ہوم » نیوز » Explained

Explained: ایران کے نومنتخب صدرابراہیم رئیسی کون ہیں؟جانئے مکمل تفصیلات

رئیسی کو پہلی بار اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی جب وہ 1980 میں کرج (Karaj) کے پراسیکیوٹر جنرل (Prosecutor General ) بنے، جب ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔ اس کے بعد وہ 2004 سے 2014 تک تہران کے پراسیکیوٹر (Prosecutor of Tehran) اور چیف جسٹس آف جوڈیشری (First Deputy to the Head of Judiciary) کے پہلے نائب بن گئے جس کے بعد وہ 2014 سے 2016 تک ایران کے پراسیکیوٹر جنرل بنے۔

  • Share this:
Explained: ایران کے نومنتخب صدرابراہیم رئیسی کون ہیں؟جانئے مکمل تفصیلات
ایران کے نومنتخب صدرابراہیم رئیسی۔(تصویر:اے پی)۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں 19 جون 2021 کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ابراہیم رئیسی (Ebrahim Raisi) نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ اب وہ ایران کے نو منتخب صدر بن گئے ہیں۔


  •  ابراہیم رئیسی کون ہیں؟


ابراہیم رئیسی کو پہلی بار اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی جب وہ 1980 میں کرج (Karaj) کے پراسیکیوٹر جنرل (Prosecutor General ) بنے، جب ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔ اس کے بعد وہ 2004 سے 2014 تک تہران کے پراسیکیوٹر (Prosecutor of Tehran) اور چیف جسٹس آف جوڈیشری (First Deputy to the Head of Judiciary) کے پہلے نائب بن گئے جس کے بعد وہ 2014 سے 2016 تک ایران کے پراسیکیوٹر جنرل بنے۔


سن 2019 میں رئیس کو ایران کی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا، یہ تقرری ایران اور عراق جنگ کے بعد 1988 میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کی اجتماعی پھانسیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے خدشات کو جنم دینے والی تھی۔

ایران کے نومنتخب صدرابراہیم رئیسی۔(تصویر:اے پی)۔
ایران کے نومنتخب صدرابراہیم رئیسی۔(تصویر:اے پی)۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) نے رائیسی کو "ڈیتھ کمیشن" (death commission) کا رکن تسلیم کیا ہے جس نے جولائی کے آخر اور ستمبر 1988 کے اوائل کے درمیان تہران کے قریب واقع اوین اور گوہرداشت جیلوں میں کئی ہزار سیاسی قیدیوں کو لاپتہ اور غیرقانونی طور پر پھانسی دی

رئیسی کے نیم فوجی گروپ اسلامی انقلابی گارڈ کور (Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC)) سے بھی تعلقات ہیں۔ آئی آر جی سی کی قدس فورس کے سابق انچارج قاسم سلیمانی (Qassem Soleimani) ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری امریکہ نے 2020 میں قبول کیا تھا۔ قدس فورس (Quds Force ) کو امریکہ نے سن 2019 میں ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم نامزد کیا تھا۔


ابراہیم رئیسی نے موجودہ صدر حسن روحانی (Hassan Rouhani) کے خلاف 2017 میں انتخابات میں حصہ لیا تھا اور انھیں ایک موقع پر خمینی (Khameini) کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔ 2015 میں یہ روحانی کی حکومت تھی جس نے P5 (اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبروں میں برطانیہ ، امریکہ ، روس ، فرانس اور چین) اور جرمنی و یورپی یونین کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ نے یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ 2018 میں ملتوی کر دیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔

ایران میں صدارتی انتخابات:

ایران کے 13 ویں صدارتی انتخابات 18 جون 2021 کو ہوئے، جس میں سات امیدوار سعید جیلی (Saeed Jalili)، ابراہیم رئیسی (Ebrahim Raisi)، علیریزا زاکانی (Alireza Zakani)، سید امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی (Seyed Amir Hossein Qazizadeh Hashemi)، محسن مہرالی زادے (Mohsen Mehralizadeh)، محسن رضائی (Mohsen Rezaei)، اور عبد الناصر ہمتی (Abdolnaser Hemmati) نے مقابلہ کیا۔ ان میں سے تین امیدواروں سمیت مہرالی زاہد ، زاکانی اور جیلی بدھ کے روز رئیسی سے دستبردار ہوگئے۔

ایران انٹرنیشنل (Iran International) کے مطابق ان انتخابات میں 59 ملین سے زیادہ اہل ووٹرز تھے جن میں 1.39 پہلی بار رائے دہندگان شامل تھے۔ ایران کی مجموعی آبادی 85.9 ملین سے زیادہ ہے اور وہ 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد اپنا ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

جہاں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنی (Ayatollah Ali Khameini) نے لوگوں سے اپنے ووٹ ڈالنے کی تاکید کی ہے ، وہاں ووٹروں کی تعداد 50 فیصد رہی جو ملک کی تاریخ میں سب سے کم ہے۔ اہل رائے دہندگان میں سے تقریبا 28 ملین افراد نے اپنا ووٹ استعمال کیا۔

  • ایرانیوں میں کیا جذبات ہیں؟


اس بار لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے اپنا ووٹ اس لئے نہیں ڈالا کہ انہیں یقین ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور انھیں گارڈین کونسل کے نام نہاد انتخابی نگراں پر بھروسہ نہیں ہے۔ یہ 12 اراکین کا ایک پینل شامل ہے جس میں چھ قائدین اور چھ فقہ شامل ہیں جنہیں سپریم لیڈر نے مقرر کیا ہے۔

ایران میں صدارتی انتخابات کے دوران تشہیرمہم کا ایک منظر۔(تصویر:اےپی)۔
ایران میں صدارتی انتخابات کے دوران تشہیرمہم کا ایک منظر۔(تصویر:اےپی)۔


ایران کے انتخابات میں امیدوار حکومت کی کمیٹیوں اور اس کے بعد گارڈین کونسل کے ذریعہ دکھائے جاتے ہیں۔ یہ کونسل ایک سخت گیر نگاہ رکھنے والا ادارہ ہے جو تمام امیدواروں کو اسلام ، مذہبی قانون کے نظام ، اور خود اسلامی جمہوریہ سے وابستگی کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ہونے والے انتخابات کی طرح اس بار بھی بھی نگران جماعت نے اصلاح پسند امیدواروں کو انتخاب لڑنے سے نااہل کردیا ہے۔

عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ اپنے ووٹ ڈالنے کا مطلب ان انتخابات کی حمایت کرنا ہوگا جو سمجھے جاتے ہیں کہ یہ غیر منصفانہ ہے۔ ان سات امیدواروں میں سے جنھیں بالآخر 600 سے زائد امیدواروں میں سے صدر کے لئے انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، ان میں سے کسی کو بھی عوامی اپیل نہیں ہوئی تھی اور ریئسی کو سب سے آگے قرار دیا جاتا تھا۔

کچھ امیدواروں کو نئی عمر کی حد کی وجہ سے نااہل کردیا گیا تھا جس کے مطابق امیدواروں کی عمر 40 سے 75 سال کے درمیان ہونی چاہئے۔ مزید یہ کہ تمام خواتین امیدواروں کو نااہل کردیا گیا تھا حالانکہ انہیں سرکاری طور پر انتخاب لڑنے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔

قواعد کے مطابق صدر کو شیعہ مسلمان ہونا چاہئے۔ ایران کی 90 فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ خارجہ تعلقات کی کونسل (Council on Foreign Relations ) نے نوٹ کیا ہے کہ اس وقت ایرانیوں کے لئے سب سے زیادہ پریشانی کا مسئلہ معیشت ہے جس نے جوہری معاہدے کو چھوڑنے کے بعد سے امریکی پابندیوں سے نمایاں طور پر متاثر ہوا ہے۔ سنہ 2020 میں معیشت تقریبا پانچ فیصد سکڑ گئی اور سن 2017 کے بعد سے ترقی نہیں ہوئی۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 20, 2021 10:03 PM IST