உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: ’ہم تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں‘افغانستان کے نائب سیاسی مشیر شیر محمد ستانکزئی سے خصوصی انٹرویو

    افغانستان کے نائب سیاسی مشیر شیر محمد ستانکزئی۔(نیوز18)۔

    افغانستان کے نائب سیاسی مشیر شیر محمد ستانکزئی۔(نیوز18)۔

    افغانستان کے نائب سیاسی مشیر شیر محمد ستانکزئی نے کہا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طویل سیاسی اور جغرافیائی تنازعہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی اندرونی لڑائی میں افغانستان کا استعمال نہیں کریں گے۔ انہیں اس کے لیے افغانستان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے‘‘

    • Share this:
      کابل: نئی دہلی کے ساتھ اپنے مستقبل کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، ایک اعلیٰ طالبان رہنما نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کہا کہ ہندوستان کا برصغیر کے لیے بہت زیادہ مطلب ہے اور طالبان بالکل ہندوستان کی طرح ہیں۔سی این این ۔نیوز۱۸ سے خصوصی بات چیت کے دوران نائب سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے دیا۔ ستانکزئی نے کل ایک مقامی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے بھی ہندوستان سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششوں پر زور دیاتھا۔

      طالبان رہنما کا یہ بیان بہت اہم ہے کیونکہ طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مضبوط ہیں اور اسلام آباد ، ہندوستان کے ساتھ افغانستان کے مضبوط تعلقات کو منفی انداز میں دیکھ رہا ہے۔ جبکہ، 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان کے کسی سینئر رہنما کا یہ پہلا انٹرویو ہے۔جس میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں براہ راست بات کی گئی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) ، جس کی سربراہی نے کی ہندوستان نے افغانستان کے بارے میں اپنے بیان میں طالبان کا حوالہ نہیں دیا اور کہا کہ افغان گروہوں کو دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے دینی چاہیے۔

      سوال: سر آپ ہندوستان کے بارے میں طالبان کا انتظامی نظریہ کیسے دیکھتے ہیں؟
      جواب: امارت اسلامیہ افغانستان Islamic Emirate of Afghanistan کی خارجہ پالیسی ہمارے تمام پڑوسی ممالک اور پوری دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ہے۔ امریکی افواج پچھلے 20 سال سے یہاں افغانستان میں تھیں اور اب وہ ملک سے واپس ہٹ رہی ہیں۔ اس کے بعد امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہوں گے اور نیٹو کے ساتھ بھی۔ تو میرے خیال میں انہیں واپس آکر افغانستان کی بحالی میں حصہ لینا چاہیے۔ ہندوستان کے لیے بھی یہی ہے، ہم دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں جیسے ثقافتی اور اقتصادی اور دوسرے تعلقات جو کہ ہم ان کے ساتھ رکھتے تھے۔ نہ صرف ہندوستان کے ساتھ بلکہ ہمارے تمام پڑوسی ممالک بشمول تاجکستان ، ایران اور پاکستان سے بھی یہی امید ہے۔



      سوال: ایک خدشہ ہے کہ طالبان ہندوستان کے مخالف ہو سکتے ہیں، وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ہندوستان کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ آپ اس بات کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟

      جواب: میڈیا میں جو کچھ آتا ہے وہ اکثر غلط ہوتا ہے ، ہماری طرف سے ایسا کوئی بیان یا اشارہ نہیں ملتا۔ ہم خطے کی تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
      سوال: ایک خدشہ ہے کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ بن سکتا ہے جو کہ لشکر اور جیش جیسے ہندوستان کے لیے خطرہ ہیں۔ اس پر آپ کا تبصرے کیا ہیں؟

      جواب: ہماری تاریخ میں ہندوستان سمیت ہمارے کسی بھی پڑوسی کو افغانستان سے کوئی خطرہ نہیں تھا اور آئندہ بھی ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طویل سیاسی اور جغرافیائی تنازعہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی اندرونی لڑائی میں افغانستان کا استعمال نہیں کریں گے۔ ان کی لمبی سرحد ہے ، وہ سرحد پر آپس میں لڑ سکتے ہیں۔ انہیں اس کے لیے افغانستان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ہم کسی بھی ملک کو اس کے لیے ہماری زمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

      سوال: یہ ایک مضبوط بیان ہے جو آپ دے رہے ہیں کہ آپ لشکر یا جیش کو اپنے علاقے میں کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کیا آپ اس کی تصدیق کر رہے ہیں؟

      جواب: یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم کسی کو بھی دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف افغانی سائیڈ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

      سوال: سر ! آپ نے کچھ دہائیاں پہلے آئی ایم اے میں تربیت حاصل کی تھی۔ اس جگہ کی کوئی یاد اور آپ کا وقت کیسا تھا جب آپ ہندوستان میں تھے؟

      جواب: یہ میری چھوٹی عمر میں تھا۔ روسیوں کے افغانستان آنے سے پہلے مجھے وہاں تربیت دی گئی تھی۔ میں آئی ایم اے میں زیر تربیت تھا اور آئی ایم اے سے گریجویشن کیا۔


      سوالات: کیا آپ اب بھی ان لوگوں سے رابطے میں ہیں؟
      جواب: نہیں، ہندوستان میں نہیں

      سوال: کچھ دن پہلے کابل حملے کے لیے آپ کس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں؟
      جواب: میڈیا میں میں نے دیکھا کہ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

      سوال: لیکن رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ انٹیلی جنس نے مشورہ دیا کہ حقانی دھماکہ کرے گا اور داعش دعویٰ کرے گی۔ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

      جواب: افغان عوام کے دشمن یہی کہتے ہیں۔ یہ سچ نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر جھوٹا ہے۔ چونکہ داعش نے اس کی ذمہ داری لی ہے اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ داعش نے یہ کام کیا ہے۔

      سوال: بہت سے ہندو اور سکھ ہیں جو ابھی تک افغانستان میں ہیں۔ کیا آپ ان کو نکالنے میں ہندوستان کی مدد کریں گے؟

      جواب: میرے خیال میں ان کو نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ افغانستان ان کی آبائی زمین اور ملک ہے لہذا وہ یہاں پرامن طریقے سے رہ سکتے ہیں اور یہاں ان کی زندگی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ وہ زندگی گزار سکتے ہیں جیسا کہ وہ پہلے رہتے تھے اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہندو اور سکھ جو یہاں افغانستان میں تھے اور پچھلے 20 سال میں اس سابقہ ​​حکومت کی وجہ سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے ، ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں بھی جلد افغانستان واپس آنا چاہیے۔

      سوال: آپ عالمی طاقتوں اور ہندوستان کی طرف سے طالبان کی پہچان کو کیسے دیکھتے ہیں؟

      جواب: ہمیں امید ہے کہ زمینی حقیقت کے بعد سے جب کہ افغانستان میں اسلامی امارت حکومت قائم گی ، ہمارے پڑوسیوں اور دنیا کے دیگر ممالک کو ہمارے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے خاص طور پر امریکہ اور دوسرے ممالک ہماری مدد کرتے ہیں۔

      سوال: ہندوستان نے افغانستان میں بہت سے ترقیاتی کام کیے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس کا کیا ہوگا؟

      جواب: ہندوستان نے افغانستان میں جو ترقی کی ہے وہ ہمارا قومی اثاثہ ہے ہم اسے اسی طرح رکھیں گے اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں تمام نامکمل کام ہندوستان مکمل کرے گا۔ ہم ہندوستان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آکر دوبارہ شروع کرے اور ان منصوبوں کو مکمل کرے۔


      سوال: اور آپ انہیں تمام سیکورٹی فراہم کریں گے؟
      جواب: جی ہاں اگر کوئی آپ کے ملک میں آکر کام کر رہا ہے تو آپ کو انہیں سیکورٹی فراہم کرنی ہوگی۔ میرے خیال میں ایسے سوالات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: