ہوم » نیوز » Explained

Explained:امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات، امنگیں اور حصولیابیاں

جمہوری ملک ہونے کی حیثیت سے امریکہ اوربھارت دونوں امن و سفارت کاری کے لیے پُرعزم ہیں۔ گذشتہ ۴ برسوں میں ہم نے اپنے دفاعی اور سلامتی تعلقات با مقصد طور پر استوار کیے ہیں تاکہ ہم اپنے اپنے ملکوں کو محفوظ رکھ سکیں اور اپنی سرحدوں سے آگے بڑھ کر سلامتی فراہم کرا سکیں۔

  • Share this:
Explained:امریکہ اور ہندوستان  کے  تعلقات، امنگیں اور حصولیابیاں
اعلیٰ سطحی پالیسی رہنمائی اور مختلف معاہدوں سے امریکی اور بھارتی فوجی مشقوں اور مشترکہ تربیت کی تعداد، دائرہ کار اورغیر معمولی ذہنی میلان کی وسعت میں مدد ملی ہے۔

عالمی طور پر کوئی بھی باہمی رشتہ اتنا وسیع، مضبوط اور کثیرالجہات نہیں جتنا کہ امریکہ اور بھارت کا ہے۔ ہم جن امور میں تعاون کرتے ہیں ان میں دفاع، انسداد دہشت گردی، سائبر سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ماحولیات، صحت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی،زراعت اورخلا سمیت بہت سی دوسری چیزیں بھی شامل ہیں۔ گوکہ گذشتہ دو عشروں سے دفاعی امور میں ہماری باہمی شراکت داری میں کافی ترقی ہوئی ہے مگرگذشتہ۴برس بالخصوص انتہائی اہم رہے ہیں۔ ہم نے اس عرصہ میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔


ہمارے سفارتی تعلقات کی بنیاد ہم آہنگی ہے جو بھارت کے عروج کے تئیں امریکی حمایت، نیز ہند ۔ بحرالکاہل خطےمیں بلاروک ٹوک رسائی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہے۔ حالانکہ ہند ۔ بحرالکاہل کا تصور گذشتہ کئی برسوں سے موجود تھا مگر پچھلے ۴برسوں میں ہمارے ملکوں کے درمیان اسے حقیقت میں تبدیل کرنے کی جانب کافی سرعت کے ساتھ پیش قدمی ہوئی ہے۔ امریکہ کے لیے ہند ۔ بحرالکاہل سے مراد یہ ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ بدلتے اس پُر آشوب دَور میں اس متحرک خطہ میں امن و خوشحالی قائم رکھنے اور اس کی توسیع کرنے میں بھارت کو اہم شریک کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ مذکورہ خصوصیات ہی اصل میں اس فعال خطے کی شناخت ہیں۔


ہم نےاپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ تعاون شروع کیا ہے تاکہ خطے کی تعمیر نو کی جائے لیکن آسیان ممالک کی مرکزی حیثیت بھی برقرار رہے۔ ہمارے سہ رخی سربراہی اجلاس (جاپان کے ساتھ ۲۰۱۸ ءاور ۲۰۱۹ ءمیں) اور چہاررخی وزرا کانفرنس (جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ۲۰۱۹ ءاور۲۰۲۰میں) کے سبب بحری سلامتی،عالمی وباکے انتظام ، علاقائی رابطہ، انسانی امداد اورقدرتی آفات کے دورا ن راحت رسانی اور سائبر سلامتی کے میدان میں مزید تعاون ہوا ہے۔ آئندہ ۵ برسوں اور اس سے آگے ہمارا مقصدیہ ہوناچاہئے کہ اس مساعی کو مزید تقویت پہنچے تاکہ اپنی خود مختاری اور قانون کی بالا دستی کی عزت کرنے والےاس خطے کے تما م ملک خوشحال بن سکیں۔


جمہوری ملک ہونے کی حیثیت سے امریکہ اوربھارت دونوں امن و سفارت کاری کے لیے پُرعزم ہیں۔ گذشتہ ۴ برسوں میں ہم نے اپنے دفاعی اور سلامتی تعلقات با مقصد طور پر استوار کیے ہیں تاکہ ہم اپنے اپنے ملکوں کو محفوظ رکھ سکیں اور اپنی سرحدوں سے آگے بڑھ کر سلامتی فراہم کرا سکیں۔

ہمارے باہمی دفاعی اور سلامتی تعلقات نے ستمبر ۲۰۱۸ ء میں اس وقت نئی بلندیوں کو چھوا جب ہم نےدفاعی اور خارجی وزرا پر مشتمل امریکہ۔ ہند دو جمع دو وزارتی مذاکرات کا افتتاح کیا ۔ اب تک ہم نے اس کے ۳ اجلاس منعقد کیے ہیں جن میں ہر اجلاس میں اہم ترین دفاعی معاہدےہوئےجو ہماری افواج کے باہمی تبادلے اور دفاعی صنعتوں سے متعلق ہیں۔ ہم نے اپنی افواج کی مشقوں کے سلسلہ کی قوتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس کے تحت ۲۰۱۹ ء میں ہم نے اولین ایسی فوجی مشق کی جس میں مسلح افواج کے تینوں شعبے یعنی بری، بحری اور فضائیہ شامل تھے، نیز آسٹریلیا نے جاپان کے ساتھ مالابار بحری مشق میں شرکت کی۔

ان تمام اور دیگر حصولیابیوں پر نظر ڈالتےہوئے یہ بات وثوق کےساتھ کہہ سکتا ہوں کہ فی الوقت پوری دنیا میں کسی بھی ملک کےبھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات اتنے مضبوط نہیں ہیں جتنے کے امریکہ کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی امریکہ بھارتی باشندو ں کی سلامتی کے لیے بھی بہت کچھ کرتا ہے۔ ہمارا باہمی گہرا تعاون اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ بھارت اپنی سرحدوں پر چین کی جارحانہ پالیسی سے نبردآزما ہے۔

معاشی میدان میں بھی ہمیں اسی سطح کے عزم کی ضرورت ہے۔ گوکہ ہمارے باہمی تجارتی اور سرمایہ دارانہ تعلقات میں اضافہ ضرور ہوا مگر ابھی تک وہ اپنی پوری ممکنہ استعداد تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔۲۰۱۹ میں اشیاء اور خدمات کی باہمی تجارت ۱۴۶ اعشاریہ ۱ بلین ڈالرہو گئی جو کہ۲۰۰۱ ء میں محض ۲۰ اعشاریہ ۷ بلین ڈالر تھی۔ اس وقت بھارتی برآمدات کا قریب قریب ۱۶ فی صد امریکہ کو جاتا ہے۔ امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شریک کار ہے جب کہ بھارت امریکہ کا بارہواں سب سے بڑا تجارتی شریک کا ر ہے۔ بہر کیف کوئی بھی ملک بھارتی باشندو ں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے، صارفین کی پسند،تکنیک کے پھیلاؤ اور معاشی بہتری میں اتنی زیادہ اعانت نہیں کرتا جتنا کہ امریکہ کرتا ہے۔

ہمارے باہمی تعاون کا ایک اور اہم ستون توانائی ہے۔ اس میدان میں ہم نے گذشتہ ۴ برسوں میں خاطر خواہ نتائج برآمد کیے ہیں۔ ہم نے ۲۰۱۸ ءمیں توانائی سے متعلق اپنی عسکری شراکت داری کا آغاز کیا جس میں دونوں ممالک کی حکومتوں کی مدد شامل حال تھی۔ اب بھارت کے لیے امریکہ توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔۲۰۱۹ ءتک امریکہ بھارت کوکوئلہ برآمد کرنے والا سب بڑا ملک بن گیا تھا۔ مزید برآں ،امریکہ بھارت کو خام تیل برآمد کرنے والا چوتھااورمائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کرنے والا ساتواں سب سے بڑا ملک بن گیا تھا۔ ا ن تما م چیزو ں نےبھارت کے توانائی کے ذرائع کی گوناگونیت میں اضافہ کیا ہے۔آج ۱۰۰ سے زائد امریکی کمپنیاں بھارت میں توانائی کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ کمپنیاں اس میدان سے متعلق ہر ایک عنصر پر کام کر رہی ہیں۔

صحت اور بایو میڈیکل اختراع پردازی ہمیشہ سے دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی چیز رہی ہے۔ ہمارے باہمی تعاون کے شاندار ماضی کے سبب ہم نے کووِڈ ۔۱۹ عالمی وباکے خلاف مشترکہ طور پر کامیاب جنگ لڑی۔ امریکہ میں واقع سینٹر برائے ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن(سی ڈی سی) کے ماہرین نے بھارت کی کاوشوں کی بھر پور اعانت کی ۔انہوں نے تکنیکی رہنمائی اور تربیت کے ساتھ ساتھ انفیکشن کےذریعہ کا پتہ لگانے،تشخیصی جانچ،انفیکشن سے حفاظت اور صحتی سہولیات پر قابو پانے جیسے اہم امورمیں بھی رہنمائی کی۔ سی ڈی سی سے تربیت یافتہ سینکڑوں بھارتی اس وائرس کے خلاف جنگ میں صف ِاول میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی اور بھارتی سائنسدانوں نے کووِڈ ۔۱۹ کا ٹیکہ بنانے اور اس کے علاج میں بھی اشتراک کیا ہے۔ صحت کے شعبے میں ہمارے بیچ مزید کام کرنےکے بہت زیادہ امکانات ہیں ۔ تسلسل کے ساتھ طبی سازو سامان کی محفوظ طریقے سے فراہمی ان میں سے ایک ہے۔ صحت کے میدان میں ہمارے باہمی اشتراک نے نہ صرف امریکہ اور بھارت بلکہ پوری دنیا میں لوگوں کی زندگی بہتر بنائی ہے۔

ہمار ے جیسی عظیم جمہوریتوں میں حکومتیں عوام کے جذبات کا احترام کرتی ہیں۔ ہمارے افراددرافراد تعلقات ہی اصل میں بہت مضبوط بنیاد ہیں اور ہمارے باہمی رشتوں کی متحرک قوت ہیں۔ دونوں ممالک کے قائدین نے یہ امر اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ ہمارے لیے آزاد اور کھلا ہند۔ بحرالکاہل خطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ قائدین کے اقدام کی بدولت ہی امریکہ ۔ ہند جامع عالمی عسکری شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے اور مثبت سمت میں جاری ہے۔

گذشتہ ۴ برسوں میں کی ہماری حصولیابیوں پر مجھے ناز ہے ۔ میں پُر امید ہوں کہ اگلی امریکی حکومت بھارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس رجحان کو جاری رکھے گی۔ یوں بھی ہر حالیہ امریکی انتظامیہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں سابق انتظامیہ پر سبقت لے گئی ہے۔
نوٹ یہ مضمون سابق امریکی ایمبسڈر برائے ہندوستان کینیتھ آئی جسٹر کی الوداعی پالیسی تحریر پرمبنی ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 31, 2021 11:38 PM IST