ہوم » نیوز » Explained

Explained: جانئے باہمی رضامندی سے طلاق کیسے لے سکتے ہیں اور کیا کیا کرنی ہوں گی قانونی کارروائیاں؟

جب آپ اور آپ کی شریک حیات نے اپنی راہیں الگ کرنے کی شرائط طے کرلئے ہیں تو آپ باہمی رضامندی سے طلاق کی درخواست فیملی کورٹ میں داخل کرکے اپنی شادی کو ختم کرسکتے ہیں ۔

  • Share this:
Explained: جانئے باہمی رضامندی سے طلاق کیسے لے سکتے ہیں اور کیا کیا کرنی ہوں گی قانونی کارروائیاں؟
Explained: جانئے باہمی رضامندی سے طلاق کیسے لے سکتے ہیں اور کیا کیا کرنی ہوں گی قانونی کارروائیاں؟

1) باہمی رضامندی سے طلاق کیا ہے ؟


جب آپ اور آپ کی شریک حیات نے اپنی راہیں الگ کرنے کی شرائط طئے کرلئے ہیں ، تو آپ باہمی رضامندی سے طلاق کی درخواست (ہندو میرج ایکٹ 1955 کے سیکشن 13 بی اور اسپیشل میرج ایکٹ 1954 کے سیکشن 28 کے تحت) فیملی کورٹ میں داخل کرکے اپنی شادی کو ختم کرسکتے ہیں ۔


2) درخواست کی عرضی کہاں داخل کی جاسکتی ہے ؟


علاقہ کے فیملی کورٹ میں طلاق کی عرضی داخل کی جاسکتی ہے ۔ ( اے ) جہاں شادی ہوئی ہے۔ ( بی) جہاں آپ اور آپ کی شریک حیات آخری مرتبہ ساتھ میں رہے ہیں ۔ ( سی ) جہاں اہلیہ رہ رہی ہیں ۔

3) کیا میں اپنی طرف سے باہمی رضامندی سے طلاق کی عرضی داخل کرسکتا ہوں ؟

اگرچہ قانون میں اس کی ممانعت نہیں ہے ، لیکن اس کے لئے خصوصی مسودہ سازی کی ضرورت پڑتی ہے اور ہمیشہ یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کسی ماہر وکیل کی خدمت لیں ۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ علاحدگی کے دوران آپ کے حقوق محفوظ ہیں۔

4) باہمی رضامندی سے طلاق کا پروسیجر کیا ہے ؟

باہمی رضامندی کیلئے عام طور پر عدالت میں دو بڑی عرضیاں دائر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہندو میرج ایکٹ 1955 کے سیکشن 13 بی (1) کے تحت فرسٹ موشن کیلئے عرضی ۔

فرسٹ موشن میں بیان ریکارڈ کرانے کے بعد فریقین کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور و خوض کرنے کے لئے کم سے کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 18 ماہ کی قانونی "کولنگ پیریڈ" دی جاتی ہے ۔ اگراس کے بعد بھی فریقین طلاق چاہتے ہیں تو وہ آگے بڑھ سکتے ہیں ، جہاں انہیں داخل کرنی ہوگی :

ہندو میرج ایکٹ 1955 کے سیکشن 13 بی (1) کے تحت سکینڈ موشن کیلئے عرضی ۔

5) کیا 6 سے 18 ماہ کی کولنگ پیریڈ اسشتثنی مل سکتی ہے ؟

سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2017 کے اپنے ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ اگر حالات اور حقائق متقاضی ہوں تو چار خاص حالات میں متعلقہ عدالت اس مدت سے استثنی دے سکتی ہے ۔ اس کیلئے 13 بی ( 2) کے تحت سکینڈ موشن کی عرضی کے ساتھ ایک الگ درخواست داخل کرنی ہوگی ، جس میں بتانا ہوگا کہ اس معاملہ میں کولنگ پیریڈ کی ضرورت کیوں نہیں ہے ۔

6) کیا باہمی رضامندی سے طلاق کے کیس میں ایک ہی وکیل فریقین کی جانب سے پیش ہوسکتا ہے ؟

ہاں

7) باہمی رضامندی سے طلاق ملنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے ؟

اگرچہ متنازع طلاق کا معاملہ حل ہونے میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے ۔ مگرباہمی رضامندی سے ایک سے دو ماہ کی مدت میں طلاق حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

نوٹ : پراچی مشرا سپریم کورٹ کی وکیل ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 19, 2021 09:41 PM IST