ہوم » نیوز » Explained

وادی کشمیر سے ہجرت کرنے والے تمام مہاجرین کا جموں و کشمیر سرکار کرے گی اندراج

Jammu and Kashmir News : کشمیری پنڈت مہاجرین کے رجسٹریشن سے متعلق ایل جی منوج سنہا کی جانب سے جاری کئے گئے حالیہ احکامات کا کشمیری پنڈت مہاجرین تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے ۔ ایل جی نے کہا تھا کہ وادی سے ہجرت کرنے والے تمام مہاجرین کا جموں وکشمیر سرکار اندراج کرے ۔ کیونکہ ملک کے کئی حصوں میں مقیم کشمیری پنڈت وادی کشمیر لوٹ جانا چاہتے ہیں۔

  • Share this:
وادی کشمیر سے ہجرت کرنے والے تمام مہاجرین کا جموں و کشمیر سرکار کرے گی اندراج
وادی کشمیر سے ہجرت کرنے والے تمام مہاجرین کا جموں و کشمیر سرکار کرے گی اندراج

جموں و کشمیر : کشمیری پنڈت مہاجرین کے رجسٹریشن سے متعلق ایل جی منوج سنہا کی جانب سے جاری کئے گئے حالیہ احکامات کا کشمیری پنڈت مہاجرین تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے ۔ ایل جی نے کہا تھا کہ وادی سے ہجرت کرنے والے تمام مہاجرین کا جموں وکشمیر سرکار اندراج کرے ۔ کیونکہ ملک کے کئی حصوں میں مقیم کشمیری پنڈت وادی کشمیر لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ پنن کشمیر کے کنوینر ڈاکٹر اگنی شیکھر کا کہنا ہے کہ یہ ایک قابل ستائش قدم ہے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکار تمام کشمیری پنڈت مہاجرین کا اندراج کرے ۔ تاکہ اس سماج سے وابستہ افراد کی صیحیح تعداد کا پتہ لگایا جاسکے ۔


ڈاکٹر اگنی شیکھر نے کہا کہ سرکار نہ صرف انیس سو نوے میں وادی سے ہجرت ہونے پر مجبور ہونے والے کشمیری پنڈتوں کا اندراج کرے ۔ بلکہ اس سے پہلے بھی مختلف ادوار میں کشمیری پنڈت ان کی نسل کشی کی وجہ سے وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار قومی سطح پر کشمیری ہندؤں سے متعلق مردم شماری عمل میں لائے، جس سے وادی میں ماضی میں رہائش پذیر کشمیری پنڈتوں کی تعداد کے بارے میں صحیح اعداد و شمار سامنے آئیں ۔ تاکہ کشمیری پنڈتوں کی آبادی سے متعلق کشمیر کی مختلف جماعتوں اور افراد کی طرف سے پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپگنڈے پر لگام لگ سکے ۔


انہوں نے کہا کہ دفعہ تین سو ستہر کی منسوخی کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں پہلے سے ہی قیام پذیر کشمیری پنڈت وادی واپس جانے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں ۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بھٹ نے بھی یوٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے کے اوائل میں ہجرت کرنے والے ایسے ہزاروں کشمیری پنڈت خاندان بھی ہیں ، جو بطور مہاجرین رجسٹریشن کرنے سے قاصر رہے۔ نتیجے کے طور پر کشمیری پنڈت مہاجرین سے متعلق صحیح اعداد و شمار سرکار کے پاس بھی نہیں ہے ۔


انہوں نے کہاکہ سرکار کو چاہئے کہ وہ رجسٹریشن کے عمل کو فوری طور پر مکمل کرے ۔ تاکہ صیحیح اعدادوشمار نہ صرف سرکار بلکہ عام لوگوں کے سامنے بھی آسکے۔ کشمیری لیڈر اشونی چرنگو نے سرکار کے اس قدم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے کشمیری پنڈت مہاجرین سے متعلق صیحیح اعداد و شمار کا پتہ چل پائے گا ۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس عمل سے کشمیری پنڈتوں کو دوبارہ ان کے آبائی وطن میں آباد کرنے میں مدد ملے گی ۔ سرکردہ صحافی اور سماجی کارکن کنگ سی بھارتی نے ایل جی منوج سنہا کے اس فیصلے کو ایک نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے وہ تمام کشمیری پنڈت مہاجرین ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے اہل ہوجائیں گے جو ابھی تک اسے محروم رہے ہیں۔

کشمیری مہاجرین کی وطن واپسی سے متعلق ایل جی منوج سنہا کے بیان پر تاہم کشمیری پنڈت مہاجرین کی مختلف تنظیموں نے محتاط انداز میں اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پنن کشمیر کے کنوینر ڈاکٹر اگنی شیکھر کا کہنا ہے کہ موجودہ مرکزی سرکار یو پی اے کی طرح ہی کشمیری ہندؤں کی  وادی واپسی میں غیر سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سات لاکھ کشمیری ہندو مہاجرین کی وادی واپسی تب ہی ممکن ہوسکتی ہے جب سرکار ان کی تنظیم کی طرف سے پیش کردہ Pnun kashmir prevention of genocide and atrocities bill_2020 کو پاس کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ سرکار اس بل کو پاس کرکے کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی کے ذمہ افراد اور جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اہل ہوگی ۔

انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈت جہادی عناصر کے ہاتھوں نسل کشی کے شکار ہوئے ہیں لہٰذا ایسے عناصر کو سزا دینے سے پہلے کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کو ابھی بھی گولیوں کا نشانہ بنایا جارہاہے ، جسے یہ عیاں ہے کہ ایسے ماحول میں کشمیری پنڈت اپنے وطن واپس نہیں لوٹ سکتے ۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بھٹ نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی سے پہلے سرکار کو مہاجرین سے صلح مشورہ کرنا چاہئے۔ تاکہ ان کی وطن واپسی اور باز آبادکاری ممکن ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں واپسی سے پہلے وادی میں بنیادی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن میں وادی  میں موجود مندروں کی از سر نو تعمیر، مندروں اور دیگر مقدس مقامات کی املاک سے ناجائز قبضہ ہٹانا، کشمیری پنڈتوں کی زمین اور جائیداد سے ناجائز قبضہ ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

بی جے پی لیڈر اشونی چرنگو نے کہا کہ سرکار کشمیری پنڈت مہاجرین کی وادی واپسی سے پہلے کشمیر میں ان کی رہائش کے لئے جگہ کا تعین کرے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈت اسی صورت میں دوبارہ وادی میں سکون سے رہ سکتے ہیں جب انہیں  فلیٹس کی بجائے زمین فراہم کی جائے۔ سماجی کارکن کنگسی بھارتی نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری پنڈت مہاجرین کی وطن واپسی کے بارے میں کیا گیا اعلان ایک خوش آئند قدم ہے تاہم سرکار کو چاہیے کہ وہ زمینی سطح پر مثبت اقدامات کرے۔

انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے بارے میں ماضی میں بھی کئی اعلانات کئے گئے تاہم وہ اعلانات صرف کاغذی کارروائی تک ہی محدود رہے ۔ انہوں نے کہا کہ یوٹی انتظامیہ وزیراعظم پیکیج کے تحت منتخب شدہ افراد کو رہائشی سہولیتیں فراہم کرے ۔ تاکہ سرکار لاکھوں کشمیری پنڈت مہاجرین کو یہ بھروسہ دلا سکے کہ اس کے کہنے اور کرنے میں تضاد نہیں ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 19, 2021 09:55 PM IST