ہوم » نیوز » Explained

EXPLAINED: ممبئی میں بچوں کی نصف آبادی کوروناسے متاثر؟آخرکیوں، جانئے ایک سروے کی چونکادینے والی تفصیلات

عالمی ادارہ صحت کے چیف سائنسدان سومیا سوامیاتھن (Soumya Swaminathan) نے مزید کہا کہ ’’سیرو سروے سے یہ بھی جاننے کا موقع مل جاتا ہے کہ کووڈ۔19 سے کسی فرد کی صحت یابی کے بعد استثنیٰ کب تک برقرار رہتا ہے۔ سیرو سروے اسی کی جانچ کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔

  • Share this:
EXPLAINED: ممبئی میں بچوں کی نصف آبادی کوروناسے متاثر؟آخرکیوں، جانئے ایک سروے کی چونکادینے والی تفصیلات
راجستھان کے ایک اسپتال میں ایک بچے کا آرٹی پی سی آر ٹیسٹ کیاجارہاہے۔(تصویر:شٹر اسٹاک)۔

ہندوستان میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کی دوسری لہر سے قبل سیرولوجیکل سروے (serological surveys ) کے تحت ناول کورونا وائرس کو عوام میں پھیلنے کا اشارہ کیا گیا تھا۔اس طرح کے سروے جو کووڈ 19 اینٹی باڈیز (Covid-19 antibodies) کو ٹریک کرتے ہیں ، وہ حقائق کے ساتھ ایسے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں جو ماہرین اور عوام کو حیرت زدہ کرسکتے ہیں یہاں تک کہ یہ بڑے پیمانے پر اصل انفیکشن کی تعداد ٹیسٹوں کے ذریعے معلوم کرنے میں بھی مددگار ہوسکتے ہیں۔


ممبئی کے دو اسپتالوں میں 2000 سے زیادہ بچوں کے درمیان سروے ایک اہم مثال ہے۔ اس سے پتا چلا کہ 50 فیصد سے زیادہ شرکا کووڈ 19 کے خلاف اینٹی باڈیز کے حامل ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں انفیکشن تھا اور وہ صحت یاب ہو گئے۔ سروے کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ بچے اس مرض سے شدید متاثر نہیں ہوں گے کیوں کہ زیادہ تر شرکا کو اسیمپومیٹک انفیکشن تھا۔


  • کیوں سیرو سروے (SERO SURVEYS ) کیا گیا؟


صحت عامہ کے ماہرین کے لئے سیرو سروے کے کلیدی مضمرات کسی خاص نمونہ گروپ میں انفیکشن پھیلنے کی حیثیت میں ہیں۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (Indian Council of Medical Research) کے مطابق سیرو سروے کورونا وائرس کے سامنے آنے والی آبادی کے تناسب کے بارے میں اعداد و شمار فراہم کرسکتے ہیں ، جس میں غیر موزوں افراد بھی شامل ہیں‘‘۔

لیکن یہ واحد راستہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر مخصوص گروپوں کے مابین سروے خطرہ صحت یا خطے سے دوچار افراد جیسے صحت اور فرنٹ لائن ورکرز ، مدافعتی افراد یا کنٹینمنٹ زون والے افراد بھی ہوسکتے ہیں۔

مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع میں تقریبا 10ہزار بچوں اور نوعمر لڑکوں میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا ہے
مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع میں تقریبا 10ہزار بچوں اور نوعمر لڑکوں میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا ہے


اس سے صحت حکام کو منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملے گی جو کسی مخصوص گروپ ، یا علاقے کی طبی ضروریات کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے چیف سائنسدان سومیا سوامیاتھن (Soumya Swaminathan) نے مزید کہا کہ ’’سیرو سروے سے یہ بھی جاننے کا موقع مل جاتا ہے کہ کووڈ۔19 سے کسی فرد کی صحت یابی کے بعد استثنیٰ کب تک برقرار رہتا ہے۔ سیرو سروے اسی کی جانچ کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔

لوگوں کے وقفے وقفے سے اس وائرس کے خلاف استثنیٰ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔

اہم بات یہ ہے کہ سیرو سروے یہ بھی بتاتے ہیں کہ کون کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا ہے، ان کا کہنا ہے کہ صحت کے حکام اس بات کا پتہ لگاسکتے ہیں کہ آبادی کے زیادہ تناسب پر ابھی بھی انفیکشن کا خطرہ ہے۔

  • تو سیرو سروے میں کیا ہوتا ہے؟


آئی سی ایم آر کے مطابق سیرو سروے میں پتہ چلنے والی اینٹی باڈیز جسے آئی جی جی اینٹی باڈیز (IgG antibodies) کہا جاتا ہے۔ عام طور پر انفیکشن کے آغاز کے دو ہفتوں بعد ظاہر ہونا شروع کردیتے ہیں ، ایک بار انفیکشن کے بعد صحت یاب ہوجاتا ہے۔ لہذا اینٹی باڈی ٹیسٹ انفیکشن کا پتہ لگانے کے لئے مفید نہیں ہے، جو بنیادی طور پر ہندوستان میں آر ٹی-پی سی آر یا ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ (آر اے ٹی) کے ذریعہ کیا جاتا ہے ، جس کے لئے صحت کے کارکنوں کے ذریعہ نمونہ جمع کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف سیرولوجیکل ٹیسٹ اینٹی باڈیز کے ٹیسٹ کے لئے خون کے نمونے استعمال کرتا ہے۔ مزید برآں آر ٹی-پی سی آر اور آر اے ٹی اصل وائرس کی موجودگی کی تلاش کرتے ہیں جبکہ اینٹی باڈی ٹیسٹ میں خون میں موجود خصوصیات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

امریکی منشیات کے ریگولیٹر کے مطابق ’’ان ٹیسٹوں کی کارکردگی کو ان کی حساسیت یا سارس-کو -2 (حقیقی مثبت شرح) کے اینٹی باڈیز والے افراد کی شناخت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اس کے نتیجہ کو یا تو رد عمل کہا جاتا ہے، یعنی آئی جی جی اینٹی باڈیوں کا پتہ لگایا جاتا ہے، یا غیر رد عمل ہے ، جس کا مطلب ہے کہ اینٹی باڈیز نہیں پائی گئیں۔

ہندوستان میں آئی سی ایم آر نے خون میں اینٹی باڈیز کی جانچ پڑتال کے لئے ایلیسا یا سی ایل آئی اے ٹیسٹوں (ELISA or CLIA tests) کو منظوری دے دی ہے۔

ایک خاتون معصوم بچے کے ساتھ پہنچی ممبئی کے ویکسی نیشن سینٹر
ایک خاتون معصوم بچے کے ساتھ پہنچی ممبئی کے ویکسی نیشن سینٹر


  • ٹیسٹ میں کیا تلاش کیا جاتا ہے؟


آئی جی ان آئی جی جی کا مطلب امیونوگلوبلین (immunoglobulin) ہے ، جو ایک پروٹین کی کلاس ہے جو اینٹی باڈیز کے طور پر کام کرتی ہے اور خون اور قوت مدافعت کے نظام میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح ہندوستان میں کئے جانے والے سیرو سروے امیونوگلوبلین جی کی تلاش میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں موجود 70 تا 80 فیصد امیونوگلوبلین آئی جی جی ہیں۔ ابتدائی انفیکشن کے دوران جسم مخصوص آئی جی جی اینٹی باڈیز تیار کرسکتا ہے، جو مائکروجنزموں کے خلاف طویل مدتی تحفظ کی اساس بناتے ہیں۔

  • کئی قومی سروے ہندوستان میں کیسے ہوسکتے ہیں؟


پچھلے سال مئی میں ملک گیر سطح کا پہلا سروے کیا گیا تھا اور جس میں پایا گیا تھا کہ 1 فیصد سے بھی کم لوگوں میں ناول کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز تھیں۔ اتفاقی طور پر آئی سی ایم آر نے جون 2021 میں اپنا چوتھا ملک گیر اینٹی باڈی سروے شروع کیا ہے جو 21 ریاستوں کے 70 اضلاع میں ہو رہا ہے جس میں پہلے تین راؤنڈ کیے گئے تھے۔

دوسرے سیرو سروے جو پچھلے سال اگست میں شروع ہوا تھا، میں مثبت شرح 6.6 فیصد ظاہر کی گئی تھی۔ تیسرا سروے دسمبر 2020 اور اس سال جنوری کے درمیان کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ آزمائشی افراد میں سے پانچویں سے زیادہ افراد کووڈ 19 کا شکار ہوکر بازیاب ہوئے تھے۔

تیسرے سروے میں 10 سال سے اوپر کے بچوں کو شامل کیا گیا تھا جبکہ اطلاعات کے مطابق جدید ایڈیشن میں 6 سال سے اوپر کے بچوں کو بھی اینٹی باڈیز کے ٹیسٹ کروائیں گے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 30, 2021 11:51 PM IST