உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: نیپاوائرس کووڈ۔19سےکم متعدی، لیکن یہ بھی انتہائی خطرناک! جانئےکیاہےنیپاوائرس؟

    یہ بیماری ایک متاثرہ فرد جسمانی سیالوں اور رطوبتوں کے ذریعے بھی انسانوں کو منتقل کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ متاثرہ مریضوں کے خاندان اور دیکھ بھال کرنے والوں میں نیپا وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی بھی اطلاع ملی ہے‘‘۔

    یہ بیماری ایک متاثرہ فرد جسمانی سیالوں اور رطوبتوں کے ذریعے بھی انسانوں کو منتقل کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ متاثرہ مریضوں کے خاندان اور دیکھ بھال کرنے والوں میں نیپا وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی بھی اطلاع ملی ہے‘‘۔

    یہ بیماری ایک متاثرہ فرد جسمانی سیالوں اور رطوبتوں کے ذریعے بھی انسانوں کو منتقل کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ متاثرہ مریضوں کے خاندان اور دیکھ بھال کرنے والوں میں نیپا وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی بھی اطلاع ملی ہے‘‘۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کیرالا میں خوفناک نیپا وائرس (Niv) کی وجہ سے ایک موت ہوئی ہے یہاں تک کہ جنوبی ریاست میں کووڈ 19 کے نئے کیسوں کی زیادہ تعداد کی اطلاع آرہی ہے۔ جو ملک کے آدھے سے زیادہ روزانہ کی تعداد ہے۔ 12 سالہ لڑکے کے شمالی کوزی کوڈ ضلع میں نیپا سے دم توڑنے کے بعد کیرالہ کے حکام نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے روک تھام کے اقدامات اٹھائے ہیں کہ اس وائرس کو کیسے روکا جائے، جس میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔ اسے ناول کورونا وائرس کی طرح متعدی ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے جو کووڈ 19 کا سبب بنتا ہے، لیکن جس شدت سے یہ مریضوں کو متاثر کرتا ہے اس سے تشویش کی بڑی وجہ بن گئی ہے۔

      نیپا وائرس کیا ہے؟

      نیپا ایک زونوٹک وائرس zoonotic virus ہے ، جس کا مطلب ہے کہ یہ پہلے جانوروں میں پیدا ہوا اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا ہے، جن میں یہ سانس کا شدید انفیکشن اور انسیفلائٹس encephalitis یا دماغی بخار brain fever کا سبب بنتا ہے۔ وائرس کا نام ایسی چیز ہے جسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کوویڈ 19 کی مختلف حالتوں کے لیے یونانی حروف کے ناموں کے ساتھ تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ملائیشیا کا وہ گاؤں ہے جہاں 1998-99 میں اس وقت کی نامعلوم بیماری کے پہلے کیسز پایا گیا تھا۔ سنگاپور میں بھی نیپا وائرس کے پہلے پائے جانے والے کیسز سے متاثر ہونے کی وجہ سے ایک مریض کی شناخت کی گئی۔

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔
      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      نیپا وائرس کے قدرتی میزبان کو پھلوں کا چمگادڑ fruit bat سمجھا جاتا ہے جسے فلائنگ لومڑی flying foxes بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چمگادڑ درختوں میں رہتے ہیں اور عام طور پر پورے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں بازاروں ، عبادت گاہوں ، اسکولوں اور سیاحتی مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں۔

      بیماری کس طرح ایک شخص کو متاثر کرتی ہے؟

      اس کے متاثر کرنے کے مختلف طریقے ہیں جن سے نیپا وائرس پھیل سکتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر انسانوں کو متاثر کرتا ہے جب وہ پھل کھاتے ہیں یا کچے کھجور کا جوس پیتے ہیں، کھجور کے درخت کو پھل کے چمگادڑ کا پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے متاثرہ پھل کے چمگادڑ کے تھوک یا پیشاب سے وہ آلودہ ہوجاتے ہیں۔ نیپا انفیکشن کے معاملات ان لوگوں میں بھی دیکھے گئے ہیں جو چمگادڑوں کے قبضے والے درختوں پر چڑھتے ہیں۔

      پھر ایک درمیانی میزبان کے ذریعے منتقلی ہوتی ہے۔ ملائیشیا-سنگاپور میں 1998-99 کے پھیلنے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بیمار خنزیر یا ان کے آلودہ ؤتکوں سے انسانوں کے رابطے کے ذریعے پیدا ہوا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹرانسمیشن خنزیر کے سراو کے غیر محفوظ نمائش یا بیمار جانور کے ٹشو tissue of a sick animal سے غیر محفوظ رابطے کے ذریعے ہوئی ہے‘‘۔

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      یہ بیماری ایک متاثرہ فرد جسمانی سیالوں اور رطوبتوں کے ذریعے بھی انسانوں کو منتقل کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ متاثرہ مریضوں کے خاندان اور دیکھ بھال کرنے والوں میں نیپا وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی بھی اطلاع ملی ہے‘‘۔

      اس نے مزید کہا کہ ’’بنگلہ دیش اور ہندوستان میں بعد میں پھیلنے کے دوران نیپا وائرس براہ راست انسانوں سے انسانوں میں لوگوں کے رطوبتوں اور اخراج کے قریبی رابطے کے ذریعے پھیل گیا۔ سنہ 2001 سے 2008 تک بنگلہ دیش میں رپورٹ ہونے والے نصف کیسز کی وجہ سے متاثرہ مریضوں کو دیکھ بھال فراہم کرنے کے ذریعے انسان سے انسان میں منتقل ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر انفیکشن متاثرہ مریضوں سے آئے ہیں جنہیں سانس لینے میں دشواری تھی، جو اس نظریہ کی تائید کرتی ہے کہ وائرس سانس کی رطوبت اور تھوک میں سفر کر سکتا ہے ، جیسے کھانسی سے خارج ہونے والے ذرات بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

      علامات کیا ہیں؟

      بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مراکز (سی ڈی سی) کے مطابق ’’نیپا وائرس سے انفیکشن ہلکے سے شدید بیماری کا سبب بن سکتا ہے، بشمول دماغ کی سوجن (انسیفلائٹس) ہوجاتی ہے، جو کہ ممکنہ طور پر موت کا سبب بن جاتی ہے۔

      ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کے درج کردہ علامات میں بخار ، تبدیل شدہ ذہنی کیفیت ، شدید کمزوری ، سر درد ، سانس کی تکلیف ، کھانسی ، قے ​​، پٹھوں میں درد ، کانپنا ، اسہال شامل ہیں۔

      بیماری کے لیے انکیوبیشن پیریڈ incubation period یعنی وائرس کی نمائش اور علامات کی ظاہری شکل کے درمیان کا وقت 4 سے 14 دن کے درمیان ہوتا ہے، جو اسے پریشانی کا باعث بناتا ہے کیونکہ ایک متاثرہ فرد ان کے ساتھ رابطے میں آنے سے نادانستہ طور پر اسے دوسروں میں پھیل سکتا ہے۔

      ’’یہ بیماری ابتدائی طور پر بخار اور سر درد کے 3 تا 14 دنوں کے بعد اپنا اثر دیکھاتی ہے اور اس میں اکثر سانس کی بیماری کی علامات بھی شامل ہوتی ہیں ، جیسے کھانسی ، گلے میں درد اور سانس لینے میں دشواری وغیرہ۔ سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ دماغی سوجن (انسیفلائٹس) کا ایک مرحلہ ہوسکتا ہے، جہاں علامات میں غنودگی، گمراہی اور ذہنی الجھن شامل ہوسکتی ہے، جو 24 تا 48 گھنٹوں کے اندر تیزی سے کوما کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔
      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      یہ کتنا متاثر کن ہے؟ اور کیسے مہلک؟

      کیرالا میں اس سال پھیلنے کے بعد گلوبل وائرس نیٹ ورک (جی وی این) کی جانب سے 2018 کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نیپا وائرس کے لیے R نمبر ، یا تولیدی نمبر ، تقریبا 0.43 تھا۔ R-number یا R naught ایک ریاضی کی اصطلاح ہے جو نئے انفیکشن کی اوسط تعداد کی مقدار بتاتی ہے جو ایک متاثرہ فرد پیدا کر سکتا ہے۔

      کووڈ 19 کا پہلا کیس سنہ 2020 میں چین میں پہلے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد دنیا بھر میں تیزی سے پھیل چکا گیا تھا ، اس کی R نمبر 1 سے زیادہ بتائی گئی ہے، جو بتاتا ہے کہ یہ آبادی کے ذریعے کامیابی سے پھیلنے کا سبب ہے۔ لیکن 1 سے نیچے کا R-نمبر ، جو کہ نیپا کا معاملہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ انفیکشن بالآخر ختم ہو جائے گا۔

      اس کا کیسے علاج کیا جاتا ہے؟

      ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ فی الحال نیپاہ وائرس کے انفیکشن کے لیے کوئی دوا یا ویکسین مخصوص نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے تحقیق اور ترقی کے لیے نیپا کو ترجیحی بیماری کے طور پر شناخت کیا ہے۔ یہ اان لوگوں کے لیے ہے جو اس مرض میں مبتلا ہیں، ڈبلیو ایچ او سفارش کرتا ہے ہے کہ جلد سے جلد شدید سانس اور اعصابی پیچیدگیوں کا علاج کیا جا سکے۔

      ہندوستان کی این سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ اینٹی ویرل ، ریبا ویرن ، نیپا وائرس کی بیماری کی وجہ سے انسیفلائٹس کے مریضوں میں اموات کو کم کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے"۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: