ہوم » نیوز » Explained

Explained:ہندوستان میں کوروناوائرس کی دوسری لہر،مثبت کیسوں کی شرح میں کیوں ہورہاہےبھیانک اضافہ؟

ہندوستان میں انفیکشن کی اس دوسری لہر کے بارے میں متعدد قابل ذکر خصوصیات میں سے ایک مثبت کیسوں کی اعلی شرح ہے۔ گذشتہ سال کے بنسبت رواںسال کورونا کی ٹسٹنگ کے دوران بہت سے افراد کو کورونا مثبت لاحق ہورہا ہے۔

  • Share this:
Explained:ہندوستان میں کوروناوائرس کی دوسری لہر،مثبت کیسوں کی شرح میں کیوں ہورہاہےبھیانک اضافہ؟
مہاراشٹر میں بے قابو کورونا نے پھر توڑے سبھی ریکارڈ ،

عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے کیسوں کی تصدیق شدہ مجموعی تعداد میں ہندوستان پہلے ہی برازیل سے آگے نکل گیا ہے اور اب یہ امریکہ کے بعد عالمی سطح پر دوسرا بدترین متاثر ملک بن گیا ہے۔ملک کی مختلف ریاستوں کے ذریعہ درج کیے جانے والے کورونا کے کیسوں میں لگاتار اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے پورے ملک کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔


ہندوستان میں کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد:

ہندوستان میں انفیکشن کی اس دوسری لہر کے بارے میں متعدد قابل ذکر خصوصیات میں سے ایک مثبت کیسوں کی اعلیٰ شرح ہے۔ گذشتہ سال کے بہ نسبت رواں سال کورونا کی ٹسٹنگ کے دوران بہت سے افراد کو کورونا سے متاثر قراردیئے جارہے ہیں۔مثال کے طور پر پچھلے ایک ہفتہ میں 13.5 فیصد سے زیادہ ٹیسٹوں کا نتیجہ مثبت (+) آیا ہے۔ ہفتے میں سات دن کی اوسط  کبھی بھی زیادہ نہیں رہی۔ کورونا مثبت کی شرح معاشرے میں بیماری کے پھیلاؤ کا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ اس سے زیادہ پھیل جانے والی بیماری ٹیسٹوں میں زیادہ مثبت شرح کا سبب بنے گی۔


اعلی مثبت شرح اور کورونا کی شدت:

موجودہ اعلی مثبت شرح (high positivity rate) اس امکان کو تقویت بخشتی ہے کہ یہ وائرس پچھلے دو مہینوں کے دوران بہت تیز شرح سے پھیل گیا ہے اور گذشتہ سال کے مقابلہ میں بہت سے لوگوں کو شدید متاثر کررہا ہے۔گذشتہ سال کورونا کی پہلی لہر کے دوران جولائی (2020) کے آخری ہفتے میں مثبت کیسوں کی شرح عروج پر آگئی تھی اور اس کے بعد اس میں مسلسل کمی واقع ہوئی یہاں تک کہ اگست اور ستمبر میں مثبت معاملات میں اضافہ ہوتا رہا۔

اس وقت کورونا کیسوں کی تعداد میں اضافہ ٹیسٹوں کا براہ راست نتیجہ تھا۔ جولائی کے بیشتر حصہ تک ہندوستان میں ایک دن میں پانچ لاکھ سے بھی کم ٹیسٹ کیے جارہے تھے۔ یہ صرف مہینے کے اختتام پر ہورہا تھا۔ جب جانچ کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی تو اگست کے تیسرے ہفتے تک ایک دن میں دس لاکھ سے زیادہ ہوگئی۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر


گذشتہ سال ستمبر  سے موجودہ حالات کا موازنہ:
ابھی ہندوستان میں گذشتہ سال ستمبر کے دوران ہونے والے کیسوں کے مقابلے میں تقریبا 2.5 فیصد زیادہ کیس سامنے آرہے ہیں۔لیکن یہ جانچ میں کسی اضافے کی وجہ سے نہیں ہے۔ جانچ کے نمبرات تقریبا اسی سطح پر ہیں جو پچھلے سال ستمبر اور اکتوبر میں تھے۔ لیکن بہت سارے لوگ کو کورونا مثبت ہورہا ہے۔

مہاراشٹرا میں تاحال 15 فیصد سے زیادہ مثبت کیس سامنے آرہے ہیں، لیکن چھتیس گڑھ اور اترپردیش سمیت کئی دیگر ریاستوں میں یہ تناسب کم ہے، جو گزشتہ سال بھی نسبتا کم تھا۔ اب مذکورہ ریاستیں بھی کورونا کیسوں کے معاملے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کررہی ہیں۔ در حقیقت چھتیس گڑھ کی ہفتہ وار مثبت شرح اس وقت بھی مہاراشٹر سے کہیں زیادہ ہے۔

مثبت شرح میں لگاتار اضافہ ہو کیوں رہا ہے؟

لوگوں کے مابین بڑھتے ہوئے رابطے کی وجہ سے یا وائرس کے مختلف اقسام کی تیز تر منتقلی (faster-transmitting variant ) کی وجہ سے مثبت شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ ان دونوں مختلف عناصر نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ کورونا کی ایک نئی شکل جو مقامی طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس کو پہلے مہاراشٹر کے ویدربھا (Vidarbha) خطے میں دیکھا گیا تھا۔ اس میں دو اہم crucial mutations ہیں جو اس کو تیز تر منتقل کرتے ہیں اور ممکنہ طور پر مدافعتی نظام (Immune System) کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔

کہیں کورونا کی نئی قسم سے زیادہ افراد متاثر تو نہیں ہورہے ہیں؟

مہاراشٹر میں پیش آرہے کورونا وائرس کے 60 فیصد سے زیادہ نمونوں (samples) میں کورونا کی نئی قسم کے آثار نظر آرہے ہیں۔ جس سے اس سے قبل مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔ جو جین کی ترتیب (Gene Sequencing) کے لئے جمع کیے گئے تھے۔ اس کے بعد کورونا کی یہ نئی قسم دوسری ریاستوں میں بھی پھیل گئی ہے۔

کورونا کی چین کو توڑنے اور اس کی شدت کو کم کرنے کے لیے جلد اور نتیجہ خیز جانچ ایک اہم اقدام ہے۔ جو صحت انتظامیہ کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ قلیل مدت میں اس کے نتیجے میں کیسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ زیادہ لوگوں کی ٹسٹنگ ہوگی اور ضرورت ہو تو وہ قرنطینہ میں چلے جائیں گے۔ تاکہ یہ وبا ان کے ذریعہ دوسروں تک نہ پھیلیں اور اس کے انفیکشن کو دوسروں تک منتقل ہونے سے روکا جائے۔

لیکن موجودہ صورتحال میں مثبت کیسوں کی بہت زیادہ تعداد کی وجہ سے نظام صحت بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور ٹسٹنگ کی سہولیات بھی ناکافی ہوتی جارہی ہیں۔

ایک نیا آزمائشی دور:

ایسا لگتا ہے کہ آزمائشی طور پر یہ ملک ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ جہاں سے واپس آنا اور معمول کی زندگی گزارنا مزید مشکل نظر آرہا ہے۔ اب تک ہر روز 14 سے 15 لاکھ کے درمیان ٹسٹ کیے جارہے ہیں۔

یہ اسی طرح ہے، جس طرح ستمبر اور اکتوبر میں کیا جارہا تھا، لیکن اس وقت یہ معاملات بہت کم تھے اور یہ بیماری شاید زیادہ سست شرح سے پھیل رہی تھی۔

تاہم سب سے زیادہ متاثرہ ریاستیں اپنی جانچ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی رہی ہیں۔ مہاراشٹر ایک دن میں تقریبا دو لاکھ نمونوں کی جانچ کر رہا ہے۔ جبکہ دہلی ایک دن کے ایک لاکھ ٹیسٹ کو عبور کرچکا ہے۔ چھتیس گڑھ میں بھی پہلے سے کہیں زیادہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ یہاں روزانہ تقریبا 50,000 ٹسٹ کیے جارہے ہیں۔

(یہ مضمون امیتابھ سنہا کا ہے۔ جو دی انڈین ایکسپریس، پونے ایڈیشن کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔ وہ ماحولیات، آب و ہوا کی تبدیلی، پانی اور سائنس و ٹکنالوجی کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔)
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 18, 2021 10:56 AM IST