உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained : امریکی کالجوں میں داخلہ لینے کیلئے اس طرح کریں اپنی عرضی کی تیاری

    داخلہ حکام بالعموم ان عرضیوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں جن سے معلوم ہو کہ عرضی گذار ادارے کو بخوبی جانتا ہے، اس کے ذہن میں ایک واضح منصوبہ ہے اورجو اس بات پر مصر ہو کہ وہ اس ادارے کے لیے موزوں ہے۔ تصویر بشکریہ یونیورسٹی آف مساچیوسٹس، ایمہرسٹ / اسپین میگزین ۔

    داخلہ حکام بالعموم ان عرضیوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں جن سے معلوم ہو کہ عرضی گذار ادارے کو بخوبی جانتا ہے، اس کے ذہن میں ایک واضح منصوبہ ہے اورجو اس بات پر مصر ہو کہ وہ اس ادارے کے لیے موزوں ہے۔ تصویر بشکریہ یونیورسٹی آف مساچیوسٹس، ایمہرسٹ / اسپین میگزین ۔

     ایک موثر اور مکمل درخواست تیار کرنے کے سلسلے میں داخلہ عہدیداروں کے کچھ مشورے یہاں طلبہ کی سہولت کے لیے دیے جاتے ہیں ۔

    • Share this:
      پارومیتا پین

      امریکہ میں کسی  کالج میں داخلہ ملنا  انتہائی مسابقتی چیزہے۔ لیکن خود کو بھیڑ سے الگ پیش کرنے کے  کئی  طریقے ہیں۔

      کسی امریکی یونیورسٹی میں داخلہ  حاصل کرنے کے سفر میں ایک اہم مرحلہ اپنے آپ کو درخواست کے عمل سے گزرنے کے لیے کافی وقت دینا ہے۔ ایمہرسٹ میں واقع مساچیوسٹس یونیورسٹی میں اندراج کے بندوبست کے معاون پروووسٹ کریگ اسٹر یہارن کہتے ہیں ’’ جلدی شروع کریں اور اپنی حتمی تاریخ ( ڈیڈ لائن) جانیں ۔اکثر اوقات  طلبہ اس بات کا اندازہ درست طور پر نہیں لگاتے کہ درخواست کو پوری طرح مکمل کرنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم حتمی تاریخ کی شب بہت ساری درخواستیں وصول کرتے ہیں۔ یہ اکثر واضح ہوتا ہے کہ ان درخواستوں کو جلدبازی میں بھیجا گیا  اور اس چیز کے لیے درکار احتیاط سے کام نہیں لیا گیا ۔‘‘

      درخواست کے عمل میں جلدبازی کرنے  سے غلطیاں ہوسکتی ہیں اور آپ کے منتخب کردہ ادارے میں داخلے کی پیش کش کے امکانات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسٹریہارن  بتاتے ہیں   ’’ غلط  تلفظ والے الفاظ ، کٹ اور پیسٹ کی غلطیاں اور دیگر خامیاں صحیح معنوں میں داخلہ صلاح کاروں  کو غلط طریقے سے پریشان کرتی ہیں۔‘‘

      آسٹن میں واقع ٹیکساس  یونیورسیٹی میں مواصلات کے منیجر کیتھلین سکورا ہیریسن کا ماننا ہے ’’درخواست کے عمل کے لیے جلدی  تیاری کرنا اور ضروری لوازمات اور حتمی  تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔اس لیے  اپنی سرکاری تعلیمی رسمی دستاویزات اور ریکارڈ جلد حاصل کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ اس کی متعدد کاپیاں آپ کے پاس ہوں۔‘‘

      درست اور موزوں کی  تلاش کریں

       امریکی کالج کے لیے  درخواست کا عمل خالص  طور پر تعلیمی نہیں ہے اور یہ پیچیدہ بھی ہوسکتا ہے۔ ٹفٹس یونیورسٹی میں داخلوں کی ایسوسی ایٹ ڈائرکٹر بریجٹ مور  کا کہنا ہے ’’ آپ کے علمی ادارے  آپ کی درخواست کا مرکزی نقطہ ہیں ، لیکن ہم اس بات کی بھی پرواہ کرتے ہیں کہ آپ کیمپس میں کیا بننے جارہے ہیں‘‘۔  مثال کے طور پر ، ٹفٹس یونیورسٹی کے پاس کیمپس کے مواقع کی کثرت ہے اور داخلہ کے عہدیدار یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کلاس روم میں اور اس کے باہر  طلبہ ایسی چیزوں سے کس طرح فائدہ اٹھائیں گے۔

      مور کہتی ہیں ’’ آپ کی درخواست ایک کتاب کی طرح ہے جس میں ایک سے زیادہ ابواب ہیں۔ کوئی بھی بار بار ایک ہی باب کو پڑھنا نہیں چاہتا ۔ لہٰذا آپ کے مضامین ، آپ کی سفارشات ، آپ کے ضمیمہ میں — داخلہ کمیٹی آپ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ آپ کون ہیں اور آپ کی خصوصیات ہمارے معاشرے کو کس طرح تقویت بخشیں گی۔‘‘

       ایک واضح کہانی سنائیں

      درخواست بھیجنے سے پہلے رابطے قائم کرنے سے  مدد مل سکتی ہے۔ ہیریسن طلبہ کو اسکولوں کا پتہ لگانے  اور ان کے ساتھ بات چیت  کرنے کے کئی مواقع سے مستفیض ہونے کا مشورہ دیتی ہیں۔وہ کہتی ہیں ’’کچھ اسکولوں نے اپنے کیمپس میں ذاتی طور پر وِزٹ پروگرام دوبارہ شروع کردیے ہیں ، جبکہ بہت سارے اسکول ورچوئل اور آن لائن تجربات  مسلسل پیش کرتے رہتے ہیں۔‘‘ اگرچہ یہ شخصی تجربے جیسا نہیں ہے لیکن بہت ساری یونیورسٹیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا یہ ایک انتہائی کم خرچ والا  اور موثر طریقہ ہے۔ ہر ادارے کے داخلے سے متعلق معلومات اور طریقہ کار کو اچھی طرح سے پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے کیونکہ ہر ادارے  کے تقاضے  دوسرے ادارے سےمختلف ہوتے ہیں۔ یہ خاص طور پر بین الاقوامی طلبہ کے لیے اہمیت کی حامل چیز ہے۔

      ہر ادارہ سے متعلق داخلہ جاتی معلومات اور ضوابط کی پوری جانکاری اہمیت کی حامل چیز ہے کیوں کہ اداروں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ تصویر بشکریہ یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹِن / اسپین میگزین ۔
      ہر ادارہ سے متعلق داخلہ جاتی معلومات اور ضوابط کی پوری جانکاری اہمیت کی حامل چیز ہے کیوں کہ اداروں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ تصویر بشکریہ یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹِن / اسپین میگزین ۔


      درخواست کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑنے والا ایک واضح بیان  اہم ہے۔ اسٹریہارن  کا کہنا ہے ’’ اکثر اوقات  کئی شعبوں کا بھی  احاطہ کرنے کی کوشش میں درخواستیں ایک ساتھ پھینک دی جاتی ہیں یا بکھری ہوئی لگتی ہیں۔میرا ماننا ہے کہ یہ اس فرضی داستان کے سبب ہے کہ امریکہ کے اسکول ’مختلف قسم  کی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رہنےوالے‘   طلبہ کی تلاش میں  ہیں۔ میں جو چیز دیکھنا پسند کرتا ہوں وہ ایک منظم درخواست ہے جو طالب علم کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتی ہو‘‘۔ اسٹریہارن کا کہنا ہے کہ وہ اکثر ایسے درخواست دہندگان کی طرف راغب ہوتے ہیں جو ایمہرسٹ میں واقع مساچیوسٹس یونیورسٹی کے بارے میں واضح طور پر جانتے ہیں اور اپنی عرضی میں صرف کچھ واضح  حقائق شامل نہیں کررہے ہیں جو انہیں  فوری گوگل سرچ میں ملیں۔وہ کہتے ہیں  ’’ ہم ایسے طلبہ کی تلاش کر رہے ہیں جو ہمارے اسکول کے بارے میں جانتے ہوں ، واضح منصوبہ رکھتے ہوں اور اس بات پر زور دے سکتے ہوں کہ وہ یہاں کے لیے درست اور موزوں  کیوں کر ہیں۔‘‘

      ادارے کے بارے میں جاننے سے مقصد سے متعلق  مضبوط بیانات لکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ مورکہتی ہیں ’’ آپ جس پہلے موضوع  کے بارے میں سوچتے ہیں اس پر دھیان  نہ دیں۔ کچھ خیالات کو آزمائیں اور دیکھیں کہ کون سا بہتر طور پر ایک ساتھ آرہا ہے۔ اپنا ذاتی بیان لکھنے کے لیے، خیالات اور مدد حاصل کرنے کے لیے ایک ورکشاپ میں شرکت کریں جیسا کہ ٹفٹس پیش کش کرتا ہے۔ اور ہمیشہ ظاہر کریں ، بتائیں مت۔‘‘

      مضامین یا مختصر جواب لکھتے وقت اسٹریہارن طلبہ کو ان کے نزدیک اہمیت کی حامل  کسی چیز کے بارے میں لکھنے کی صلاح دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ متاثر کن الفاظ یا ضرورت سے زیادہ پیچیدہ جملوں کو شامل کرنے کے لیے خصوصی کوشش کرنے کی فکر نہ کریں۔ اگر آپ اپنے جیسے لگتے  ہیں اور کسی ایسی چیز پر گفتگو کرتے ہیں جو آپ کے لیے معنی رکھتی  ہے تو  آپ کا مضمون زیادہ موثر ہوگا۔‘‘

      خاص طور پر ڈاکٹریٹ درخواست دہندگان کے لیے اساتذہ سے جڑنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ ہیریسن کا کہنا ہے ’’ یہ یقینی بنائیں کہ جن اداروں میں  آپ درخواست دے رہے ہیں، ان کے پاس  اسی شعبے میں تحقیق کرنے والے استادہوں جس میں آپ دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘حصول ملازمت کےکسی  بھی اعداد و شمار سمیت  گریجویٹ ہونے کے بعد گریجویٹس کیا کر رہے ہیں، اس کے بارے میں سوالات پوچھیں۔  موجودہ طلبہ کے ساتھ بات کرنا یقینی بنائیں تاکہ آپ کو طالب علم کے اپنے تجربے کا نقطہ نظر معلوم ہو سکے ، خاص طور پر ان طلبہ کے ساتھ جن  کا تعلق آپ کے ملک سے ہے۔

      بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی ۔ 
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: