ہوم » نیوز » Explained

Explained: مسلسل کارروائی کے بعد بھی بستر کیوں نکسلیوں کا بنا ہوا ہے گڑھ ؟

Chhattisgarh Maoist Attack: چھتیس گڑھ کے بستر میں گزشتہ ایک دہائی میں 175 سے زیادہ جوان نکسلی حملوں میں شہید ہوچکے ہیں ۔ وہیں مغربی بنگال سے لے کر آندھرا پردیش جیسے سب سے زیادہ نکسل متاثرہ علاقوں میں امن ہے ۔

  • Share this:
Explained: مسلسل کارروائی کے بعد بھی بستر کیوں نکسلیوں کا بنا ہوا ہے گڑھ ؟
چھتیس گڑھ کے بیجاپور میں ہفتہ کو نکسلیوں کے ساتھ ہوئے تصادم (Maoist violence in Chhattisgarh) میں 22 جوان شہید ہوگئے جبکہ کئی جوان زخمی ہیں ۔ علامتی تصویر ۔

چھتیس گڑھ کے بیجاپور میں ہفتہ کو نکسلیوں کے ساتھ ہوئے تصادم (Maoist violence in Chhattisgarh) میں 22 جوان شہید ہوگئے جبکہ کئی جوان زخمی ہیں ۔ ابھی بھی جوابی کارروائی چل رہی ہے ۔ اس درمیان یہ سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ جہاں ملک کی زیادہ تر نکسل متاثرہ ریاستوں میں امن ہے ، وہیں چھتیس گڑھ میں کیوں نکسلی حملہ جاری ہے جبکہ تقریبا 15 سالوں سے یہاں ان کے خاتمہ کیلئے کارروائی کی جارہی ہے ۔


سال 2010 سے لے کر اب تک دنتواڑے ، سکما اور بیجاپور کے آس پاس 175 سے بھی زیادہ جوان نکسلی حملوں میں شہید ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے ۔ ان کے علاوہ عام لوگ بھی حموں میں زد میں آتے رہتے ہیں ۔ چھ اپریل 2010 کا دن شاید ہی کوئی بھول سکے ، جب سکما میں سی آر پی ایف کے 76 جوان نکسلی حملہ میں شہید ہوگئے تھے ۔ اس کے فورا بعد مئی میں دنتواڑے سے سکما جارہے سیکورٹی فورسیز کے جوانوں پر حملہ ہوا تھا ، جس میں 36 جوان شہید ہوگئے تھے ۔ کل ملاکر سلسلہ مسلسل جاری ہے ۔


چھتیس گڑھ میں نکسلی حملوں پر غور کریں تو ایک خاص پیٹرن دیکھنے میں آتا ہے ۔ علامتی تصویر ۔
چھتیس گڑھ میں نکسلی حملوں پر غور کریں تو ایک خاص پیٹرن دیکھنے میں آتا ہے ۔ علامتی تصویر ۔


مارچ سے جولائی کے درمیان حملے

چھتیس گڑھ میں نکسلی حملوں پر غور کریں تو ایک خاص پیٹرن دیکھنے میں آتا ہے ۔ یہاں مارچ سے جولائی کے درمیان ہی تقریبا سبھی حملے ہوتے رہے ہیں ۔ انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ میں اس کا تذکرہ ہے ۔ اس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ وہ مہینے ہیں ، جس دوران نکسلی عام طور پر جارحانہ مہم چلاتے ہیں اور اس کی پریکٹس بھی کرتے ہیں ۔ اس مہم میں سیکورٹی فورسیز کے خلاف مانسون سے پہلے جارحانہ حملے کرنا بھی شامل ہوتا ہے ۔

کیوں بستر میں لگاتار حملے ہوتے ہیں ؟

اس ریاست میں ویسے تو کئی اضلاع نکسلیوں سے متاثر ہیں ، لیکن بستر میں ان کی گرفت زیادہ مضبوط نظر آرہی ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ جیسے ایک وجہ ہے کہ یہاں گھنے اور دور دور تک پھیلے جنگلات ہیں ۔ یہ نکسلیوں کیلئے محفوظ پناہ گاہیں ہیں ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے کسی وقت میں چمبل کی گھاٹیاں ڈاکووں کیلئے مانی جاتی تھیں ۔ یہاں ایک مرتبہ گھسنے کے بعد آبادی کا کوئی سرا نہیں ملتا ہے ۔ چونکہ نکسلی عام طور پر مقامی لوگوں سے ہی ہوتے ہیں تو وہ جنگل کو اچھی طرح سے جانتے ہیں جبکہ تعینات جوان اس سے انجان ہوتے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ وہ اٹھا رہے ہیں ۔

اوڈیشہ اور آندھرا پردیش میں نکسلیوں کے خلاف سخت کارروائی ہوئی ۔ علامتی تصویر ۔
اوڈیشہ اور آندھرا پردیش میں نکسلیوں کے خلاف سخت کارروائی ہوئی ۔ علامتی تصویر ۔


کیا کہتے ہیں افسران ؟

سیکورٹی سے وابستہ اعلی افسران نام نہ بتانے کی شرط پر یہ بھی کہتے ہیں کہ اوڈیشہ اور آندھرا پردیش میں نکسلیوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ، جس کی وجہ سے یہاں کے شدت پسند اپنے علاقوں سے نکل کر بستر چلے گئے ۔ ہر جگہ کے نکسلی مبینہ طور پر ایک ہی نظریہ سے آتے ہیں ۔ ایسے میں سرحد سے متصل ریاست چھتیس گڑھ اور اس میں بھی بستر ضلع ان کیلئے صحیح پناہ گاہ ثابت ہوا ۔ وہ سرحد پار کرکے یہاں آتے ہیں اور کیڈر میں گھل مل جاتے ہیں ۔ اس سے ہورہا یہ رہا ہے کہ دوسری ریاستوں کے نکسلی بھی یہاں جمع ہوچکے ہیں اور مسلسل دہشت پھیلا رہے ہیں ۔

سڑک اور مواصلات نہیں

نکسلیوں کی وجہ سے ایک تو بستر میں سڑکیں نہیں بن پارہی ہیں اور نہ ہی مواصلات کی سہولیات ہیں ۔ ایسے میں اگر جنگلات کے درمیان جوان پھنس جائیں تو نہ تو ان کے باہر نکلنے کا راستہ ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی صورتحال سے وہ اعلی افسران کو بروقت آگاہ کرپاتے ہیں ۔ یہ بھی ایک طرح سے نکسلیوں کی جیت ہوتی ہے ۔ وہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں یا جنگلوں میں زیر زمین بموں کا جال بچھا کر جوانوں کو ٹریپ کرتے آئے ہیں ۔

چھتیس گڑھ میں گہراتی پریشانی کے پیچھے مبینہ طور پر مقامی پولیس کی جھجھک بھی شامل ہے ۔علامتی تصویر ۔
چھتیس گڑھ میں گہراتی پریشانی کے پیچھے مبینہ طور پر مقامی پولیس کی جھجھک بھی شامل ہے ۔علامتی تصویر ۔


پولیس کے بعد سینٹرل فورس کیوں نہیں ؟

چھتیس گڑھ میں گہراتی پریشانی کے پیچھے مبینہ طور پر مقامی پولیس کی جھجھک بھی شامل ہے ۔ یہاں کی پولیس نکسلیوں کو ختم کرنے میں آگے آنے سے ہچکچاتی ہے ۔ آندھرا پردیش ، اوڈیشہ یا پھر مغربی بنگال کی بات کریں تو وہاں پر پہلے مقامی پولیس نے جانکاریاں جمع کیں اور پھر جوانوں کو اس سے جوڑا گیا ۔ اس سے کام آسان ہوسکتا ہے کیونکہ مقامی لوگوں کے ذریعہ خفیہ جانکاری پولیس تک زیادہ آسانی سے پہنچ پاتی ہے اور پھر سینٹرل سیکورٹی ٹیموں کا اندر پہنچنا کچھ آسان ہوگا ، لیکن چھتیس گڑھ میں یہ بھی نظر نہیں آرہا ہے ۔ وہاں ڈسٹرکٹ ریزرو فورس کی بجائے سی آر پی ایف کو یہ کام دیا جارہا ہے اور وہ شہید ہورہے ہیں ۔

حالانکہ ایک بڑی وجہ مسلسل بستر میں مواصلاتی سہولیات ، سڑکوں اور اسپتالوں کی کمی مانی جارہی ہے ۔ مغربی بنگال جہاں سے نکسلزم کی شروعات ہوئی ، وہاں بھی متاثرہ علاقوں میں سڑکوں سے لے کر مواصلات کو چست درست کردیا گیا ۔ اس کی وجہ سے جوانوں کو کارروائی میں کافی سہولت ہوئی ۔ بتادیں کہ نکسلی اکثر مقامی لوگوں میں سے ہوتے ہیں اور ان کی خفیہ کارروائی کی جانکاری کہیں نہ کہیں سے مقامی لوگوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ ایسے میں اگر مقامی لوگ پولیس کا تعاون کرنا چاہیں بھی تو مواصلات کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بروقت ایسا ممکن نہیں ہوپاتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 06, 2021 03:01 PM IST