکز نے ریاستوں کو جانچ اور جینومک سیکوئنس کو بڑھانے کی درخواست کی ہے، لیکن آخر یہ کس طرح مدد کرے گا۔

      جینومک نگرانی کس طرح ہوگی مددگار
      ساوتھ افریقہ کی ڈاکٹر کو نومبر کے وسط میں جب کسی مریض میں وائرل انفکشن کے غیر معمولی اثر نظر آئے تب انہوں نے یہ جانکاری دی تھی کہ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ اُبھر سکتا ہے۔ انہوں نے بنا دیر کیے ساوتھ افریقہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیبل ڈیسیز (NICD) کو اطلاع دی۔ جس کے بعد 25 نومبر کو دنیا کے سامنے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ B.1.1.529 کا اعلان کیا۔ جس کو بعد مین ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اومیکرون کا نام دیا اور اسے ویرینٹ آف کنسرن کی کیٹگری میں شامل کیا۔

      ابتدائی جانکاری کے مطابق، ڈبلیو ایچ او نے اطلاع جاری کی تھی کہ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں یہ ویرینٹ دوبارہ پھیلاو کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اومیکرون ویرینٹ ایک شخص سے دوسرے شخص میں تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ سائوتھ افریقہ انتظامیہ نے 14 اور 16 نومبر کے درمیان دوسرے ویرینٹ سے ان نمونوں کو الگ کیا، کیونکہ ملک میں تیزی سے کیسیز میں اضافہ ہورہا تھا۔ اس کے بعد پڑوسی ملک بوتسووانا نے بھی آفیشلی اس ویرینٹ کو ہری جھنڈی دکھادی تھی۔

      دو ہفتوں کے اندر ماہرین نے ان غیر معمولی علامات کو دیکھتے ہوئے نئے ویرینٹ کی پ ہچان کرلی تھی اور اس کے عالمی سطح پر پھیلنے کو لے کر دنیا بھر میں تشویش پھیل گئی تھی۔ حالانکہ ساوتھ افریقہ اس کو لے کر فلائٹس پر پابندی لگانے سے ناراض ہے۔ نئے ویرینٹ کی فوری پہچان کر لینے سے حکومت اُس پر روک تھام کرنے کے قابل ہوگی۔ وہیں دوسری طرف کچھ ویکسین تیار کرنے والے پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم موجودہ ویکسین میں تبدیلی کرکے اسے اومیکرون کے حملے سے بچائو کے لائق بنانے میں غور کررہے ہیں۔

      جینومک نگرانی کیا ہوتی ہے؟
      جین بنیادی سطح پر وراثت کی یونٹ ہے۔ اس سے کسی نسل کی جسمانی خصلتوں اور خوبیوں کا پتہ چل سکتا ہے جو اسے والدین سے ملے ہوں۔سارس کووی 2 جیسے وائرس کی اگر بات کریں تو جینیاتی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انسانی خلیوں کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ جبکہ انسانی جین ڈی این اے سے بنا ہے، کوویڈ وائرس آر این اے سے بنا ہوتا ہے۔ سارس وائرس میں ایک جینوم ہوتا ہے جو کسی خلیے یا جاندار میں موجود جین یا جینیٹک مٹیرئیل کا مکمل سیٹ ہوتا ہے۔

      یہ سیٹر قریب 30،000 نیکلیوٹائیڈ سے بنا ہوتا ہے۔ یہ نیوکلیوٹائیڈ ہی ڈی این اے یا آر این اے تیار کرتے ہیں۔ جینومیک نگرانی وائرس کے اس جینیٹک ٹبدیلی کو پکڑتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نیوکلیوٹائیڈ میں تبدیلی سے وائرس کے رویے میں کیا تبدیلی آرہی ہے۔ کیا وہ اس تبدیلی سے خود کو تیزی سے پھیلانے میں قابل ہے، اینٹی باڈی کو ناکام کرسکتا ہے۔ جانچ سے خود کو بچا سکتا ہے۔

      امریکہ سی ڈی سی کے مابق، جیبنومک سیکوئنسنگ کے ذریعے سائنسدانوں کو کوویڈ کے نئے ویرینٹ میں ہورہی تبدیلی کی جانکاری مل جاتی ہے اور یہ سمجھنے میں آسانی رہتی ہے کہ یہ تبدیلی وائرس کے علامات میں کیا اثر ڈال رہا ہے۔ اس جانکاری کے ذریعے صحت پر پڑنے والے اثر کو بہتر طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے۔

      جینومک نگرانی کیسے ہوتی ہے
      کوویڈ 19 وبا سے پہلے اس طرح کی جینومک نگرانی بیکٹیریا کے اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے جڑی چھوٹے چھوٹے جائزوں کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ اور یہ زیادہ تر پرکوپ یا انفلوئنزہ اسٹرین کی جانچ کرنے میں کام میں لائی جاتی تھی۔ حالانکہ جرنل نیچر میں شائع ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ وبا کے بعد جینومک نگرانی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس سے سائنسداں وائرس میں آرہے جینومک تبدیلی کو اس لیول پر پکڑ پارہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوپاتا تھا۔

      جینومک نگرانی کے تحت پورے جینیٹک میک اپ کو سمجھنے کے لئے پازیٹیو سیمپل کی سیکوئنس کو شامل کیا جاتا ہے جس سے جینس میں ہورہی تبدیلی کی جانکاری ملتی ہے۔ جس سے سائنسدانوں کو یہ پتہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے کہ وائرس میں یہ تبدیلی کس طرح کا رویہ ظاہر کرتا ہے۔ حالانکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ابھی کئی ملکوں میں جینوم سیکوئنس کے لئے ماڈرن لیب کی کمی ہے جس ے بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔

      ہندوستان میں جینومک نگرانی کیسے کی جا رہی ہے
      جینومک نگرانی کے لئے اس سال جولائی میں جاری گائیڈلائنس میں انڈین سارس۔کووی 2 جینومک کنسورٹیام (INSACOG)کہتا ہے کہ اسے پورے ملک میں Sars-coV-2 کے جینیٹک سیکوئنس کو بڑھانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ سیمپل کا فلو صحیح ب نا رہے اس کے لئے 28 سینٹرس کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے حساب سے بنایا گیا ہے۔ INSACOG کا کہنا ہے کہ اس طرح کے لیباریٹریز کے نیٹ ورک بننے سے تیزی سے وائرس پر نگرانی رکھی جاسکے گی اور وبا سے جڑے ڈیٹا کو پبلک ہیلتھ سروس کے ساتھ شیئر کیا جاسکتا ہے جس سے اس پر فوری کارروائی کرکے روک تھام کی جاسکے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: